Monday , June 18 2018
Home / ہندوستان / مودی کے بیرونی دوروں میںہجوم پر حیرت

مودی کے بیرونی دوروں میںہجوم پر حیرت

فرخ آباد/نئی دہلی ۔16نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے وزیراعظم نریندر مودی کے بیرون ملک دوروں کے موقع پر عوام کے ہجوم کی حقیقت کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان سے عوام کو صرف ’’نعرے بازی‘‘ کیلئے لے جایا جاتا ہے ۔ ان کے اس تبصرے پر بی جے پی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ سابق وزیر خارجہ سلمان خور

فرخ آباد/نئی دہلی ۔16نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے وزیراعظم نریندر مودی کے بیرون ملک دوروں کے موقع پر عوام کے ہجوم کی حقیقت کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان سے عوام کو صرف ’’نعرے بازی‘‘ کیلئے لے جایا جاتا ہے ۔ ان کے اس تبصرے پر بی جے پی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے نائی پائی تا میں تین دن قبل ہندوستانی برادری سے خطاب کا حوالہ دیا اور یہ جاننا چاہا کہ میانمار کے دارالحکومت میں 20ہزار کا ہجوم آخر کیسے جمع ہوگیا حالانکہ یہاں عام طور پر سڑکیں سنسان ہوتی ہیں۔ انہوں نے نیویارک میں میاڈیسن اسکوائر گارڈن پر ستمبر میں مودی کے پروگرام سے خطاب کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں عوام کو اکھٹا کرنا کوئی بڑی بات نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ’’ یہاں سے لوگوں کو لے جاکر نعرے لگوارہے ہیں ‘‘ ۔ سلمان خورشید نے کہا کہ وہ دو مرتبہ نائی پائی تا جاچکے ہیں ‘ وہاںسڑکوں پر کوئی نہیں ہوتا ۔ ایسے میں مودی کو سننے کیلئے 20ہزار لوگ آخر کہاں سے آگئے ۔

انہوں نے کہا کہ مودی کئی لوگوں کو خود اپنے ساتھ لے گئے ہوں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی شہریوں کو بیرون ملک لے جانے اور این آر آئیز سے خطاب کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ ہندوستان کو فائدہ تبھی ہوگا جب مودی امریکی قیادت اور امریکی عوام پر اثر و رسوخ پیدا کریں ۔ سلمان خورشید کے اس تبصرے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر اور وزیر ماحولیات پرکاش جاؤڈیکر نے کہا کہ یہ کانگریس کا دیوالیہ پن ہے ۔ بی جے پی ترجمان سمبت پترا نے بھی کہا کہ یہ کانگریس پارٹی کی مایوسی کی علامت ہے ۔ سلمان خورشید نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی حکومت کی خامیوں اور کارکردگی کا جائزہ لینا قبل از وقت ہوگا ۔ اس حکومت کو کم از کم ایک سال کا وقت دینا چاہیئے تاکہ وہ کچھ کام کرسکے ۔ 6ماہ کے اندر اس کی کارکردگی کا پتہ چلانا مشکل ہے ۔ سرگرم سیاست میں پرینکا گاندھی کی شمولیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT