Tuesday , December 11 2018

مودی کے حامی جئے پرکاش نارائن کو یونائٹیڈ مسلم فورم کی تائید

بعض حلقوں میں فرقہ پرست امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے فورم کے قائدین سرگرم ،17 اسمبلی حلقوں میں مجلس کی حمایت

بعض حلقوں میں فرقہ پرست امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے فورم کے قائدین سرگرم ،17 اسمبلی حلقوں میں مجلس کی حمایت

حیدرآباد /22 اپریل (سیاست نیوز) یونائیٹڈ مسلم فورم نے تلنگانہ کے عام انتخابات 2014ء میں 13 لوک سبھا اور 189 اسمبلی حلقوں میں کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے، باقی حلقوں پر مختلف جماعتوں کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے 23 اپریل سے اپنے تائیدی امیدواروں کے حق میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونائیٹیڈ مسلم فورم نے جن امیدواروں کی تائید کا فیصلہ کیا ہے ان میں کچھ متنازعہ امیدوار بھی شامل ہیںاور ان کی تائید کے تعلق سے کوئی قابل قبول وضاحت بھی نہیں کی جاسکی ہے ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر یونائیٹڈ مسلم فورم اے پی محمد عبد الرحیم قریشی نے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر فورم کے نائب صدور سید اکبر نظام الدین حسینی صابری، سید محمد قبول باشاہ شطاری، میر قطب الدین چشتی، جنرل سکریٹری محمد رحیم الدین انصاری، سکریٹری محمد حسام الدین ثانی (جعفر پاشاہ)، سید مقصود حسین مجتہدی، سید تقی رضا عابدی، عصمت اللہ خاں خازن، سید منیر الدین مختیار، ارکان مفتی صادق محی الدین، مفتی معراج الدین علی ابرار، ضیاء الدین نیر، محمد زین العابدین، عبد الغفار سلامی، سعید قادری اور دیگر موجود تھے۔ جناب عبد الرحیم قریشی نے کہا کہ تلگودیشم و بی جے پی اتحاد کو شکست دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے آر ایس ایس کے نمائندہ رام مادھو سے ملاقات کی، جس کی خبر میڈیا میں شائع ہوئی، تاہم ٹی آر ایس سربراہ نے اس کی تردید نہیں کی۔ علاوہ ازیں میڈیا کے ذریعہ یہ خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ انتخابات کے بعد ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس، بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کا حصہ بن سکتی ہیں۔ لہذا تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یونائیٹڈ مسلم فورم نے علاقہ تلنگانہ کے 17کے منجملہ 13 لوک سبھا حلقوں میں کانگریس کی تائید کا اعلان کیا ہے، جب کہ 4 حلقہ جات حیدرآباد سے مجلس، ملکاجگیری سے لوک ستہ، کریم نگر سے ٹی آر ایس اور کھمم سے سی پی آئی کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ فورم نے ایک جانب تو بی جے پی سے قربت کی وجہ سے تلگودیشم ‘ ٹی آر ایس یا وائی ایس آر کانگریس کی تائید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ملکاجگری حلقہ میں اس اصول کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ۔ ملکاجگری حلقہ سے لوک ستہ پارٹی کے صدر جئے پرکاش نارائن مقابلہ کر رہے ہیں۔ لوک ستہ کے صدر جئے پرکاش نارائن گذشتہ مہینے سے مسلسل نریندر مودی کی حمایت میں بیانات دیتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر واضح کہا تھا کہ وہ بی جے پی سے اتحاد کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے وزارت عظمی کیلئے نریندر مودی کی تائید کی ہے اور نہ صرف یہ بلکہ آج جب نریندر مودی نے تلنگانہ کا دورہ کیا توجئے پرکاش نارائن نے ائرپورٹ پہونچ کر نریندر مودی سے گرمجوشانہ ملاقات کی ہے ۔ اسکے باوجود فورم کی نارائن کو تائید حاصل ہوئی ہے ۔ فورم نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے کانگریس امیدوار انجن کمار یادو کی تائید کا اعلان کیا ہے ۔ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے بشمول دیگر حلقوں میں بھی مجلس کے امیدوار موجود ہیں، مگر فورم ان کی تائید نہیں کر رہی ہے، جب کہ 17 اسمبلی حلقوں میں فورم مجلس کی تائید کر رہی ہے۔ سکندرآباد لوک سبھا حلقہ میں بی جے پی کو شکست دینے کانگریس کی تائید کا ادعا کرنے والی یونائیٹڈ مسلم فورم عنبر پیٹ، مشیر آباد اور نظام آباد اربن اسمبلی حلقہ جات میں مجلس کی تائید کا چونکا دینے والا فیصلہ کیا ہے، جہاں مسلم ووٹ تقسیم ہونے سے راست بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب رحیم الدین قریشی نے کہا کہ مجلس نے عنبر پیٹ سے ہندو امیدوار کو میدان میں اتارا ہے، جس کو ہندو اور مسلم دونوں کے ووٹ حاصل ہوں گے، تاہم نظام آباد اور مشیر آباد حلقہ جات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔ فورم نے سی پی آئی کے 7 امیدواروں کی تائید کا فیصلہ کیا ہے، جس میں اسمبلی حلقہ مہیشورم سے عزیز پاشاہ بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 3 ٹی آر ایس امیدواروں کی تائید کی ہے، جس میں اسمبلی حلقہ بودھن کے امیدوار شکیل بھی شامل ہیں۔ اسمبلی حلقہ نرمل سے بی ایس پی امیدوار اندرا کرن ریڈی کی بھی تائید کی جا رہی ہے۔ جناب رحیم قریشی نے کہا کہ کانگریس نے اکثر موقع پر سیکولر کردار نہیں ادا کیا۔ دہشت گردی کے معاملے میں کانگریس دور حکومت میں مسلم نوجوانوں کو ہراساں اور پریشان کیا گیا، مگر اس وقت صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد کانگریس کی تائید کی جا رہی ہے، کیونکہ ہندوتوا طاقتیں بی جے پی کو برسر اقتدار لانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT