Tuesday , June 19 2018
Home / سیاسیات / مودی کے خلاف ایف آئی آر، پولیس کو 15 دنوں کی مہلت

مودی کے خلاف ایف آئی آر، پولیس کو 15 دنوں کی مہلت

احمدآباد ۔ 5 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک مقامی عدالت نے پولیس کو ایکشن ٹیکن رپورٹ کے ادخال کیلئے تین ہفتوں کی مہلت دی ہے جو دراصل ایک ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد دی گئی ہے جو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف درج کی گئی ہے جہاں انہیں جاریہ سال 30 اپریل کو جب گجرات میں لوک سبھا انتخابات منعقد ہوئے تھے، عوامی ایکٹ کی نمائندگی کی خلاف ورزی کا

احمدآباد ۔ 5 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک مقامی عدالت نے پولیس کو ایکشن ٹیکن رپورٹ کے ادخال کیلئے تین ہفتوں کی مہلت دی ہے جو دراصل ایک ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد دی گئی ہے جو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف درج کی گئی ہے جہاں انہیں جاریہ سال 30 اپریل کو جب گجرات میں لوک سبھا انتخابات منعقد ہوئے تھے، عوامی ایکٹ کی نمائندگی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ ایم ایم شیخ جن کا تعلق احمدآباد ریورل کورٹ سے ہے، سے گجرات پولیس کی کرائم ڈیٹیکشن برانچ کی جانب سے داخل کردہ درخواست پر مذکورہ حکم جاری کیا جہاں پولیس نے ایکشن ٹیکن رپورٹ کے ادخال کیلئے 15 دنوں کی مہلت طلب کی تھی۔ عدالت نے کرائم برانچ کو 21 دنوں کی مہلت دی ہے اور

ہدایت کی ہیکہ 26 اگست یا اس سے قبل درخواست داخل کردی جائے۔ مذکورہ درخواست عام آدمی پارٹی ورکر نشانت ورما نے داخل کی تھی جنہوں نے ادعا کیا تھا کہ انہوں نے ریاستی پولیس کو بھی ایک درخواست روانہ کی تھی جہاں انہوں نے پولیس سے اپیل کی تھی کہ وہ نریندر مودی کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ انہوں نے عین رائے دہی کے روز انتخابی نشان کو واضح کیا تھا جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی سراسر خلاف ورزی ہے لیکن پولیس نے نریندر مودی کے خلاف نامکمل ایف آئی آر درج کی ہے۔ 30 اپریل کو جب گجرات میں لوک سبھا کیلئے رائے دہی جاری تھی۔ نریندرمودی نے پولنگ بوتھ سے باہر فوری طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا اور پارٹی کے انتخابی نشان کنول کے پھول کی واضح طور پر نشاندہی کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT