Tuesday , October 16 2018
Home / Top Stories / مودی کے دورۂ اروناچل پر چین کا احتجاج

مودی کے دورۂ اروناچل پر چین کا احتجاج

بیجنگ 15 فروری (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج پرزور انداز میں وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اروناچل پردیش کی مداخلت کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ یہ علاقہ جنوبی چین کا ایک حصہ ہے اور ہندوستان پر زور دیا کہ اُسے چاہئے کہ اِس علاقہ میں وزیراعظم کو دورے کے لئے روانہ نہ کرے۔ چین نے کہاکہ ہم کسی کارروائی سے پہلے خبردار کردینا چاہتے ہیں کہ اِس تنازعہ کو ’’پیچیدہ‘‘ بنایا نہ جائے۔ اِس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ وزیراعظم ہند اروناچل پردیش کا دورہ کرنے والے ہیں، وزارت خارجہ کے ترجمان نے گینگ چوان نے کہاکہ چین ہندوستان کے خلاف سخت احتجاج درج کروائے گا۔ چین کا موقف ہند ۔ چین سرحد کے بارے میں یہ ہے کہ یہ ابھی تصفیہ طلب ہے۔ وزارت خارجہ چین کے ترجمان گینگ چوان نے مودی کے دورہ اروناچل پردیش کی خبروں کے حوالے سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہم حکومت ہند کو سخت لب و لہجہ کی نمائندگی روانہ کریں گے۔ اُس نے کہاکہ چین اور ہندوستان اِس پر اتفاق رائے کرچکے ہیں کہ تمام تنازعات سے پرامن انداز میں نمٹا جائے گا اور دونوں فریقین علاقائی تنازعہ کی بات چیت اور مشاورت کے ذریعہ یکسوئی کے پابند ہیں۔ چین نے کہاکہ ہندوستان کو چاہئے کہ اپنے تیقنات کا احترام کرے اور اتفاق رائے سے جو فیصلے کئے گئے ہیں اُن کا پابند رہے۔ اُسے چاہئے کہ سرحدی مسئلہ کے حل کی تکمیل تک کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کرے۔ خط میک موہن ہندوستان اور چین کے درمیان واقع ہے اور یہ چین اور ہندوستان کی روایتی سرحد ہے۔ اِس خط کے دوسری جانب کا علاقہ چینی علاقہ ہے۔ چین نے مزید کہاکہ خط میک موہن 1914 ء میں برطانویوں کی جانب سے کھینچا گیا تھا تاکہ ہندوستانی سرزمین کے علاقوں کو واضح کردیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT