Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / مودی کے دورۂ امریکہ کا احتجاجی مظاہرین کو اِنتظار

مودی کے دورۂ امریکہ کا احتجاجی مظاہرین کو اِنتظار

واشنگٹن۔ 23 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کئی مودی مخالف گروپس وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنے کے منتظر ہیں جبکہ وہ جاریہ ماہ کے اواخر میں نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ حال ہی میں تشکیل شدہ اتحاد برائے انصاف اور احتساب نے کل اعلان کیا کہ وہ مودی کے دورۂ کے موقع پر ان کا سرخ پرچم لہراتے ہوئے میڈیسن اسکو

واشنگٹن۔ 23 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کئی مودی مخالف گروپس وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنے کے منتظر ہیں جبکہ وہ جاریہ ماہ کے اواخر میں نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ حال ہی میں تشکیل شدہ اتحاد برائے انصاف اور احتساب نے کل اعلان کیا کہ وہ مودی کے دورۂ کے موقع پر ان کا سرخ پرچم لہراتے ہوئے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں خیرمقدم کرے گی جبکہ وہ میان ہیٹن کے راستے 28 ستمبر کو نیویارک کا سفر کریں گے۔ سکھ برائے انصاف تنظیم نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ شہری برائے انصاف اجتماعات مقرر کریں گے تاکہ مودی کو وائیٹ ہاؤز کے روبرو ایک پارک میں 30 ستمبر کو سرزنش کا نشانہ بنایا جاسکے جبکہ وزیراعظم ہند ، صدر امریکہ براک اوباما سے ان کے بیضوی دفتر میں ملاقات کریں گے۔ سرزنش کی کارروائی ایک فرضی عدالت کے کمرے میں چلائی جائے گی جو پریسیڈنٹس پارک میں قائم کی جائے گی، یہ پارک وائیٹ ہاؤز کے بالکل سامنے ہے۔ سکھ برائے انصاف تنظیم مودی کی کارروائیوں کے خلاف فردِ جرم اس فرضی عدالت میں پیش کرے گی۔ 2002ء کے گجرات فسادات کے بارے میں بیانات جاری کئے جائیں گے۔ سکھ تنظیم نے کہا کہ وزیراعظم مودی کا استقبال سیاہ پرچموں سے کیا جائے گا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کیلئے اے جے اے کے ارکان پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں۔ اے جے اے تنظیم زیادہ تر ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی تنظیم ہے جو قتل عام کیخلاف اتحاد کا ایک حصہ ہے۔ اس تنظیم نے کامیابی کے ساتھ مودی کو جبکہ وہ چیف منسٹر گجرات تھے ، امریکہ کا ویزا دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کامیاب مہم چلائی تھی۔ اتحاد برائے انصاف و احتساب (اے جے اے) افراد کی اور تنظیموں کی ایک مشترکہ تنظیم ہے جس کو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی ہندوستان میں خلاف ورزی کی فکرلاحق ہے۔ ڈاکٹر شیخ عبید قتل عام کے خلاف قائم کئے جانے والے نئے وفاق کے بانی رکن ہیں اور اب اس نئے وفاق کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ یہ اتحاد مخالف اقلیت بڑھتے ہوئے تشدد اور لفاظی کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔ اس پر کئی افراد اور تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ اقلیت مخالف تشدد اور اشتعال انگیز میں سنگھ پریوار اور اس کی کئی ذیلی تنظیمیں پیش پیش تھیں۔ اس اقدام کا مقصد نریندر مودی کے اعلیٰ سطحی دورہ کے موقع پر استفادہ کرتے ہوئے ہندوستان کی تکثیریت کو لاحق خطرہ کی طرف توجہ مبذول کرنا ہے۔اتحاد نے فیس بک پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مودی کیخلاف احتجاج میںاور 28 ستمبر میں احتجاجی مظاہرے میں ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔

TOPPOPULARRECENT