Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / مودی کے دورۂ برطانیہ کیخلاف سینکڑوں افراد کا احتجاج

مودی کے دورۂ برطانیہ کیخلاف سینکڑوں افراد کا احتجاج

LONDON, NOV 12 :- Demontrators protest opposite Downing Street against India's Prime Minister Narendra Modi's official visit, in London, November 12, 2015. REUTERS/UNI PHOTO-23R

’ واپس جاؤ کے نعرے‘ عدم رواداری پر اخباری نمائندوں کے سوالات کا سامنا
عدم رواداری ناقابل قبول:مودی
لندن 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سینکڑوں احتجاجیوں نے آج ڈاؤننگ اسٹریٹ پر وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ برطانیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجیوں میں سکھ، ٹامل، کشمیری، گجراتی، نیپالی اور  خواتین کے گروپس شامل تھے جو ’’مودی گھر جاؤ‘‘ اور ’’مودی واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگارہے تھے۔ جبکہ اپنی قیامگاہ میں ظہرانہ پر وزیراعظم برطانیہ، وزیراعظم ہند کا استقبال کررہے تھے۔ احتجاجی پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’ہندوتوا ہندوستان کے اتحاد کے لئے خطرہ‘‘ اور ’’مودی کا برطانیہ میں خیرمقدم نہیں‘‘ ، ’’مذہبی تعصب کا ہندوستان میں خاتمہ کرو‘‘ تحریر تھا۔ دریں اثناء وزیراعظم مودی کو ہندوستان میں حالیہ مہینوں میں عدم رواداری کے واقعات اور 2002 ء میں گجرات کے فسادات کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ یہ تیقن دینے پر مجبور ہوگئے کہ ہندوستان کے کسی بھی حصہ میں عدم رواداری قبول نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ بات چیت کے بعد بی بی سی کے ایک نمائندہ نے عدم رواداری کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے اُن سے دریافت کیاکہ ہندوستان میں عدم رواداری بڑھتی کیوں جارہی ہے؟ مودی نے جواب دیا کہ ہندوستان مہاتما گوتم بدھ اور گاندھی جی کی سرزمین ہے اس کا تمدن اپنی بنیادی سماجی اقدار کے خلاف کچھ بھی قبول نہیں کرتا۔ روزنامہ گارجین کے نامہ نگار نے بھی وزیراعظم برطانیہ کیمرون سے سوال کیاکہ اُنھیں مودی کے ساتھ بات چیت میں سکون کیسے محسوس ہوتا ہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ مودی کے خلاف خود اُن کے ملک میں جذبات میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ ہندوستان عدم رواداری کے واقعات کی وجہ سے دہل کر رہ گیا تھا۔ دادری میں بڑا گوشت کھانے کے الزام میں ایک شخص کو زدوکوب کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔ دریں اثناء مصنفین نے وزیراعظم برطانیہ کے موسومہ ایک مکتوب میں ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے سلسلہ میں مودی پر دباؤ ڈالا جائے۔

TOPPOPULARRECENT