Wednesday , June 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مودی کے عملی نظریہ کی جڑیں فرقہ پرستی میں پیوست

مودی کے عملی نظریہ کی جڑیں فرقہ پرستی میں پیوست

راسیتا ؍ راہی (رائے بریلی) 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے نظریہ پر عمل کرنے کے لئے جس کی جڑیں فرقہ پرستی میں پیوست ہیں، نریندر مودی اور بی جے پی پر اپنی تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے اپنی والدہ سونیا گاندھی کے لوک سبھا انتخابی حلقہ میں انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ عام انتخابات دو نظریات کے درمیان جنگ ہے۔

راسیتا ؍ راہی (رائے بریلی) 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے نظریہ پر عمل کرنے کے لئے جس کی جڑیں فرقہ پرستی میں پیوست ہیں، نریندر مودی اور بی جے پی پر اپنی تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے اپنی والدہ سونیا گاندھی کے لوک سبھا انتخابی حلقہ میں انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ عام انتخابات دو نظریات کے درمیان جنگ ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اِن انتخابات میں دو متضاد سیاسی نظریات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ایک طرف کانگریس کا نظریہ ہے جو اتحاد میں یقین رکھتا ہے۔ دوسری طرف ایک ایسا نظریہ ہے جس کی جڑیں فرقہ پرستی میں پیوست ہیں۔ وہ کچھ بھی کہیں لیکن حقیقی سچائی یہی ہے کہ وہ فرقہ پرستی کی تشہیر کرنا اور عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ راہی دیہات میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہی تھیں۔ مودی کا نام لئے بغیر اُس نظریہ پر جس پر وہ عمل پیرا ہیں، تنقید کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہاکہ اُن کی توجہ صرف چند منتخبہ افراد کو برسر اقتدار لانے پر مرکوز ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہاکہ اُن کا نظریہ صرف اپنی بات سنانے کا ہے۔ لیکن کانگریس تمام فیصلے اپنی قابلیت کے مطابق عوام سے مشاورت کے بعد کیا کرتی ہے۔ مخالفین کا نظریہ ایک شخص کے ہاتھوں میں اقتدار مرکوز کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ انتخاب آپ کے ہاتھوں میں ہے کہ آپ قوم کی ترقی چاہتے ہیں یا فرقہ پرستی کا فروغ۔ قبل ازیں راسیتا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ ایک نظریہ عوام کو بااختیار بناتا ہے۔ اِس نے جتنی بھی اسکیمیں شروع کی ہیں، اُن کا مقصد عوام کو استحکام فراہم کرنا ہے۔ دوسری طرف دوسرا نظریہ ہے جہاں تمام طاقتیں ایک شخص کے ہاتھ میں مرکوز ہیں اور اُس کی پالیسیوں اور پروگراموں کا مقصد مٹھی بھر لوگوں کو برسر اقتدار لانا ہے۔ یہ علیحدگی پسند نظریہ ہے۔ پرینکا نے مختلف دیہاتوں میں تقریباً 12 عام جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو اُن کی ذمہ داری سے واقف کروانے کی کوشش کی کہ ریاستوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر بھال ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں سڑکوں کی ابتر حالت اور سہولتوں کے فقدان کو ایک بڑا مسئلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے دیہی علاقوں میں کانگریس کے مختلف ترقیاتی کاموں کا حوالہ دیا اور کہاکہ وہ جب بھی اُن کے درمیان آتی ہیں اُنھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنوں کے درمیان ہیں۔

TOPPOPULARRECENT