Wednesday , December 19 2018

مودی کے وزیراعظم بنتے ہی مسلمانوں میں اندیشے ختم ہوجائیں گے: امیت شاہ

وارانسی۔ 27؍اپریل (سیاست ڈاٹ کام)۔ نریندر مودی کے تعلق سے مسلمانوں میں پائے جانے والے خدشات ایک مرتبہ ان کے وزیراعظم بنتے ہی دور ہوجائیں گے کیونکہ اس تاثر کو ختم کرنے کیلئے پالیسی اقدامات کئے جائیں گے ۔مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے اس تنقید کو بھی مسترد کردیا کہ چیف منسٹر گجرات نے پارٹی کو پس پشت ڈال دیا ہ

وارانسی۔ 27؍اپریل (سیاست ڈاٹ کام)۔ نریندر مودی کے تعلق سے مسلمانوں میں پائے جانے والے خدشات ایک مرتبہ ان کے وزیراعظم بنتے ہی دور ہوجائیں گے کیونکہ اس تاثر کو ختم کرنے کیلئے پالیسی اقدامات کئے جائیں گے ۔مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے اس تنقید کو بھی مسترد کردیا کہ چیف منسٹر گجرات نے پارٹی کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور بی جے پی ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں ہوسکتے ۔انہوں نے کہاکہ کانگریس اور دیگر پارٹیاں جس طرح کا تاثر دے رہی ہے اس سے کسی کو خوفزدہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ‘ کیونکہ مودی ایک مرتبہ وزیراعظم بن جائیں تو ان کی بہتر حکمرانی کے ذریعہ اندیشوں کو دور کرنے کا حل بھی موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا نے طویل عرصہ سے یہ تاثر دیا ہے جس کی وجہ سے ان اندیشوں کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہیں ۔ لیکن مودی جی کے وزیراعظم بنتے ہی یہ تمام اندیشے ازخود دور ہوجائیں گے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ مسلمانوں کی کثیر تعداد نے وارناسی میں مودی کی ریالی کا خوشدلی کے ساتھ خیرمقدم کیا اور اس کیلئے پارٹی مقدس شہر عوام کی مشکور ہے ۔ امیت شاہ نے جو اترپردیش میں بی جے پی اُمور کے انچارج ہیں ‘ پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو میں یہ بات بتائی ۔ مودی لہر کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور مودی کے حق میں یہ لہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی لہر اور بی جے پی لہر میڈیا کی پیدا کردہ ہے ۔ آپ مودی اور بی جے پی کو الگ نہیں کرسکتے ۔

یہ کس طرح ممکن ہے ؟ مودی کو بی جے پی نے وزارت عظمی عہدہ کیلئے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ حکومت کی تشکیل کیلئے ضرورت پڑنے پر کیا نئی حلیف جماعتوں کی تائید حاصل کی جاسکتی ہے ۔ امیت شاہ نے جواب دیا کہ پارٹی کو 272سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کا یقین ہے کیونکہ سارے ملک میں پارٹی کی ہر طرف تائید کی جارہی ہے ۔ اترپردیش میں بی جے پی کی توقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے جواب دیا کہ پارٹی ریاست میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی جب کہ 2009ء انتخابات میںاسے صرف 10 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ امیت شاہ نے کہا کہ وہ تعداد کے بارے میں بات نہیں کریں گے لیکن انہیں یقین ہے کہ اس مرتبہ پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرے گی اور دیگر جماعتوں کے مقابلے نشستوں کا فرقہ پر بہت زیادہ ہوگا۔
اڈوانی اور مودی کے مابین اختلافات کے بارے میں اطلاعات پر امیت شاہ نے کہا کہ دونوں قائدین میں ایسا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT