Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / مودی کے کامیاب دورہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا ہاتھ

مودی کے کامیاب دورہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا ہاتھ

محمد ریاض احمد
وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات کے دورہ سے لوٹ ائے ہیں بالفاظ دیگر یو اے ای کو لوٹ آئے ہیں۔ وہاں ان کا فقید المثال و والہانہ استقبال کیا گیا۔ وزارت عظمی کے باوقار عہدہ پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے 28 بیرونی دورے کئے۔ متحدہ عرب امارات میں جس طرح ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں جو عزت و اہمیت دی گئی شاید وہ کسی اور ملک کے دورہ میں ان کے حصہ میں نہیں آئی۔ ابوظہبی کے ولیعہد صاحب السمو الشیخ محمد بن زاید بن سلطان النہیان نے اپنے بھائیوں اور حکمراں خاندان کے دیگر ارکان اور اعلیٰ عہدہ داروں کے دیگر ارکان اور اعلیٰ عہدہ داروں کے ساتھ پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ کئی لحاظ سے کامیاب رہا اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہمارے ملک میں پیش آنے والے دھماکوں، دہشت گردانہ حملوں میں جس طرح پاکستان کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح نریندر مودی کے دورہ متحدہ عرب امارات کی غیر معمولی کامیابی میں ہندوستان کے سب سے بڑے دشمن پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ رہی ایک دور ایسا بھی تھا جب متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی کرنسی چلا کرتی تھی ان تاریخی تعلقات کے باعث ہی زندگی کے ہر شعبہ بالخصوص تجارتی شعبہ میں دونوں ملکوں کا تعاون مثالی رہا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آپ کے ذہنوں میں یہ سوالات ضرور گردش کررہے ہوں گے کہ نریندر مودی کے دورہ متحدہ عرب امارات سے پاکستان کا کیا تعلق؟ اور مودی کے دورہ کی کامیابی میں اس کا کیا کردار رہا؟ یہ سوالات بالکل ٹھیک ہیں۔ اس کے جوابات کی تلاشی کے لئے ہمیں یمن میں صدر منصور ہادی کی جائز حکومت کے خلاف حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی بغاوت وشورش کی طرف جانا ہوگا۔ یمن میں ان گروپوں نے اپنی شورش اور حکومت کے خلاف بغاوت کے ذریعہ عبدو منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کرتے ہوئے ملک میں نراج اور خانہ جنگی کے حالات پیدا کردیئے۔ بڑوسی عرب ممالک بشمول سعودی عرب پر اس شورش کے اثرات پڑنے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے۔

ان حالات میں سعودی عربیہ کی زیر قیادت عرب ملکوں کی اتحادی افواج نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کردیئے ان عرب ملکوں نے پاکستان سے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی درخواست کی ایسی درخواست کرنے والے ملکوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پیش پیش تھے۔ تاہم پاکستان نے اپنے مشکل وقت میں ہر لحاظ سے مدد کرنے والے ان ممالک کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ اس کے قانون سازوں نے حکومت کو اس تنازعہ سے دور رہتے ہوئے خود کو غیر جانبدار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ پاکستان کے انکار پر عرب ملکوں بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات برہم ہوگئے۔ یہاں تک کہ یو اے ای کے ایک وزیر نے پاکستان کو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنے کا انتباہ تک دے دیا۔ چنانچہ پاکستان کے کٹر حریف ہندوستان کے وزیر اعظم کی متحدہ عرب امارات میں غیر معمولی پذیرائی اسی انتباہ کا نتیجہ ہے۔ اب ہماری حکومت عرب ملکوں کی پاکستان سے ناراضگی کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دورہ میں نریندر مودی کو جو کامیابیاں ملی ہیں پاکستانی حکومتیں گزشتہ 6 دہوں میں ایسی کامیابیاں حاصل نہ کرسکیں۔

نریندر مودی کے دورہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان، مواصلات، توانائی، نگہداشت صحت، ای حکمرانی، سفر، سیر و سیاحت، ایرواسپیس، مینوفیکچرنگ، انفرا اسٹرکچر، ریئل اسٹیٹ، قابل تجدید توانائی، چھوٹے اور متوسط پیمانے کی صنعتوں، بنجر زمین پر زراعت، صحرائی ماحولیات، شہری ترقیات، خلائی سائنس، تعلیم اور کھیل کود کے علاوہ صنعتی و تجارتی شعبوں میں تعلقات غیر معمولی طور پر مضبوط و مستحکم ہوئے ہیں۔ اس دورہ میں متحدہ عرب امارات نے ہندوستان میں 4.5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے آئندہ 5 برسوں میں ہندوستان کے انفرا اسٹرکچر (بنیادی سہولتوں) کے شعبہ میں 75 ارب ڈالرس کی سرمایہ کاری کرنے اور باہمی تجارت کے حجم میں 60 فیصد تک اضافہ کا اعلان کیا۔ فی الوقت ہندوستان اور متحدہ امارات کی سالانہ باہمی تجارت 60 ارب ڈالرس سے تجاوز کرگئی ہے۔ امید ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں دونوں دوست ملکوں کی باہمی تجارت 100 ارب ڈالرس سے متجاوز ہو جائے گی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس باہمی تجارت کا متحدہ عرب سے کہیں زیادہ ہندوستانی تاجرین کو فائدہ ہوگا اور خود ہمارے ملک میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں حکومتوں نے 75 ارب ڈالرس مالیتی انفرا اسٹرکچر فنڈ قائم کرنے سے اتفاق کرتے ہوئے ایک طرح سے باہمی تعلقات کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا ہے اور اس میں ابوظہبی کے ولیعہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر صاحب السمو الشیخ محمد بن زاید النہیان اور دوبئی کے حکمراں صاحب السمو الشیخ محمد بن راشد المکتوم کا اہم رول ہے۔ شیخ محمد متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم بھی ہیں ۔ ان دونوں رہنماؤں سے ہمارے وزیر اعظم کی ملاقات اور بات چیت کافی ثمر آور رہی۔ مودی نے متحدہ عرب امارات کی قیادت اور صنعت کاروں و سرمایہ کاروں پر واضح کیا کہ سرزمین ہند مواقعوں و امکانات کی سرزمین ہے جہاں کی 65 فیصد آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ اس طرح ہندوستان ایک جوان ملک ہے جو جنوبی ایشیاء میں معاشی انقلاب برپا کرنے میں اہم رول ادا کرنے کا عزم لئے اٹھا ہے اور اس کے عزائم متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے تعاون و اشتراک کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔ مودی نے امارات کے رہنماؤں سے بات چیت اور ہندوستانی تارکین وطن سے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے پنپتی معیشت ہے۔

21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہوگی اگر ہندوستان اور یو اے ای مل جل کر کام کریں تو اس خیال کو حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم کے دورہ میں ایک اور اہم کامیابی یہ ملی کہ متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے ہندوستان کی تائید و حمایت کرنے کا یقین دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یو اے ای پاکستان کو بری طرح نظرانداز کرتے ہوئے ہندوستان کو قریب کررہا ہے یہ اور بات ہے کہ نریندر مودی حکومت اس کرہ ارض کی ناجائز مملکت اسرائیل کی جانب جھکے جارہی ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران اس نے عالمی اداروں میں بالواسطہ  اسرائیل کی تائید کرتے ہوئے صیہونی دہشت گردی کا شکار فلسطینیوں کی تائید سے متعلق ہندوستانی روایات سے انحراف کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں نریندر مودی کے غیر معمولی خیرمقدم کی وجہ یہ بھی رہی کہ گزشتہ 34 برسوں کے دوران کسی ہندوستانی وزیر اعظم کو متحدہ عرب امارات کے دورہ کی زحمت نہیں ہوئی حالانکہ اس ملک میں 2.6 ملین یعنی 26 لاکھ ہندوستانی تارکین وطن برسر روزگار ہیں۔ تعمیراتی صنعت پر ہندوستانی چھائے ہوئے ہیں، جوہریوں کی اکثریت بھی ہندوستانیوں پر مشتمل ہے۔ صنعت کاروں و تاجرین کی تعداد کے معاملے میں بھی ہندوستانی سب سے آگے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی ترقی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کا باعث بننے والے ہندوستانی تارکین وطن کی خدمات اور ان کے رول کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان سے ہر ہفتہ 700 پروازیں یو اے ای پہنچتی ہیں اور شاید اتنی پروازیں کسی اور ملک سے نہیں پہنچتی ۔ آپ کو بتادیں کہ متحدہ عرب امارات کی جملہ آبادی 9.2 ملین ہے اور اس میں اماراتی شہریوں کی آبادی صرف 1.4 ملین یعنی 14 لاکھ ہے اور مابقی 7.8 لاکھ تارکین وطن میں ہندوستانیوں کی تعداد 26 لاکھ ہے جو اپنے ملک کو سالانہ 14 ارب ڈالرس کی کثیر رقم روانہ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ متحدہ عرب امارات ہندوستان کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں ہر سال 14 ارب ڈالرس کا اضافہ کررہا ہے۔ اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یو اے ای کے سات امارتوں، ابوظہبی، عمان، دوبئی، مجیرہ، راس الخیمہ، شارجہ اور ام القوئن میں 30 فیصد ہندوستانی 13 فیصد پاکستانی، 6 فیصد فلپائنی، 8 فیصد بنگلہ دیشی اور مصر و دیگر ممالک کے 31 فیصد شہری آباد ہیں۔ امارتی شہریوں کی تعداد 18 فیصد بنتی ہے۔ ہندوستان متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے، اس کی درآمدات 17 فیصد ہیں۔ دوسرے نمبر پر 14 فیصد کے ساتھ چین کھڑا ہے۔

امریکہ 7.7 فیصد جرمن 5.6 فیصد اور جاپان کی درآمدات 4.8 فیصد ہے۔ برآمدات کے معاملہ میں جاپان 17.1 فیصد کے بعد 13.6 فیصد کے ساتھ ہندوستان دوسرے، ایران (6.9 فیصد) تیسرے جنوبی کوریا (6.1 فیصد) چوتھے اور تھائی لینڈ (5.1 فیصد) کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ ان اعداد و شمار سے نہ صرف ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے قریبی باہمی تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے بلکہ متحدہ عرب امارات کی ترقی و خوشحالی میں ہندوستانی تارکین وطن کے رول کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مسٹر نریندر مودی کے دورہ میں ہندوستان اور متحدہ عرب امارات نے جہاں ہندوستان اور یو اے ای کے انفرااسٹرکچر کے فروغ کے لئے متحدہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا وہیں ہندوستان میں آلات حربی (دفاعی آلات) کی تیاری میں تعاون و اشتراک کا بھی فیصلہ کیا۔ دونوں ملکوں نے متحدہ عرب امارات میں مشرق وسطیٰ کا پہلا اسپیس ریسرچ سنٹر العین میں قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ یو اے ای 2021ء میں ایک مریخ مشن لانچ کرنے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ دونوںو حکومتوں نے قانون کی بالادستی (نفاذ قانون) بلیک منی (رقومات کی غیر قانونی منتقلی) منشیات کی اسمگلنگ اور حوالگی مجرمین کے معاملہ میں بھرپور تعاون و اشتراک کا فیصلہ کیا۔ نریندر مودی کے ہمراہ مشیر قومی سلامتی مسٹر دووال بھی گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے یواے ای کے اعلیٰ حکام سے بات چیت میں ہندوستان کو شدت سے مطلوب 10 ملزمین بشمول اندڈورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی حوالگی کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مودی نے اپنے دورہ میں یو اے ای کی قیادت سے خواہش کی کہ وہ ڈی گینگ کی جانب سے چلائے جارہے تجارتی اداروں کی رقمی معاملت پر روک لگاتے ہوئے ان کمپنیوں اور تجارتی اداروں کے اکاؤنٹس منجمد کردیں۔ ویسے بھی ہندوستانی حکومت اور انٹلی جنس ایجنسیوں کا ہمیشہ سے یہی خیال رہا کہ داؤد ابراہیم نے دوبئی میں بڑے پیمانے پر مختلف کاروباری اداروں میں اربوں ڈالرس کا سرمایہ مشغول کیا ہے۔ مودی کے دورہ کی ایک اور خاص بات یہ رہی کہ انہوں نے ایمریٹس ایئر لائنس؎ز، ڈی پی ورلڈ، ایمار پراپرٹیز و مبادلہ، ایمریٹس نوسٹمنٹ اتھاریٹی کے سربراہوں اور ممتاز صنعت کاروں سے بات چیت کی۔ 50 ہزار سے زائد ہندوستانی تارکین وطن سے خطاب کے دوران مودی وزیر اعظم کم اور بی جے پی لیڈر زیادہ دکھائی دے رہے تھے۔ گجرات فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام کا الزام کا سامنا کرنے والے مودی نے پرجوش انداز میں کہا کہ جہاں کہیں ہندوستانی شہری ہوں ہم پاسپورٹ اور خون کارنگ نہیں دیکھتے بلکہ ان کا مادر وطن سے تعلق ہی کافی ہے۔ مودی نے ہندوستانی تارکین وطن کے لئے انڈین کمیونٹی ویلفیر فنڈ (ICWF) قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی ساری دنیا میں مقیم ہندوستانی باشندوں کے لئے کونسلر کیمپس کے اہتمام کا بھی فیصلہ کیا۔ انہوں نے یو اے ای قیادت اور سرمایہ کاروں کو بتایا کہ 2022ء تک ہندوستان میں غریبوں کے لئے 50 ملین مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

ان کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے علاوہ Moody’s نے ہندوستان کو دنیا کی سب سے تیز اھرتی ہوئی معیشت قرار دیا ہے ایسے میں متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک ہندوستان میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں مبینہ طور پر اہم رول ادا کرنے والے اور عہدہ وزارت عظمی پر فائز ہونے کے باوجود مسلمانوں سے ان فسادات کے لئے معذرت خواہی سے انکار کرنے والے نریندر مودی کو اپنے دورہ کا آغاز شیخ زائد مسجد کے دورہ سے کرنا پڑا۔ اس موقع پر وہ شاید پہہلی مرتبہ مسلمانوں کے جذبہ رواداری سے واقف ہوئے ہوں۔ مودی نے اپنے دورہ میں ابوظہبی میں ایک مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کی درخواست کی یہ درخواست یو اے ای قیادت نے قبول بھی کی۔ اس طرح ابوظہبی میں تعمیر ہونے والی مندر کے ساتھ ہی یو اے ای میں مندروں کی تعداد تین ہو جائے گی۔ دوبئی میں پہلے ہی سے دو منادر موجود ہیں اور حکومت دوبئی کی فراخدلی کے نتیجہ میں وہاں ایک سکھ گردوارہ بھی قائم کیا گیا ہے۔ ابوظہبی میں وہاں کی حکومت نے مندر تعمیر کرنے کی اجازت تو دی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک شرط ضرور کھنی چاہئے کہ اس مندر کا پجاری کسی دلت کو مقرر کیا جائے تاکہ ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھوں ستائے جارہے دلتوں کو اپنے ملک میں نہیں تو کم از کم متحدہ عرب امارات میں تو انصاف مل سکے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ابوظہبی میں مندر کی تعمیر کی اجازت دے کر ہندوستانیوں کے دل جیت لئے ہیں، لیکن مودی حکومت کو اس اقدام سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی جماعت بی جے پی اور سنگھ پریوار میں شامل ان عناصر کی سرکوبی کرنی چاہئے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ مسجدوں اور گرجا گھروں پر حملے کرتے ہوئے ملک میں نفرت کی لہر پیدا کررہے ہیں۔ مودی کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ تعلیمی نصاب کو زعفرانی رنگ دینے اور تاریخ کو مسخ کرنے سے ہندوستان کا بھلا ہونے والا نہیں بلکہ نقصان ہی ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کے دورہ کے بعد کم از کم مودی کو یہ سوچنا چاہئے کہ ملک میں مذہب کے نام پر لوگوں کی تقسیم اور مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبہ میں پیچھے کرنے سے ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی بلکہ ترقی اس وقت ہوسکتی ہے جب بلالحاظ مذہب و ملت سب کو ساتھ لے کر چلاجائے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT