Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / مودی گیٹ :سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ

مودی گیٹ :سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ

نئی دہلی 16 جون ((سیاست ڈاٹ کام ) مودی گیٹ پر کانگریس نے اپنا موقف مزید سخت کرتے ہوئے آج مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے زیر نگرانی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ اس اسکینڈل کی تحقیقات کی جائیں ۔ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’(آئی پی ایل کے سابق سربراہ کے ساتھ ) حکومت کی قیادت ساز باز ہوئ

نئی دہلی 16 جون ((سیاست ڈاٹ کام ) مودی گیٹ پر کانگریس نے اپنا موقف مزید سخت کرتے ہوئے آج مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے زیر نگرانی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ اس اسکینڈل کی تحقیقات کی جائیں ۔ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’(آئی پی ایل کے سابق سربراہ کے ساتھ ) حکومت کی قیادت ساز باز ہوئی ہے ۔ جس کیلئے سپریم کورٹ کے زیر نگرانی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں‘‘۔ کانگریس پہلے ہی اس ضمن میں وزیر خارجہ سشما سوراج سے استعفی اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے

جنہوں نے آئی پی ایل اسکام کے داغدار سربراہ للت مودی کو برطانوی سفری دستاویزات دلانے کیلئے مدد کی تھی ۔ کانگریس نے اپنا موقف مزید سخت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کی اعلی قیادت بھی آئی پی ایل کے ساتھ خفیہ ساز باز میں ملوث ہے چنانچہ اس ضمن میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہیں ۔ آنند شرما نے اصرار کے ساتھ کہا کہ مسئلہ چونکہ محض سفری دستاویزات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے اس لئے اس کی جامع تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہو ںنے الزام عائد کیا کہ للت مودی کی بی جے پی میں اعلی سطح پر پہچان ہے ۔ آنند شرما نے یاد دلایا کہ نریندر مودی بحیثیت چیف منسٹر گجرات کرکٹ اسو سی ایشن سے بھی وابستہ تھے۔ آنند شرما نے کہا کہ ’’حکمراں جماعت ملوث ہے ۔ حکومت میں موجود افراد پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ سپریم کورٹ کے زیر نگرانی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ اس کی تحقیقات کی جائیں‘‘۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس مسئلہ پر خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے آنند شرما نے کہا ’’اس مسئلہ پر انہیں (مودی کو ) بولنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ ایک اسکینڈل ہے ۔‘‘وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے للت مودی کی ’’انسانی بنیادوں‘‘ پر سشما سوراج کے اقدام کی ستائش پر بھی انہوں نے تنقید کی ۔ آنند شرما نے سوال کیا کہ ’’وزیر داخلہ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ سشماجی نے اچھا کام کیا ہے ۔

مطلوب افراد اور مفرور ملزمین کو ملک واپس لانا وزیر داخلہ کا کام ہوتا ہے اور یہ کس قسم کی حب الوطنی ہے‘‘۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی ملک کو بتائیں کہ 26 مئی 2014 کو این ڈی اے حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے للت مودی سے متعلق کیسس میں کیا اقدامات کئے ہیں۔ للت مودی کے ضبط شدہ پاسپورٹ کی بحالی کیلئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے اپیل نہ کئے جانے پر بھی تنقید کی ۔ آنند شرما نے کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ اپیل دائر نہ کرنا کسی غلطی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ منصوبہ بند انداز میں ایسا کیا گیا ہے‘‘۔آنند شرما نے کہا کہ للت مودی کو پرتگال میں ان کی بیوی کے آپریشن کے بہانے سفری دستاویزات فراہم کئے گئے لیکن حقیقت میں مودی کی بیوی کا کوئی آپریشن ہی نہیں ہوا ۔ پرتگال کے ہاسپٹلس کے ریکارڈس سے اس کی توثیق کی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT