مودی ہندوستان کے ’ کمانڈر ان تھیف ‘ ۔ راہول گاندھی کا الزام

٭ چوکیدار نے غریبوں سے پیسہ چھین کر امبانی کو سونپ دیا
٭ وزیر اعظم صرف تقاریر کرتے ہیں جواب نہیں دیتے
٭ رافیل معاملت پر صدر کانگریس کے حکومت پر الزامات میںشدت
٭ راہول گاندھی معاملت کو سبوتاج کرنے کی سازش کا حصہ
٭ سابق صدر فرینکوئی اولاند بھی سازش میں برابر کے شریک
٭ رابرٹ واڈرا کو فائدہ پہونچانا مقصد ۔ بی جے پی کے جوابی الزامات

نئی دہلی 24 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) رافیل معاملت پر سیاسی رسہ کشی آج مزید پستی کا شکار ہوگئی جب بی جے پی نے کانگریس صدر راہول گاندھی پر الزام عائد کیا کہ وہ اس معاملت کو سبوتاج کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں اور پارٹی نے راہول کے برادر نسبتی رابرٹ واڈرا کو نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ کانگریس صدر ان کو فائدہ پہونچانے کوشاں ہیں جبکہ راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ کمانڈر ان تھیف ‘ قرار دیا ۔ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ملک کے چوکیدار نریندر مودی نے ملک کے غریب عوام سے پیسہ چھین کر صنعت کار انیل امبانی کے حوالے کردیا ہے ۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ راہول گاندھی ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں جس میں سابق صدر فرانس فرینکوئی اولاند بھی شامل ہیں اور ان سب کا مقصد اس معاملت کو سبوتاج کرنا ہے جبکہ راہول گاندھی چاہتے ہیں کہ یہ معاملت رابرٹ واڈرا سے متعلق کسی فرم کو دی جائے ۔ بی جے پی لیڈر و مرکزی وزیر گجیندر شیخاوت نے اس سازش میں پاکستان کے رول کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایک ٹوئیٹ کرکے کہا ہے کہ راہول گاندھی ہندوستان کے آئندہ وزیر اعظم ہونگے ۔ کانگریس صدر راہول گاندھی اس سارے تنازعہ کے دوران آج اپنے حلقہ انتخاب امیٹھی پہونچے ۔ یہاں انہوں نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چوکیدار نے ملک کے غریب عوام سے پیسہ چھین کر صنعتکار انیل امبانی کو سونپ دیا ہے ۔ راہول نے کئی اہم مسائل پر وزیر اعظز سے سوالات پوچھے ۔ انہوں نے رافیل معاملت سے سوال کیا کہ مودی یہ واضح کریں کہ سابق صدر فرانس اولاند نے انہیں کیوں ’ چور ‘ کہا ہے ۔ راہول نے جائیس حلقہ میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چوکیدار نے 20,000 کروڑ روپئے غریبوں ‘ شہیدوں اور جوانوں کی جیب سے نکال کر اسے امبانی کے حوالے کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ رافیل معاملت کی جملہ مالیت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قیمت کا انکشاف کیوں نہیں کیا گیا ۔ امبانی کو یہ کنٹراکٹ کس طرح دیا گیا ۔ سابق صدر فرانس اولاند نے اس تعلق سے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر مباحث کے دوران وزیر اعظم ان سے آنکھ نہیں ملا رہے تھے ۔ وزیر اعظم تقاریر کرتے ہیں جواب نہیں دیتے ۔ ان کے پاس جواب دینے کا حوصلہ ہی نہیںہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ معاملت ہزاروں کروڑ روپئے کی ہے اور یہ رقومات ملک کے فائدہ کیلئے استعمال کی جاسکتی تھیں لیکن انہیں ایک صنعتکار کو سونپ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے فوری بعد چوکیدار سیدھے فرانس گئے اور اس ملک کے صدر کے ساتھ معاہدہ کیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی نے کہا کہ ایچ اے ایل کو چھوڑو یہ معاہدہ انیل امبانی سے کیا جانا چاہئے ۔ کانگریس اور بی جے پی کے مابین اس معاملہ پر الزامات و جوابی الزامات کے دوران ایک ویڈیو کانگریس پارٹی نے جاری کیا ہے جس میں ڈسالٹ کمپنی کے سی ای او ایرک ٹراپئیر کو یہ تقریب میں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ رافیل معاملت پر ذمہ داری ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ ( ایچ اے ایل ) کے ساتھ ہے ۔ اس کا اشارہ یہ ہے کہ یہ معاملت تقریبا طئے ہوچکی ہے ۔ کانگریس کا ادعا ہے کہ یہ ویڈیو مارچ 2015 کا ہے جبکہ اس معاملت کا اعلان ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے ۔ اس ویڈیو کی اصلیت کا تاہم پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ کانگریس ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے سوال کیا کہ 17 دن کے وقفہ میں ایسا کیا ہوا کہ وزیر اعظم مودی نے 10 اپریل 2015 کو پیرس میں اعلان کردیا کہ 36 رافیل طیارے خریدے جائیں گے ۔ یہاں انہوں نے اس معاملت سے ایچ اے ایل کو باہر کردیا ۔ کانگریس نے ایک اور ویڈیو بھی جاری کیا ہے جس میں اس وقت کے خارجہ سکریٹری ایس جئے شنکر 18 اپریل 2015 کو ایک پریس کانفرنس کرتے دکھائی دے رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ایچ اے ایل اس معاہدہ میں شامل ہے ۔ تاہم بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کی شدت سے تردید کی ہے ۔ مرکزی وزیر شیخاوت نے کہا کہ اس معاملت کو منسوخ کروانے کیلئے ایک سازش کی گئی ہے تاکہ ملک کو بدنام کیا جاسکے اور انڈین ائر فورس کے حوصلے پست کئے جاسکیں۔ سابق صدر فرانس اولاند کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے شیخاوت نے کہا کہ راہول گاندھی اور اولاند اس سازش کا حصہ ہیں ۔ وہ اپنے بیرونی دوروں کے موقع پر ایسے قائدین سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے اپنے ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا ہے جو ایک فرانسیسی اشاعتی ادارہ کا ہے جس میں یہ اسٹوری شائع ہوئی جس میں اولاند کے حولے سے کہا گیا ہے کہ ریلائنس ڈیفنس کی تجویز حکومت ہند نے پیش کی تھی تاکہ ڈسالٹ ایویئیشن سے اشتراک ہوسکے ۔ گاندھی نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ ہندوستان کے کمانڈر ان تھیف کی افسوسناک کہانی ۔

TOPPOPULARRECENT