Sunday , October 21 2018
Home / اداریہ / مودی ‘ یوگی راج میں اب علما بھی نشانہ پر

مودی ‘ یوگی راج میں اب علما بھی نشانہ پر

کام کیا کیا نہ غم دل کی مسرت آئی
شکر بن بن کے مرے لب پہ شکایت آئی
مودی ‘ یوگی راج میں اب علما بھی نشانہ پر
ہندوستان بھر میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا عمل ایسا لگتا ہے کہ معمول بنتا جا رہا ہے ۔ ملک کے کسی نہ کسی گوشے میں اور کسی نہ کسی شہر میں مسلمانوں کو آئے دن حملوں کا نشانہ بنایا جار ہا ہے ۔ ان کی جانیں لی جا رہی ہیں اور انہیںمار پیٹ کر زخمی کیا جا رہا ہے اس کے باوجود حکومت حرکت میں آنے اور خاطیوںو قاتلوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے تیار نہیںہو رہی ہے ۔ اترپردیش میںمحمد اخلاق کے قتل سے شر وع ہوئی یہ کہانی اب مزید طول پکڑتی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو نت نئے بہانوں سے نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ ان واقعات سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے یا پھر اشرار کو قانون کا کوئی خوف نہیںر ہ گیا ہے ۔ محمد اخلاق کے بعد ناگور راجستھان میں عبدالغفار قریشی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس کے بد دادری ہی سعتکھنے والے تین افراد انس ‘ عارف اور ناظم کو نشانہ بنایا گیا ۔ اس کے چند دن بد زاہد بھٹ پر گیسولین ے بم پھینکے گئے ۔ پھر اسی مہینے میں سہارنپور میں نعمان نام نوجوان کو ہجوم نے گائے کی اسمگلنگ کے نام پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ۔ اس کے بعد جھارکھنڈ میں محمد مظلوم انصاری اور اس کے 15 سالہ لڑکے کو پھانسی پر لٹکادیا گیا ۔ اس سے قبل انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔ پھر چار دلتوں کو گجرات کے سومناتھ ضلع میں باندھ کر ‘ برہنہ کرتے ہوئے زد و کوب کیا گیا ۔ یہ حملہ بھی گاو دہشت گردوں نے کیا ۔ اس کے بعد راجستھان کے الوار میں پہلو خان کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اس کے بعد گاو ذبیجہ کے شبہ پر پانچ افراد کو جن میں ایک نو سالہ لڑکی بھی شامل تھی حملہ کرتے ہوئے زخمی کردیا گیا ۔ دہلی میںتین مسلم نوجوانوں کو انہیںگاو دہشت گردوں نے حملے کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس کے بعد وسطی آسام کے ناگاوں ضلع میں ابو حلیفہ اور ایاز الدین علی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ۔ پھر عین عید سے قبل فرید آباد میں ایک نوجوان جنید خان کو چلتی ٹرین میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ۔ مغربی بنگال میں بھی تین افراد کو گاو دہشت گردوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ۔ چند دن قبل عمر خان نامی شخص کا قتل کیا گیا اور اب چلتی ٹرین میں تین مسلم علما کو محض سر پر رومال باندھنے پر مارپیٹ کر زخمی کردیا گیا ۔
یہ تینوں ایک مدرسہ میں پڑھاتے ہیں۔ یہ لوگ دہلی سے باغپت جا رہے تھے کہ انہیں چلتی ٹرین میں پیٹ پیٹ کر شدید زخمی کردیا گیا ۔ یہ ساری کارروائیاں ملک بھر میں بے چینی کی کیفیت پیدا کررہی ہیں اور حکومت اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ خود پولیس کا جہاں تک سوال ہے ایسا لگتا ہے کہ پولیس فورس بھی خاطیوں اور حملہ آوروں کو سزائیں دلانے کی بجائے انہیں بچانے کا کام کر رہی ہے ۔ جو لوگ موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں جنہیں حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے انہیں کے خلاف پولیس مقدمات درج کرتے ہوئے ان کے افراد خاندان کو مزید ہراساں و پریشان کیا جا رہا ہے ۔ ان لوگوں کو پھر سماجی بائیکاٹ کی دھمکیاں الگ سے مل رہی ہیں۔ انہیں اپنے گاووں سے نکال باہر کیا جا رہا ہے ۔ ایک طرح سے ہر کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ۔ انہیں یہ احساس دلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے کہ انہیں جب چاہے جو چاہے نشانہ بناسکتا ہے اور ان پر قانون کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا یا پھر انہیں قانون کے تحت قرار واقعی سزا دلانے کی بجائے بچانے پر زیادہ توجہ دی جائیگی ۔ حکومت یا اس کے نمائندے کبھی کبھار ایسا بیان دیتے ہیںجن سے خاطیوں کی حوصلہ شکنی ہونے کی بجائے ان کے حوصلے مزید بلند ہونے لگتے ہیں۔ نفاذ قانون کی ایجنسیوں سے اس طرح کے واقعات پر کوئی جواب طلب نہیں کیا جاتا اور نہ انہیں لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے پابند کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایجنسیاں بھی اپنے فرائض سے تغافل برتنے لگی ہیں اور انہیں جوابدہی کی کوئی فکر نہیں ہے ۔
ہندوستان کی شائد ہی کوئی ریاست ایسی ہو جہاں ان گاو دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کی شر انگیزیوں اور حملوں کے واقعات میں اضافہ نہ ہوا ہو۔ ہر ریاست میں اور خاص طور پر دور دراز کے مقامات پر تو مسلمانوں کا جینا مشکل کردیا گیا ہے ۔ ان کا عرصہ حیات منصوبہ بند انداز میں تنگ کیا جا رہا ہے ۔ انہیں خود اپنے ہی گاووں میں بائیکاٹ کرتے ہوئے ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ انہیں اپنے گھروں اور مکانات کو چھوڑ کر نقل مقام کرنے پر مجبور کیا جار ہا ہے ۔ اب تو ٹرینیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور چلتی ٹرینوں میں مسلمانوں کا سفر بھی مشکل کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ حکومت اور پولیس کے علم میں مسلسل آر ہا ہے اس کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ حکومت اور پولیس کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے اور حالات کے بے قابو ہونے سے پہلے ایسے واقعات کیلئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT