Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / مودی ۔ اوباما ملاقات سے قبل دونوں ملکوں کی اہم مصروفیات

مودی ۔ اوباما ملاقات سے قبل دونوں ملکوں کی اہم مصروفیات

نئی دہلی 10 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ماہ ستمبر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر امریکہ بارک اوباما کے مابین ملاقات سے قبل دونوں ملکوں کے مابین کئی تیز رفتار مذارکات ہونگے ۔ اس سلسلہ میں 23 اور 24 جون کو سہ فریقی بات چیت ہوگی جس میں جاپان بھی شامل ہونے وال اہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر خارجہ سشما سوراج اور امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کے ماب

نئی دہلی 10 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ماہ ستمبر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر امریکہ بارک اوباما کے مابین ملاقات سے قبل دونوں ملکوں کے مابین کئی تیز رفتار مذارکات ہونگے ۔ اس سلسلہ میں 23 اور 24 جون کو سہ فریقی بات چیت ہوگی جس میں جاپان بھی شامل ہونے وال اہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر خارجہ سشما سوراج اور امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کے مابین ملاقات ہوگی جس کی تواریخ کو طئے کیا جار ہا ہے ۔ اس کے بعد نریندر مودی ۔ بارک اوباما ملاقات ہوگی ۔

علاوہ ازیں ہند ۔ امریکہ حکمت عملی مذاکرات کی تواریخ کا تعین عمل میں آئیگا ۔ امکان ہے کہ دونوں ملکوں کی جانب سے دفاع ‘ معیشت اور تجارت کے شعبہ جات میں تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے بات چیت ہوگی ۔ صدر امریکہ ان اولین بیرونی قائدین میں شامل ہیں جنہوں نے نریندر مودی کو انتخابات میں ان کی شاندار کامیابی پر فون کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی تھی ۔ اس بات چیت کے دوران اوباما نے مودی کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی ۔ یہ فون کال 2005 کے بعد سے نریندر مودی اور کسی امریکی قیادت کے مابین پہلا رابطہ تھا

۔ 2005 میں مودی کو امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا کیونکہ انہیں 2002 کے مسلم کش فسادات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ ہندوستان نے امریکہ میں سینئر ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبر گاڑے کی گذشتہ سال ڈسمبر میں گرفتاری سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں آنے والی قدرے کشیدگی کو دور کرنے اور تعاون پر مبنی بات چیت کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ مودی اور سواراج نے متعلقہ حکام کو امریکہ کے ساتھ تعاون پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس گرفتاری کے بعد کھوبر گاڑے کو ویزا فراڈ کیس میں ایک بانڈ پر رہا کیا گیا تھا ۔ ہندوستان اور امریکہ کے مابین معاشی و تجارتی فورم کا اجلاس منعقد ہوگی جس کی صدارت ہندوستان کے وزیر تجارت کرینگے ۔

اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے مابین کئی برسوں سے تعطل کا شکار دفاعی مذاکرات بھی نریندر مودی کے ماہ ستمبر میں امریکی دورے کے بعد منعقد ہونگے ۔ کہا گیا ہے کہ چونکہ امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ہندوستان کی نئی قیادت کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے حکمت عملی تعاون و شراکت کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے ہندوستان نے فیصلہ کیا کہ وہ کھوبر گاڑے کے مسئلہ کو تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیگا۔ تاہم سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان اس واقعہ کے بعد سے سفارتکاروں کو ملنے والے استثنی اور دیگر اہم مسائل پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کا خواہش مند ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اس طرح کے واقعات مستقبل میں پیش نہ آئیں۔ ہند ۔ امریکہ ۔ جاپان سہ فریقی بات چیت کے دوران امکان ہے کہ جنوبی ایشیا میں رابطوں اور ایک معاشی راہداری کے قیام کے علاوہ انسانی ضروریات اور ڈیزاسٹر ریسپانس جیسے مسائل پر بات چیت کی جائیگی ۔

TOPPOPULARRECENT