Wednesday , September 26 2018
Home / Health / موسمی تبدیلی سے عوام کی صحت پر منفی اثرات ، وبائی بخار ، کھانسی اور نزلہ عام

موسمی تبدیلی سے عوام کی صحت پر منفی اثرات ، وبائی بخار ، کھانسی اور نزلہ عام

حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : موسم میں ہونے والی تبدیلی کے اثرات شہر میں تیزی سے عوام کی صحت پر مرتب ہورہے ہیں ۔ دونوں شہروں میں وبائی بخار کھانسی اور نزلہ کے سبب عوام سے دواخانے بھرے پڑے ہیں ۔ موسم کے اختتام اور گرما کے آغاز سے قبل جاریہ موسم کے سبب دونوں شہروں کے عوام میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں جس کے نتیجہ میں لوگ سردی ، بخا

حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : موسم میں ہونے والی تبدیلی کے اثرات شہر میں تیزی سے عوام کی صحت پر مرتب ہورہے ہیں ۔ دونوں شہروں میں وبائی بخار کھانسی اور نزلہ کے سبب عوام سے دواخانے بھرے پڑے ہیں ۔ موسم کے اختتام اور گرما کے آغاز سے قبل جاریہ موسم کے سبب دونوں شہروں کے عوام میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں جس کے نتیجہ میں لوگ سردی ، بخار ، تھکاوٹ ، نزلہ اور اعضا شکنی کا شکار ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ یہ بات معمول کی ہے اور موسم کی تبدیلی کے اثرات انسانی جسم پر مرتب ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجوہات موسم کی تبدیلی کے ساتھ غذائی تبدیلی بالخصوص ٹھنڈے مشروبات کے استعمال میں ہونے والے اچانک اضافہ کے سبب بھی یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ مشروبات نہ استعمال کرنے والوں کی یہ حالت ٹھنڈے پانی کے استعمال میں اضافہ کے باعث ہوتی ہے ۔ گذشتہ ایک ماہ سے موسم میں رونما ہونے والی تبدیلی عوامی صحت پر اثر انداز ہورہی ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام مشروبات کے استعمال کے علاوہ ٹھنڈی اشیاء کے استعمال میں فوری اضافہ سے اجتناب کریں اور ان کے استعمال میں اعتدال پیدا کریں ۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ موسم سرما جو کہ اواخر میں شدت اختیار کرتا ہے اور وسط جنوری میں گرمی کا آغاز ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی عوامی نظام مدافعت میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے جس کے سبب ابتدائی گرمی بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور لوگ اس گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے ٹھنڈے اشیاء استعمال کرنے لگتے ہیں ۔ یہ بات عام ہے کہ موسم کی تبدیلی کے اثرات علحدہ علحدہ طریقوں سے مرتب ہوتے ہیں لیکن ان اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اعتدال سب سے بہتر ہے ۔ پرانے شہر کے بیشتر دواخانوں میں کھانسی ، نزلہ ، بخارکے علاوہ اعضاء شکنی کی شکایات کے ساتھ مریض رجوع ہورہے ہیں ۔ گذشتہ چند یوم کے دوران رات کے وقت شدت اختیار کرنے والی ٹھنڈک بھی انسانی جسم میں اعضاء شکنی کی کیفیت پیدا کرتی ہے اس سے بھی محفوظ رہنے کی ضرورت ہے ۔ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ یہ حالات صرف جنوبی ہند کے شہروں میں یا حیدرآباد میں نہیں ہیں بلکہ عالمی حدت میں تبدیلی اور موسمی اثرات کے سبب وبائی امراض ہر مقام پر ہوتے ہیں ۔

اطباء کا کہنا ہے کہ ان امراض میں مبتلا ہونے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مزاج کو معتدل بنانے پر توجہ دیں تاکہ آئندہ ماہ سے گرمی میں ہونے والی شدت سے محفوظ رہ سکیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہری علاقوں میں ان امراض کے تیزی سے پھیلنے کی وجوہات پر بھی تحقیق کا عمل جاری ہے ۔ شہری علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ کی وجہ شہر سے درختوں کا خاتمہ اور کھلی اراضیات کی عدم موجودگی بھی تصور کی جاتی ہے علاوہ ازیں شہری علاقوں کے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہونے کے سبب سردی یا گرمی دونوں ہی موسموں کے اثرات شدت کے ساتھ انسانی زندگیوں پر مرتب ہورہے ہیں ۔ موسم کی تبدیلی یکلخت نہیں ہوتی بلکہ نظام قدرت کے اعتبار سے موسم میں بتدریج تبدیلی رونما ہوتی ہے اسی لیے اگر غذائی تبدیلی میں بھی اعتدال سے کام لیتے ہوئے اسے بتدریج بدلا جائے تو اس کے مضر اثرات ہونے کے خدشات کم ہوتے جاتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT