Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی مشروبات کے کاروبار میں اضافہ

موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی مشروبات کے کاروبار میں اضافہ

عارضی دکانات کا قیام ، تجارت میں مسابقت ، لسی کے مختلف اقسام بھی متعارف

عارضی دکانات کا قیام ، تجارت میں مسابقت ، لسی کے مختلف اقسام بھی متعارف
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر میں گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی موسم گرما کے لیے مخصوص ٹھنڈے مشروبات کی فروخت میں اضافہ ہوچکا ہے اور مشروبات کی عارضی دکانات شروع ہوچکی ہیں ۔ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی شہر حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقوں میں فالسہ ، خربوز اور تربوز کے علاوہ دیگر مشروبات کی فروخت عروج پر پہنچ جاتی ہے ساتھ ہی ساتھ لسی ، فالودہ اور چھانچ وغیرہ کی فروخت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ پرانے شہر کے چند افراد کے لیے ٹھنڈے مشروبات کی فروخت یا پھلوں کے رس کی فروخت موسم گرما کا بہترین کاروبار ہے اور اس کاروبار میں کافی فائدہ بھی ہے ۔ شہر میں گرمی کے موسم اور دھوپ کی تمازت سے بچنے کے لیے لوگ ٹھنڈے مشروبات کے بجائے لسی ، پھلوں کے رس کے علاوہ گنے کے رس جیسے مشروبات کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود مستقل جوس سنٹرس کے علاوہ اب گرما میں عارضی دکانات کے قیام کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے جو کہ صرف 3 تا 4 ماہ کے لیے شروع کی جاتی ہیں ۔ جوس سنٹر کے ایک مالک کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کاروبار میں بھی مسابقت بہت زیادہ ہوچکی ہے اسی لیے یہ کاروبار پہلے کی طرح منافع بخش نہیں ہے اس کے باوجود موسم گرما میں اس کاروبار کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے اور لوگ گرمی سے راحت کے سامان تلاش کررہے ہوتے ہیں ایسے میں انہیں خالص لسی یا خالص پھلوں کا رس میسر آتا ہے تو وہ اسے ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ شہر میں جو پھلوں کے شربت خالصتاً تیار کئے جاتے ہیں ان میں انناس ، موسمی ، سیب ، سنگترہ ، انگور ، خربوز ، تربوز ، کالا جامن ، سپوٹا اور دیگر شامل ہیں لیکن موسم گرما میں لوگ موسمی کے جوس کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر انار یا سنگترہ ان کی پسند ہوتا ہے ۔ شہر میں پھلوں کے رس تیار کرنے والے کئی ہیں لیکن بعض بعض مخصوص دکانات پر خشک میوہ جات بالخصوص چلغوزہ وغیرہ کا جو شربت فروخت کیا جاتا ہے

اس کی قیمت 400 سے 500 روپئے فی گلاس بھی ہے ۔ عموما پھلوں کا رس 25 تا 35 روپئے میں دستیاب ہے لیکن لسی مختلف مقامات پر مختلف قیمتوں میں دستیاب ہوتی ہے جس کے متعلق ایک تاجر کا کہنا ہے کہ لسی کی قیمت کا تعین اس کے معیار اور اس میں استعمال کی جانے والی اشیاء سے کیا جاتا ہے ۔ شہر میں فی الحال 10 روپئے گلاس کے حساب سے بھی لسی میسر ہے لیکن اس کی مختلف اقسام بن چکی ہیں جیسے اسپیشل لسی وغیرہ کے نام سے اس کی قیمتیں علحدہ علحدہ ہے ۔ یہی صورتحال فالودہ کی بھی ہے اور فالودہ بھی مختلف قیمتوں میں دستیاب ہے ۔ دونوں شہروں میں گذشتہ چند برسوں سے پودینے کے شربت کا بھی چلن عام ہورہا ہے اور لوگ پودینے کے شربت سے بھی لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ گنے کا رس دونوں شہروں میں صرف موسم گرما کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ گنے کا شربت بھی سال بھر دستیاب رہتا ہے اور لوگ اس مشروب کے استعمال کے لیے موسم کی قید سے آزاد نظر آتے ہیں ۔ ان سب کے علاوہ اب جس رفتار سے ٹیٹرا پیاک میں مشروبات کی فروخت کو فروغ حاصل ہورہاہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ مشروبات بالخصوص موسم گرما میں زیادہ استعمال ہونے والے مشروبات کی ٹیٹرا پیاک میں فروخت ایک صنعت کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود خالص پھلوں کے مشروبات تیار کرنے والوں کا ادعا ہے کہ اس سے ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے چونکہ لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے تیار کردہ تازے مشروبات کا استعمال آج بھی پسند کرتے ہیں ۔ لسی کے تیار کنندگان کا کہنا ہے کہ ابتداء میں لسی معہ آئسکریم یا بالائی فروخت کی جاتی تھی لیکن اب لسی مختلف طریقوں کی دستیاب ہونے لگی ہے جس میں آم کی لسی اور اسٹرابیری کی لسی شامل ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT