Wednesday , November 14 2018
Home / شہر کی خبریں / موسم گرما کے آغاز کیساتھ ہی غیر معلنہ برقی کٹوتی

موسم گرما کے آغاز کیساتھ ہی غیر معلنہ برقی کٹوتی

حکومت کا وعدہ بے وفا ثابت، حکومت اور برقی عہدیداروں کی عدم دلچسپی

حیدرآباد۔یکم۔اپریل(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں 24 گھنٹے غیر معلنہ معیاری برقی سربراہی کے اعلانات کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت ہر گھر کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کرے گی لیکن موسم گرما کے دوران پرانے شہر کے علاقو ںمیں برقی سربراہی میں غیر معلنہ کٹوتی معمول بنتا جا رہاہے اوردن کے اوقات کے علاوہ رات دیر گئے بھی برقی سربراہی منقطع کی جانے لگی ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد ریاست کا صدر مقام ہونے کے باوجود شہر کے اہم مرکزی علاقوں میں برقی کٹوتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور محکمہ برقی کے عہدیداروں کو پرانے شہر کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اسی لئے وہ ان علاقوں میں برقی سربراہی منقطع ہونے کے باوجود مسئلہ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ شاہ علی بنڈہ‘ قاضی پورہ‘ خلوت کے علاوہ دیگر علاقو ںمیں دو یوم قبل رات دیر گئے زائد از 2گھنٹے برقی سربراہی منقطع رہی لیکن رات دیر گئے مقامی کارپوریٹر کی مداخلت کے بعد برقی سربراہی بحال کی جا سکی جبکہ محکمہ برقی کے کوئی عہدیدار نے فون نہیں اٹھایا اور 1912 پر شکایت کرنے پر آپریٹر کا کہناتھا کہ عہدیدار پٹرولنگ پر مصروف ہیں چند منٹ میں برقی بحال کردی جائے گی لیکن اس کے باوجود بھی کافی دیر تک برقی بحال نہیں کی جا سکی۔ اسی طرح کی صوررتحال چادرگھاٹ‘ کالی قبر‘ عثمان پورہ کے علاقوں کی رہی جہاں رات دیر گئے تک بلکہ صبح کی اولین ساعتوں تک بھی برقی سربراہی منقطع رہی جس کے سبب عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے اقلیتی غالب آبادی والے علاقوں میں برقی سربراہی منقطع کئے جانے کی شکایت ہر سال موسم گرما میں ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود عہدیداروں کی جانب سے اس کے سد باب کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے جو کہ محکمہ برقی میں شامل عہدیداروں کی ان علاقوں سے عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ برقی کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ تمام علاقوں میں 24 گھنٹے معیاری برقی کی سربراہی کو یقینی بنائے کیلئے اقدامات کریں لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد کے اقلیتی غالب آبادی والے علاقو ںکی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے بلکہ جب تک منتخبہ عوامی نمائندے مداخلت نہیں کرتے شہریوں کو معیاری سہولتوں کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے محکمہ جاتی سطح پر کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT