Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / موسیٰ ندی میں یومیہ 3.5 ملین لیٹر گندے پانی کی نکاسی

موسیٰ ندی میں یومیہ 3.5 ملین لیٹر گندے پانی کی نکاسی

حیدرآباد ۔ 21 جنوری ۔ موسیٰ ندی کسی زمانے میں حیدرآباد کی رونق میں اضافہ، جانوروں کیلئے چارہ (گھانس کی پیداوار) آلودہ پانی کے بہاؤ کا باعث ہوا کرتی تھی جبکہ اس کی اہمیت کے مدنظر ہی خطیب شاہی و آصفجاہی دور میں پرانا پل، نیاپل، مسلم جنگ کا پل اور دیگر پلوں کے علاوہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر ڈیمس بھی اسی پر تعمیر کئے گئے تھے۔ ساتھ ہی موسی

حیدرآباد ۔ 21 جنوری ۔ موسیٰ ندی کسی زمانے میں حیدرآباد کی رونق میں اضافہ، جانوروں کیلئے چارہ (گھانس کی پیداوار) آلودہ پانی کے بہاؤ کا باعث ہوا کرتی تھی جبکہ اس کی اہمیت کے مدنظر ہی خطیب شاہی و آصفجاہی دور میں پرانا پل، نیاپل، مسلم جنگ کا پل اور دیگر پلوں کے علاوہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر ڈیمس بھی اسی پر تعمیر کئے گئے تھے۔ ساتھ ہی موسیٰ ندی کے محل وقوع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہیکہ آندھراپردیش ہائیکورٹ کی عظیم الشان عمارت، سٹی کالج جیسا مثالی تعلیمی ادارہ، وسیع و عریض مہاتما گاندھی بس اسٹیشن، پرشکوہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل دنیا بھر میں مشہور سالارجنگ میوزیم اور ریاست کی سب سے بڑی لائبریری، اسٹیٹ سنٹرل لائبریری (کتب خانہ آصفیہ) بھی اس ندی کے دونوں جانب تعمیر کی گئی ہیں لیکن حکومتوں، سرکاری اداروں بالخصوص محکمہ سیاحت کے حکام کی لاپرواہی، مجرمانہ غفلت اور بے حسی کے نتیجہ میں اب موسیٰ ندی ایک گندے نالے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق یومیہ 350 ملین لیٹر گندہ پانی دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی موریوں اور نالوں سے بہہ کر اس میں گرتا ہے۔ قارئین … راقم الحروف نے آج موسیٰ ندی کا بغور جائزہ لیا جس پر انکشاف ہوا کہ موسیٰ ندی نہ صرف نالے میں تبدیل ہوگئی ہے بلکہ حقیقت میں ایک ڈرینج لائن بن گئی ہے جہاں موریوں کے گندے پانی سے لیکرصنعتی فضلہ سب کچھ بہہ رہا ہے۔

شہر میں موسیٰ ندی دھوبی گھاٹ میں بھی تبدیل ہوگئی ہے جہاں جابجا آلودہ پانی سے کپڑے، چھوٹے سے لیکر بڑے ہاسپٹلس کے بستر، بیڈشیٹس، مریضوں کے کپڑے، ہوٹلوں کے کمروں میں استعمال کئے جانے والے بیڈ شیڈس، بستروں کے غلاف، کھڑکیوں کے پردے دھوئے جاتے ہیں۔ اس بارے میں شہریوں کے بزرگوں اور موسیٰ ندی کے اطراف و اکناف کی بستیوں میں مقیم افراد کا کہنا ہیکہ موسیٰ ندی کی آبی آلودگی کے نتیجہ میں مچھروں کی کثرت ہوگئی ہے خاص طور پر پرانا پل، پیٹلہ برج، سٹی کالج گراونڈ، نیاپل، چھتہ بازار، دارالشفاء، کالی قبر، چادرگھاٹ، ملک پیٹ کے عوام کے خیال میں آبی آلودگی سے مچھروں کی بہتات ہورہی ہے اور اس سے مختلف امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ گذشتہ سال سرکاری اداروں نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ موسیٰ ندی کی 57 ہزار 721 مربع گز سرکاری اراضی پر ناجائز مکانات تعمیر کرلئے گئے ہیں جبکہ حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں نے گھانس اگانے کیلئے 70 ہزار مربع گز اراضی سے زیادہ اراضی کے پٹہ جات عطا کئے گئے تھے اس پر بھی ناجائز تعمیرات کرلی گئی ہیں۔ مئی 2013ء میں ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی کے آبگیر علاقہ پر قابض پٹہ داروں کو معاوضہ دے کر مکانات کا تخلیہ کروانے اور سرکاری اراضیات پر قابض افراد کو زبردستی تخلیہ کرانے کا اعلان کیاتھا لیکن اب تک اس اعلان پر عمل آوری نہیں کی گئی جبکہ آئے دن موسیٰ ندی میں ناجائز مذہبی ڈھانچوں کی تعداد میں بھی لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ اس بارے میں حکومت بلدیہ اور محکمہ سیاحت کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔

حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہیکہ حکومت نے موسیٰ ندی کی آلودگی ختم کرنے کے نام پر اب تک ایک ہزار کروڑ روپئے خرچ کرچکی ہے لیکن کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ حد تو یہ ہیکہ موسیٰ ندی کو تفریحی مرکز کی حیثیت سے ترقی دینے کے اعلانات کئے گئے۔ ہائیکورٹ تا سالارجنگ میوزیم ربر ڈیم کی تعمیر اور صاف پانی کے بہاؤ کے پراجکٹ کا اعلان کیا گیا۔ ربر ڈیم کا کام نامکمل ہونے سے اس حصہ میں آلودگی مزید بڑھ گئی ہے۔ جہاں تک موسیٰ ندی میں ناجائز قبضوں کا سوال ہے، آندھراپردیش ہائیکورٹ نے اسی تاریخی ندی پر کئے گئے ناجائز قبضوں و تعمیرات کے خلاف کئے جارہے اقدامات جاننا چاہا تھا۔ ہائیکورٹ بنچ نے واضح طور پر کہا تھا کہ 30 سال قبل موسیٰ ندی کی جو حالت تھی اسے واپس لانا بہت ضروری ہے کیونکہ آج اسے ندی نہیں بلکہ گندے پانی کا نالا کہا جاسکتا ہے۔ بہرحال اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کے باوجود موسیٰ ندی ہنوز ایک نالا بنی ہوئی کیوں ہے؟

TOPPOPULARRECENT