Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / موسیٰ ندی پر تعمیر کردہ پلوں کی پائیداری کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا

موسیٰ ندی پر تعمیر کردہ پلوں کی پائیداری کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا

بریجس میں ارتعاش ، جگہ جگہ سلاخیں اکھڑ گئیں ، ناگہانی واقعات بھی پیش آسکتے ہیں
حیدرآباد۔ 11اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد میں موجود اوور برجس یا موسی ندی پر تعمیر کئے گئے پلوں کی پائیداری کا جائزہ لیا جانا ضروری ہو چکا ہے۔ حالیہ عرصہ میں کولکتہ میں زیر تعمیر برج کے انہدام کے واقعہ نے عوام اس سلسلہ میں فکر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام کی سہولت کے لئے تعمیر کردہ ان برجس کے متعلق حکومت کو چاہئے کہ وہ رپورٹ پیش کرے۔ جی ہاں ! جب کوئی ادارے کا آغاز کرنا ہوتا ہے یا پھر موجودہ عمارت پر نئی منزل تعمیر کرنی ہو تو ایسی صورت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوتا ہے اور اس اجازت نامہ کے حصول کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ درخواست گزار عمارت کی مضبوطی و پائیداری کے متعلق سند پیش کرے یہ قانون ہر شہری پر نافذ ہوتا ہے لیکن اس قانون کا نفاذ بلدیہ یا دیگر کسی ترقیاتی ایجنسی پر ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر ہوتا ہے تو پھر ان رپورٹس کا جائزہ کون لیتا ہے؟ چونکہ بلدیہ یا دیگر اداروں کی جانب سے انجام دیئے جانے والے ترقیاتی کام کا اثر عوام پر ہوتا ہے۔ اسی طرح ان ترقیاتی کاموں کی پائیداری کے متعلق سالانہ رپورٹ منظر عام پر لایا جانا ضروری ہے چونکہ یہ مسئلہ عوامی تحفظ سے جڑا مسئلہ ہے۔ دبیرپورہ برج کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد چند ماہ کے بعد ہی اس بات کی شکایات منظر عام پر آنے لگی کہ برج کے ایک حصہ میں ارتعاش محسوس کیا جارہا ہے‘ ان اطلاعات کے فوری بعد مقامی کارپوریٹر جناب امجداللہ خان خالد کی نمائندگی پر برج کو مضبوط بنانے کا عمل شروع کیا گیا اور کافی طویل عرصہ تک اس برج کو پائیدار بنانے کیلئے تعمیری کام جاری رہا۔ کولکتہ میں پیش آئے زیر تعمیر برج کے انہدام کے بعد عوام کی جانب سے تاریخی پرانا پل سے متصل تعمیر کئے گئے برج میں ارتعاش محسوس کئے جانے کی شکایات کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ رود موسی پر تعمیر کردہ اس برج کی حالت مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔ برج کے نچلے حصہ میں سمنٹ اکھڑنے لگی ہے اور برج کے اندرونی حصہ میں موجود لوہے کی سلاخیں نظر آنے لگی ہیں جو برج کی مضبوطی و پائیداری کی منہ بولتی تصویر ثابت ہورہی ہے لیکن عہدیداروں کی جانب سے اس برج کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے تاحال اقدامات کا آغاز نہیں کیا گیا جس سے محکمہ کی لا پرواہی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شہریوں کی زندگی کے تحفظ کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس پل کی پائیداری کا جائزہ لینے کیلئے فوری ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT