Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے پر جلد ہی چیف منسٹر کو تفصیلی پراجکٹ رپورٹ

موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے پر جلد ہی چیف منسٹر کو تفصیلی پراجکٹ رپورٹ

اس سال کے اختتام تک کام شروع کئے جائیں گے ۔ چیرمین موسیٰ ڈیولپمنٹ بورڈ پریم سنگھ راتھوڑ کا انٹرویو
حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( رتنا چوٹرانی ) : موسیٰ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیرمین پریم سنگھ راتھوڑ نے کہا کہ موسیٰ ندی کی صفائی اور اسے خوبصورت بنانے سے متعلق ایک تفصیلی پراجکٹ رپورٹ جلد ہی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور متعلقہ وزیر کو پیش کی جائے گی اور اگر اس میں کچھ تبدیلیاں کرنا ہو تو کی جائیں گی اور کام 2017 کے اختتام تک شروع کیا جائے گا ۔ نمائندہ سیاست کو ایک خصوصی انٹرویو میں مسٹر پریم سنگھ راتھوڑ نے کہا کہ موسیٰ ندی کو اس انداز سے خوبصورت اور صاف ستھرا بنانے کا منصوبہ ہے جس پر حیدرآباد کے عوام کو فخر ہوگا ۔ موسیٰ ندی کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے پریم سنگھ راتھوڑ نے کہا کہ حیدرآباد کا موسیٰ ندی سے خاص تعلق ہے اور موجودہ ٹی آر ایس حکومت موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے سلسلہ میں کام کررہی ہے ۔ 28 ستمبر 1908 کو موسیٰ ندی میں طغیانی آئی تھی اور پانی شہر میں آگیا تھا جس سے بہت بڑی تباہی ہوئی ۔ ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے ۔ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ خطرناک سیلاب آیا تھا ۔ اس لیے نظام ہفتم نے اس طرح کے تباہ کن سیلاب کا تدارک کرنے کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کیا ۔ اور ندی پر ایک فلڈ کنٹرول سسٹم بنایا گیا ۔ 1920 میں شہر سے آگے اوپر کی طرف دس میل کے فاصلہ پر موسیٰ ندی پر ایک ڈیم تعمیر کیا گیا جو عثمان ساگر کے نام سے موسوم ہے ۔ ایک اور ذخیرہ آب حمایت ساگر بھی تعمیر کیا گیا جو موسیٰ ندی کی ذیلی ندی پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ ان ڈیمس کی تعمیر سے سیلاب کو روکنے میں مدد ملی اور یہ دونوں شہروں کو پینے کے پانی کی سربراہی کا بڑا ذریعہ بھی ہیں ۔ کہاوت مشہور ہے کہ ’ جو کوئی گنڈی پیٹ کا پانی پیتا ہے ، حیدرآباد سے کبھی نہیں جاتا ‘ ۔ یہ مقولہ ہوسکتا ہے کہ سچ ہو یا نہیں بہر حال یہ بات تو یقینی ہے کہ ان ذخائر آب سے نہایت صاف پانی جو مینرلس سے بھر پور ہوتا ہے حاصل ہوتا ہے کیوں کہ یہ پانی وقار آباد کے قریب اننت گیری ہلز سے بہہ کر راست ان ذخائر آب میں آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1965 کے بعد اس ندی کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا اور بعد میں اس میں ڈرینج اور سیوریج پانی چھوڑا جانے لگا ۔ اس طرح حمایت ساگر اور عثمان ساگر میں پانی کا بہاؤ کم ہوگیا ۔ موسیٰ ندی اور اس کے اطراف غیر قانونی تعمیرات کی گئیں ۔ ایک طرف اس ندی پر غیر مجاز قبضے کیے گئے اور دوسری طرف سیوریج پانی اس میں چھوڑا گیا ۔ جس کی وجہ اس کی حالت خراب ہوگئی ۔ مسٹر پریم سنگھ راتھوڑ نے کہا کہ پچاس سال بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اب اس ندی کی صفائی اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور موسیٰ ریور کارپوریشن قائم کیا گیا اور پریم سنگھ راتھوڑ کو اس کا چیرمین مقرر کیا گیا اور انہیں جنگی خطوط پر موسیٰ ندی کی صفائی اور اسے خوبصورت بنانے کا کام تفویض کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پلانس کے مطابق کام شروع کئے جارہے ہیں ۔ ندی کے دونوں جانب تین میٹر چوڑا واکنگ ، جاگنگ اور سیکلنگ زون ہوگا اور مابقی جگہ پر گرینری ہوگی جس میں امیوزمینٹ پارکس ہوں گے ۔ اس کے علاوہ نائٹ بازار کا بھی منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا آوٹر رنگ روڈ کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک ایک فلائی اوور تعمیر کیا جاسکتا ہے یا ایک متوازن سڑک تعمیر کی جاسکتی ہے اس کی اسٹڈی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کا بھی منصوبہ ہے ۔ نیز ایک 4 کلومیٹر روئینگ زون کا بھی منصوبہ بنایا جارہا ہے تاکہ فن اسپورٹس کے علاوہ اسپورٹس مقابلے منعقد کئے جاسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام غیر قانونی قبضوں کو برخاست کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں 2000 کروڑ روپئے مصارف کا پلان بنایا گیا ہے اور اس میں 32 کلومیٹر کے کام شروع کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے موسیٰ ندی کو شاندار بنانے کے لیے بورڈ کو پوری آزادی دی ہے ۔ بہترین انجینئرس ، ڈیزائنرس ، پلانرس وغیرہ کو طلب کیا گیا ہے جو جلد ہی چیف منسٹر کو ایک تفصیلی پراجکٹ رپورٹ پیش کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT