Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / موسیٰ ندی کی ترقی پر حکومت تلنگانہ کا منصوبہ اکارت ثابت

موسیٰ ندی کی ترقی پر حکومت تلنگانہ کا منصوبہ اکارت ثابت

405 کروڑ روپیوں کا فضول خرچ ، مرکزی حکومت نے منظوری دینے سے انکار کردیا
حیدرآباد 14 اکٹوبر (سیاست نیوز) حیدرآبادی محاوروں میں ’’پانی کی طرح پیسہ بہانا‘‘ بھی ایک محاورہ ہے اور یہ عموماً اُس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب غیر ضروری پیسہ خرچ کیا جانے لگے۔ لیکن ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی میں 405 کروڑ روپئے بہادیئے ہیں اور پہلے مرحلہ میں جو گزشتہ 15 سال سے جاری ہے 405 کروڑ 31 لاکھ روپئے خرچ کئے جانے کے بعد کوئی ترقیاتی کام نہ ہونے کے سبب دوسرے مرحلہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے منظوری حاصل نہیں ہوئی بلکہ منصوبہ کو مسترد کردیا گیا۔ ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو سال 2011 ء میں رودِ موسیٰ کو خوبصورت بنانے کے لئے تیار کردہ منصوبہ کے دوسرے مرحلہ کو 750 کروڑ روپئے جاری کرنے کی سفارش روانہ کی تھی لیکن اِس منصوبہ کو مرکزی حکومت نے یکسر مسترد کردیا ہے اور واضح طور پر یہ کہا ہے کہ یہ منصوبہ اب مزید قابل عمل نہیں ہے۔ ماہرین ماحولیات کے بموجب احمدآباد سابرمتی ندی کے طرز کے منصوبہ کی تیاری تک کوئی ترقیاتی کام رودِ موسیٰ میں ناقابل عمل ہے۔ چونکہ رودِ موسیٰ میں شہر سے خارج ہونے والی گندگی کی راست پائپ لائن کئی مقامات پر چھوڑی گئی ہے جنھیں روکا جانا انتہائی ضروری ہے۔ موسیٰ ندی سے گندگی اور فضلہ کی نکاسی کے لئے 5 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کئے گئے تھے جن کی گنجائش 592 ایم جی ڈی ہے۔ اس کے باوجود بھی پہلے مرحلہ میں تعمیر کردہ اِن ایس ٹی پی سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ عنبرپیٹ، ناگول، نلا چیرو، ضیاء گوڑہ اور عطاء پور کے قریب تعمیر کئے گئے یہ ایس ٹی پی تاحال مکمل طور پر کارکرد بھی نہیں ہوپائے۔ اِسی طرح موسیٰ ندی میں ربر ڈیم کی تعمیر کے لئے حکومت نے 50 کروڑ روپئے خرچ کئے لیکن اس کے بھی کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ ربر ڈیم کا مقام مچھروں کی افزائش کے مرکز میں تبدیل ہوگیا۔ ماہرین ماحولیات کے بموجب دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے لئے سیوریج نظام 1931 ء میں عنبرپیٹ میں تعمیر کیا گیا تھا جس کی گنجائش 12 ایم جی ڈی ہوا کرتی تھی اور یہ گنجائش کے اعتبار سے 5 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کے لئے کافی تھا لیکن گزشتہ 84 برسوں کے دوران شہری علاقہ میں وسعت اور آبادی کے 90 لاکھ پہونچنے کے بعد بھی اِسی نظام پر ابھی تک انحصار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے کئی نالے موسیٰ ندی میں چھوڑے جارہے ہیں۔ شہر کے اطراف میں 30 کیلو میٹر کے حدود میں موجود 12 صنعتی علاقے ہیں جہاں سے مختلف کمیکل اور آلودہ پانی رودِ موسیٰ میں چھوڑا جاتا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ موجود اِس ندی کو خوبصورت بنانے کے منصوبہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ازسرنو منصوبے کی تیاری اور سابرمتی ریور فرنٹ کے طرز پر منصوبہ تیار کرتے ہوئے علیحدہ ادارہ کا قیام ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT