Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / موصل میں عراقی اسپیشل فورسیس کی پیشرفت جاری ، گھمسان کی لڑائی

موصل میں عراقی اسپیشل فورسیس کی پیشرفت جاری ، گھمسان کی لڑائی

کئی عمارتوں کا تخلیہ ، جانی و مالی نقصانات کم کرنے کی حکمت عملی ، وسطی شہرمیں سخت مزاحمت کا اندیشہ

موصل ۔5 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) عراقی اسپیشل فورسیس نے آئی ایس دہشت گردوں کے خلاف محاصرہ تنگ کرتے ہوئے مشرقی موصل میں داخل ہوکر پڑوسی علاقوں کی کئی عمارتوں کا تخلیہ کرادیا ۔ آج صبح بھی گھمسان کی لڑائی جاری رہی اور دونوں طرف سے مارٹرس اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ۔ عراقی فوج نے آئی ایس کی فائرنگ کا موثر جواب دیا ۔ اس کے علاوہ پڑوسی البکر علاقہ میں شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ کئی رہائشی علاقوں میں گھروں کی چھت پر نشانہ باز موجود ہیں ۔ یہاں اکثر دو منزلہ عمارتیں ہیں ۔ عراقی اسپیشل فورسیس کے میجر جنرل سمیع العریدی نے بتایا کہ داعش شہر کے وسطی علاقہ میں موجود ہیں اور ہمیں پیشرفت کرتے ہوئے کافی محتاط رہنا ہوگا ۔ انھوں نے کہاکہ آئندہ مرحلہ انتہائی گنجان آبادی والے علاقوں کا ہے اور یہاں فوجی و عام شہری نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے ہمیں سخت چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ انھوں نے بتایاکہ تحریر اور زہرا اضلاع میں بیشمار عام شہری اپنے مکانات سے باہر نکل آئے ہیں۔ ان میں سے اکثر سفید پرچم تھامے ہوئے ہے اور انھیں محفوظ مقام منتقل کیا جارہا ہے ۔ اسپیشل فورسیس نے موصل کے شہری مرکز میں داخل ہونے کیلئے دو رخی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔

اُسے جہاں سڑکوں پر آئی ایس دہشت گردوں سے لڑائی کا سامنا ہے وہیں مرکزی علاقہ میں سخت مزاحمت سے بھی دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ تین ہفتے قبل شروع کی گئی اس لڑائی میں 7 اسپیشل فورسیس کے فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی زیرقیادت اتحادی فوج کی فضائی مدد کے ساتھ تین ہزار سے زیادہ عراقی فوجی اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں ۔ تاہم لڑائی کی رفتار کافی سست ہے ، کیونکہ عراقی فورس دیہاتی علاقوں میں مقابلہ کررہی ہے جہاں شہریوں کی تعداد کم ہے اور تنگ سڑکیں رہنے کی وجہ سے بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ تقریباً 7 خودکش حملہ آوروں نے کل عراقی فورسیس کو نشانہ بنایا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ موصل پر کنٹرول کیلئے جاری آپریشن مزید چند ہفتے چلے گا ۔ ایک پڑوسی علاقہ سے دوسرے علاقہ اور ایک گھر سے دوسرے گھر ہوتے ہوئے یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ کوشش اس بات کی ہورہی ہے کہ نقصانات کو کم سے کم کیا جائے ۔ تقریباً ایک ملین شہری اب بھی شہر میں موجود ہیں اور عراقی فورسیس کی پیشرفت اس وجہ سے پیچیدہ ہوتی جارہی ہے ۔ آئی ایس دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو شہر کے وسطی علاقہ میں لے جاکر اُنھیں انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کررہے ہیں ۔ موصل عراق میں آئی ایس کا آخری اور سب سے بڑا طاقتور گڑھ ہے اور یہاں سے اس دہشت گرد گروپ کا صفایہ خود ساختہ نظام ِ خلافت کی بقا کیلئے ایک بڑا دھکہ ہوگا ۔

ابوبکر البغدادی موصل سے فرار !
موصل میں جاری گھمسان کی لڑائی کے دوران یہ اطلاع ملی ہے کہ آئی ایس سربراہ اور نام نہاد خلیفہ ابوبکر البغدادی نے موصل سے راہ فرار اختیار کی ہے۔ برطانیہ کے معتمد خارجہ بورس جانسن نے مغربی انٹلیجنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بغدادی اب موصل میں موجود نہیں ہے۔ ابوبکر البغدادی نے تقریباً ایک سال طویل خاموشی کو ختم کرتے ہوئے آڈیو ریکاڈنگ جاری کی تھی جس میں جہادیوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پوری شدت کے ساتھ لڑائی جاری رکھیں۔ بورس جانسن نے ابوبکر البغدادی کی آڈیو ریکارڈنگ کے حوالے سے حیرت کا اظہار کیا اور کہاکہ انٹلیجنس اطلاعات کے مطابق وہ موصل سے جاچکا ہے اور وہ دوسروں کو تشدد میں حصہ لینے کیلئے اُبھارنے کے مقصد سے انٹرنیٹ میڈیا کا استعمال کررہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT