Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / موصل میں پولیس اور فوج ہتھیار چھوڑ کر فرار

موصل میں پولیس اور فوج ہتھیار چھوڑ کر فرار

موصل (عراق) ۔ /10 جون( سیاست ڈاٹ کام)دہشت گردوں نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں ایرپورٹ ، ٹی وی اسٹیشنوں اور گورنر آفسیس پر قبضہ کرلیا اور پولیس و فوج نے اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ سکیورٹی فورسیس کی نااہلی نے وزیراعظم نورالمالکی کی جانب سے ملک کو متحد رکھنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات پیدا کردیئے ہیں ۔ عراق کے استحکام کو لاحق خ

موصل (عراق) ۔ /10 جون( سیاست ڈاٹ کام)دہشت گردوں نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں ایرپورٹ ، ٹی وی اسٹیشنوں اور گورنر آفسیس پر قبضہ کرلیا اور پولیس و فوج نے اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ سکیورٹی فورسیس کی نااہلی نے وزیراعظم نورالمالکی کی جانب سے ملک کو متحد رکھنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات پیدا کردیئے ہیں ۔ عراق کے استحکام کو لاحق خطرات بڑھتے جارہے ہیں اور نورالمالکی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر لڑائی میں شریک ہوں اور انہوں نے ہتھیار و اسلحہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ انہوں نے سرکاری ٹیلیویژن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے شہر کو دہشت گردوں کے حوالے ہونے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جائے ۔

موصل اور اطراف کے صوبہ نینوہ پر دہشت گردوں نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور لوگ خوف کے عالم میں اپنا ساز و سامان لئے یہاں سے روانہ ہورہے ہیں ۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار نے بتایا کہ صورتحال بے قابو ہوچکی ہے اور موصل شہر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے ۔ سپاہیوں اور پولیس نے اپنے یونیفارم اتاردیئے اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ دہشت گردوں نے لاؤڈاسپیکرس کے ذریعہ یہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے شہر کو آزاد کرالیا ہے ۔ تجارتی ادارے بند کردیئے گئے اور ایک پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کیا گیا ۔ ہزاروں افراد کو پیدل اپنے ساز و سامان کے ساتھ روانہ دیکھا گیا جبکہ کئی لوگ اپنی گاڑیوں میں فرار ہورہے ہیں اور گاڑی کی چھت پر ساز و سامان کے ڈھیر دیکھے گئے ۔ شہر کے ایک چیک پوائنٹ پر ہزاروں کاریں اور ٹرکس جمع ہوگئی ہیں جہاں عوام کو کافی مشکلات پیش آئی ۔

فوجی جنرل نے کہا کہ حملہ آواروں نے صوبائی حکومت کے ہیڈکوارٹر اور نینوہ آپریشن کمانڈ کے ساتھ ساتھ ایرپورٹ پر قبضہ کرلیا ۔ انہوں نے تین جیلوں سے کئی قیدیوں کو رہا کرالیا ۔ موصل میں واقع ترک قونصل خانے کے بموجب دہشت گردوں نے 28 ترک ڈرائیورس کو پکڑ لیا ۔ وزارت خارجہ کے عہدیدار نے توقع ظاہر کی کہ انہیں رہا کردیا جائے گا ۔ وزیراعظم نورالمالکی نے کہا کہ کابینہ نے دہشت گردوں سے لڑائی کیلئے شہریوں کو مسلح کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس لڑائی میں کئی افراد ہلاک ہوگئے اور ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر فرار ہونے کیلئے مجبور ہوگئے ۔ بندوق برداروں نے عراق یونیورسٹی پر بھی قبضہ کرلیا ہے ۔

بیسیوں عسکریت پسندوں نے عراق کے شمالی شہر موصل میں صوبائی حکومت کے مستقر پر حملہ کردیا جس کی وجہ سے حکومت عراق کی بڑھتی ہوئی شورش پسندی پر قابو پانے کی کوششوں کو سخت دھکہ لگا۔ شورش پسندوں نے کل دیر گئے ہیڈ کوارٹرس کی عمارت پر کئی دن کی جھڑپوں کے بعد قبضہ کرلیا۔ شہر موصل القاعدہ کا سابق مستحکم گڑھ سمجھا جاتا ہے اور عراق کے زیادہ شورش پسند علاقوں میں سے ایک ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ جنگجوؤں کا الحاق اسلامی ریاست عراق اور لیوانٹ نامی تنظیموں سے ہیں جو القاعدہ کے علحدہ ہوجانے والے گروپس ہیں اور عراق میں کئی خونریز حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں انتہائی بے رحم باغی طاقتیں سمجھا جاتا ہے جو پڑوسی ملک شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کا سختہ الٹنے کیلئے جنگ کررہے ہیں۔ کئی مقامی شہریوں نے اطلاع دی ہے کہ بندوق برداروں کو سیاح پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا ہے

جن پر اسلامی اعلامیہ درج ہے۔ ایسے پرچم آئی ایس آئی ایل ،القاعدہ اور دیگر جہادی گروپس کی جانب سے استعمال کئے جاتے ہیں۔ صوبائی گورنر عتیل النجفی جو قریبی گیسٹ ہاوز میں مقیم تھے لیکن اس علاقہ سے غیر مسلح حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر اُسامہ النجفی کے بھائی ہیں۔ قبل ازیں بندوق برداروں نے شہر کے کئی پولیس اسٹیشنوں کو نذر آتش کردیا اور حوالات میں موجود قیدیوں کو رہا کروالیا تھا۔ موصل میں یہ حملے عراق میں بدترین تشدد کے عروج کے دوران پیش آئے جبکہ 2006 اور 2007 سے فرقہ وارانہ خونریزی جاری ہے ۔ آئی ایس آئی ایل کے شورش پسند اور ان کے حلیف فلوجہ اور صوبہ انبار کے دیگر علاقوں پر قابض ہیں اور طویل عرصہ سے شام کے زیر قبضہ سرحد پار کرتے رہتے ہیں۔ عسکریت پسند وقفہ وقفہ سے باہم ہم آہنگی کے ذریعہ دارالحکومت بغداد اور شہر کے دیگر علاقوں پر بھی حملے کرتے رہے ہیں۔ دریں اثناء عراقی عہدیداروں نے کہا کہ بغداد کے وسطی علاقہ میں ایک جلوس جنازہ کے دوران بم حملہ ہوا جس سے کم از کم 20افراد ہلاک اور 27 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے بموجب بم حملہ اس وقت ہوا جبکہ سنی یونیورسٹی کے پروفیسر کی جنہیں ایک دن قبل ہلاک کردیا گیا تھا تدفین جاری تھی۔

TOPPOPULARRECENT