موصل پر ’داعش‘ قبضے کے بعد پانچ لاکھ افراد کی نقل مکانی

بغداد، 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) نقل مکانی سے متعلق جنیوا میں قائم بین الاقوامی انجمن کا کہنا ہے کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد پانچ لاکھ افراد شہر چھوڑ چکے ہیں۔ عراقی حکام نے موصل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ جبکہ داعش کی پیش رفت جاری ہے۔ اس سے عراق میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ تنظیم نے اپنے ذرائع ک

بغداد، 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) نقل مکانی سے متعلق جنیوا میں قائم بین الاقوامی انجمن کا کہنا ہے کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد پانچ لاکھ افراد شہر چھوڑ چکے ہیں۔ عراقی حکام نے موصل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ جبکہ داعش کی پیش رفت جاری ہے۔ اس سے عراق میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ تنظیم نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش کی جانب سے موصل پر قبضے کے بعد سے تقریباً 500,000 لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ القاعدہ نواز تنظیم ’داعش‘ کے جنگجوؤں نے آئل ریفائنری والے بیجی قصبے میں پیش قدمی کر دی ہے۔ داعش کے جنگجوؤں نے قصبے کے ایوان عدل اور پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی ہے۔ ریفائنری کی حفاظت پر 250 محافظ مامور ہیں اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے مقامی قبائل کے شیوخ پر مشتمل ایک وفد مذاکرات کیلئے بھیجا ہے تاکہ محافظ ہتھیار ڈال دیں۔ ریفائنری کے محافظوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ انہیں کسی دوسرے قصبے میں بحفاظت پہنچا دیا جائے۔ داعش کے جنگجوؤں نے منگل کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل اور اس سے متصل صوبہ نینوا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ موصل کے مشرقی قصبے بشھیقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے فون پر بتایا ہے کہ سرکاری اور بینکوں کی عمارات پر مسلح افراد تعینات ہیں جبکہ درجنوں خاندان اب بھی شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ داعش نے کرکوک کے زعب اور عباسی علاقوں کو قبضے میں لے لیا ہے جبکہ حویجہ اور رشاد کی سرحد پر ابھی تک جنگ جاری ہے۔ ا

س دوران وزیر اعظم نوری المالکی نے موصل میں اسلامی عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد شہریوں کو اسلحہ دینے کی پیش کش کی ہے تاکہ وہ عسکریت پسندوں کے مقابل کھڑے ہو سکیں۔ وزیر اعظم نے یہ اپیل سرکاری افواج کے شہر کے شمالی حصے سے کنٹرول کے مکمل طور پر ختم ہوجانے اور علاقہ چھوڑ دینے کے کچھ ہی گھنٹے بعد کی ہے۔ مالکی نے سرکاری ٹی وی پر بتایا ہے کہ کابینہ نے بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے خصوصی سل قائم کیا ہے جو شہریوں کو بطور رضاکار منظم کرنے کے علاوہ اسلحہ سے لیس کرے گا۔ دریں اثناء نینوا کے گورنر نوزاد ہادی نے الزام لگایا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت صوبہ نینوا میں اس کے دارالحکومت موصل سمیت بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ گورنر نے کہا، ’’عراقی فورسز جدید ترین امریکی اسلحے سے لیس ہیں لیکن وزیراعظم کی پالیسیوں کی وجہ سے ناکام ہو رہی ہیں‘‘۔ گورنر ہادی کے بقول یہ ایک حقیقی سانحہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT