موصل ڈیم پر قبضہ بحال کرنے کرد افواج کی مساعی

سلیمانیہ ( عراق ) 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کردش افواج نے امریکی جنگی طیاروں کی بمباری کے دوران عراق کے سب سے بڑے ڈیم موصل ڈیم پر کنٹرول بحال کرنے کیلئے اپنی کارروائی شروع کردی ہے ۔ اس ڈیم پر آئی ایس آئی ایس جہادیوں کا قبضہ ہوگیا ہے ۔ ایک سینئر کرد فوجی عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ میجر جنرل عبدالرحمن کورینی نے بتایا کہ کرش پشمرگہ کی جانب سے

سلیمانیہ ( عراق ) 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کردش افواج نے امریکی جنگی طیاروں کی بمباری کے دوران عراق کے سب سے بڑے ڈیم موصل ڈیم پر کنٹرول بحال کرنے کیلئے اپنی کارروائی شروع کردی ہے ۔ اس ڈیم پر آئی ایس آئی ایس جہادیوں کا قبضہ ہوگیا ہے ۔ ایک سینئر کرد فوجی عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ میجر جنرل عبدالرحمن کورینی نے بتایا کہ کرش پشمرگہ کی جانب سے امریکی طیاروں کی مدد سے ڈیم کے مشرقی حصہ پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کرد افواج کی جانب سے داعش کے کئی ارکان کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ کرد افواج کی جانب سے پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ گھنٹوں میں بھی پیشرفت جاری رہیگی اور کچھ اچھی اطلاعات مل سکتی ہیں۔

عینی شاہدین نے کہا کہ آج صبح کی اولین ساعتوں میں امریکی جنگی طیاروں کی جانب سے اس علاقہ میں بمباری کی گئی ہے اور دوپہر سے لڑائی کا سلسلہ جاری ہے ۔ کرد افواج 7 اگسٹ کو اس ڈیم پر کنٹرول سے محروم ہوگئی تھیں کیونکہ آئی ایس آئی ایس عسکریت پسند اس علاقہ میں کارروائی کرتے ہوئے وہاں تک پہونچ گئے تھے اور انہوں نے اس علاقہ میں کئی گاووں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ انہوں نے یہاں تیل کے کنووں کے علاوہ اہم تنصیبات پر قابو کرلیا تھا ۔ موصل ڈیم سے علاقہ میں ایک وسیع خطہ کو برقی سربراہ کی جاتی ہے اور صوبہ نینوا کے وسیع زرعی علاقہ کو پانی کی سربراہی بھی یہیں سے عمل میں آتی ہے ۔ یہ ڈیم شہر کے 50 کیلومیٹر شمال میں دریائے تگریس کے کنارے پر واقع ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ شمالی عراق کے ایک گاوں میں آئی ایس آئی ایس کی جانب سے کئے گئے قتل عام کی تفصیلات اب سامنے آنے لگی ہیں۔

کہا گیا ہے کہ درجنوں عام شہریوں کو یہاں آئی ایس آئی ایس کی جانب سے ہلاک کردیا گیا تھا جو یزیدی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں داعش کی جانب سے سے اس طرح کی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں اور انہوں نے تقریبا 80 افراد کو ہلاک کردیا تھا ۔ عراق کی ایک بڑی کرد جماعت کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ کم از کم 81 افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا ۔ ایک یزیری کارکن کا کہنا تھا کہ مہلوکین کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے ۔ یہ گاؤں ٹاؤن سنجار کے شمال مغرب کی سمت واقع ہے جہاں عسکریت پسندوں نے 3 اگسٹ کو حملہ کیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے داعش کے خلاف کرد کو مستحکم کرنے کے عمل کا بھی آعاز کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ داعش کے معاشی وسائل کو منقطع کرنے ‘ کردوں کو ہتھیار فراہم کرنے جیسے اقدامات عالمی طاقتوں کی جانب سے شروع کردئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT