Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / موصل کو داعش کے قبضہ سے آزاد کروانا اہم کارنامہ ہوگا : امریکہ

موصل کو داعش کے قبضہ سے آزاد کروانا اہم کارنامہ ہوگا : امریکہ

گزشتہ کئی ماہ سے جاری تیاریوں پر موثر عمل آوری جاری ، دولت اسلامیہ بوریا بستر باندھ لے

واشنگٹن۔ 18 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ عراقی فوجیں موصل کو داعش کے قبضہ سے چھڑانے کے لئے انتہائی برق رفتاری سے پیشرفت کررہی ہیں، وہیں امریکہ نے بھی ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر داعش نے جس طرح موصل کو اپنا ’’خود ساختہ دارالخلافہ‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے، وہاں سے انہیں پسپا کرنا واقعتاً ایک کارنامہ ہوگا۔ وائیٹ ہاؤز پریس سیکریٹری جوش ارنیسٹ نے کل اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر موصوف ہی وہ پہلے شخص ہوں گے جنہیں اس کارروائی کی ستائش کرنی چاہئے کیونکہ دولت اسلامیہ عالمی سطح پر تقریباً تمام ممالک کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے، لہذا موصل سے اگر اسے نکال باہر کیا گیا تو یہ حکمت عملی کی زبردست فتح ہوگی۔ موصل کی آبادی اور اس کے وسیع و عریض جغرافیائی رقبہ کو مدنظر رکھا جائے تو وہاں عراقی فورسیس کی کامیابی یقیناً ایک کارنامہ ہوگی۔ موصل میں اپنے کنٹرول کو قائم رکھنے کیلئے داعش نے کافی جدوجہد کی ہے اور اس جدوجہد کو ختم کرنا اب عراقی فورسیس کا کام ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارنیسٹ نے کہا کہ ہم نے موصل کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور دولت اسلامیہ کو شکست دینا ہمارا نصب العین ہے جس کی تیاریاں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہیں۔ موصل کی لڑائی اب ہماری سب سے بڑی آزمائش ہے جس کی جانب ہم نے پیشرفت کا آغاز کردیا ہے اور بالکل اسی طرح جس طرح ہم نے تکریت اور رمدی شہروں کو دوبارہ حاصل کیا۔ موصل بھی جلد ہماری جھولی میں ہوگا اور یہ تمام کام عراقی فورسیس ، امریکہ اور اس کے کولیشن شراکت داروں کے تعاون سے ہی ممکن ہوا ہے۔ امریکہ نے عراقی 67 رکنی اتحاد قائم کیا ہے تاکہ عراقی حکومت کو ہر ممکنہ تعاون دیا جاسکے کیونکہ صرف اسی طرح عراق سے دولت اسلامیہ کے قدم ہمیشہ کیلئے اُکھڑ سکتے ہیں۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا کوئی پتہ نہیں کہ موصل میں کئے جانے والے آپریشن کی تکمیل کی کوئی مخصوص مدت مقرر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ موصل عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں دولت اسلامیہ نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ دیگر شہروں سے قدم اُکھڑنے کے بعد موصل دولت اسلامیہ کی آخری پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں سے عنقریب انہیں ایک بار پھر اپنی جان بچاکر بھاگنا ہوگا۔ دوسری طرف پینٹگان کے پریس سیکریٹری پیٹرکوک کے موصل میں عراقی فورسیس کے آپریشن کو فیصلہ کن بتایا اور کہا کہ اب یا تو ہم نہیں یا وہ نہیں۔ موصل کی تاریخی طور پر بڑی اہمیت ہے۔ یہاں تقریباً ہر فرقہ کے لوگ آباد ہیں جو دولت اسلامیہ کی نفرت والی پالیسی کے عین مغائر ہے۔ پیٹر کوک نے کہا کہ عراقی فورسیس کو 60 ملکی والی اتحاد کا تعاون حاصل ہے اور کارروائی اس قدر متاثرکن ہوسکتی ہے کہ جلد ہی دولت اسلامیہ کو بوریا بستر باندھنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT