موقوفہ اراضی پر قائم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مسجد نہیں

سینکڑوں طلبہ کو نماز جمعہ کی ادائیگی میں مشکلات حکام کی اجازت پر ایک کروڑ روپئے کے مصارف سے مسجد تعمیر کرنے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا اعلان

سینکڑوں طلبہ کو نماز جمعہ کی ادائیگی میں مشکلات
حکام کی اجازت پر ایک کروڑ روپئے کے مصارف سے مسجد تعمیر کرنے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا اعلان

حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : موقوفہ زمین ، اس پر قائم یونیورسٹی میں تقریبا طلبہ مسلم ، لیکن اس موقوفہ اراضی یعنی ہمدردان ملت کی جانب سے ملت کی خدمت کے لیے اللہ کی راہ میں وقف کردہ اراضی پر نماز کی ادائیگی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی گچی باولی 212 ایکڑ موقوفہ اراضی پر قائم ہے ۔ اس یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کی اکثریت ہے ۔ لیکن نمازوں کی ادائیگی کے لیے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا ہے ۔ نماز جمعہ میں دو سو سے زائد طلبہ شریک تھے ۔ اور نماز یونیورسٹی کے اسپورٹس کامپلکس میں ادا کی گئی ۔ نماز جمعہ کے لیے بنیادی سہولتوں کا فقدان تھا ۔ 1998 میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت اس قومی اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اور اس کے لیے درگاہ حسین شاہ ولیؒ کے تحت جو تقریبا 1700 ایکڑ موقوفہ اراضی تھی اس میں سے 212 ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ۔

وقف بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ نے اب تک اس قیمتی موقوفہ اراضی کا معاوضہ حاصل نہیں کیا حالانکہ اسے ہزاروں کروڑ روپیوں کی آمدنی حاصل ہوسکتی تھی ۔ بعض طلباء اور یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے نماز جمعہ پارکنگ کی جگہ ادا کی جاتی تھی اور اب انڈور اسٹیڈیم ( اسپورٹس کامپلکس ) میں ادا کی جارہی ہے ۔ لیکن یونیورسٹی حکام پھر ایکبار پارکنگ لاٹ میں ہی نماز جمعہ کی اجازت دینے کے خواہاں ہیں ۔ چند درد مند طلبہ نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کو وقف اراضی پر قائم کی گئی یونیورسٹی میں مسجد نہ ہونے کے بارے میں واقف کروایا جس پر ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ یونیورسٹی میں مسجد کی تعمیر کے لیے 700 مربع گز اراضی کی نشاندہی کی جائے اور حکام وہاں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت حاصل کرلیں تو وہ ایک کروڑ روپئے کے مصارف سے وہاں ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کروانے کے لیے تیار ہیں ۔ انہوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ موقوفہ اراضی ہونے کے باوجود اس پر مسجد کی عدم تعمیر عوام کے ذہنوں میں کئی ایک سوالات پیدا کرتی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT