Tuesday , October 16 2018
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد اور سرسید ہندو ، مسلم اتحاد کے علمبردار

مولانا آزاد اور سرسید ہندو ، مسلم اتحاد کے علمبردار

اردو یونیورسٹی میں پروفیسر اختر الواسع کا مولانا آزاد یادگاری خطبہ
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : مولانا آزاد اور سرسید احمد خاں تکثیریت اور کثرت میں وحدت پر ایقان رکھنے والے قائدین تھے ۔ دراصل دونوں کی فکر کا ماخذ قدیم ہندوستانی تمدن اور اسلامی تہدیب کا ایک خوبصورت امتزاج ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پدم شری اخترالواسع ، پروفیسر امیریٹس ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی نے کیا ۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں یوم آزاد تقاریب کے سلسلہ میں منعقدہ مولانا آزاد یادگاری خطبہ دے رہے تھے ۔ ان کے خطبے کا عنوان ’ تہذیبی تکثیریت کے علم بردار : سرسید اور مولانا آزاد ‘ تھا ۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز وائس چانسلر نے صدارت کی ۔ پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ دونوں قائدین پر آشوب عہدوں کے عینی شاہد تھے ۔ جہاں سرسید نے 1857 کی ہولناکی دیکھی وہیں مولانا آزاد نے جدوجہد آزادی کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ دونوں حتی الامکان قوم کو سنبھالنے اور ایک صحیح سمت دینے کی کوشش کرتے رہے ۔ انہوں نے دونوں قائدین کے قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کے نظریہ کی وضاحت کے لیے ان کی تحریروں اور تقریروں سے اقتباسات پیش کئے ۔ انہوں نے مولانا آزاد کی تقریر کا اقتباس سنایا جس میں مولانا نے کہا تھا ’ ہم میں اگر کچھ ہندو چاہتے ہیں کہ ایک ہزار برس پہلے کی ان کی زندگی واپس لے آئیں اور اسی طرح اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ گزری ہوئی تہذیب اور معاشرت کو پھر تازہ کریں ، جو ایک ہزار برس پہلے ایران اور وسط ایشیا سے لائے تھے تو یہ دونوں خواب دیکھ رہے ہیں جو پورا نہیں ہوسکتا ۔ دونوں کو زمینی حقیقتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد پر ڈاکیومنٹری اور یوم آزاد تقاریب کی جھلکیوں پر مشتمل فلم دکھائی گئی ۔ طلباء وطالبات نے یونیورسٹی کا گلزار کا لکھا ہوا ترانہ ، علی سردار جعفری کا لکھا ہوا ترانہ اردو اور قومی ترانہ ساز پر پیش کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT