Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی مستقبل قریب میں انگلش میڈیم میں تبدیل

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی مستقبل قریب میں انگلش میڈیم میں تبدیل

اہم عہدیدار و صدر شعبہ جات غیر اردو داں ، ذریعہ تعلیم کی تبدیلی ناممکن ، ظفر سریش والا
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بتدریج اپنے ذریعہ تعلیم میں تبدیلی کی طرف پیشقدمی کررہی ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد اگرچہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ ہے لیکن یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے گزشتہ 17برسوں کے دوران کبھی بھی اردو ذریعہ تعلیم کو عام کرنے پر توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم 90فیصد تک انگریزی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ٹیچنگ اسٹاف کی اکثریت غیر اردو داں ہے اور وہ اردو میں نصابی کتب کی عدم موجودگی کا بہانہ بناکر انگریزی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے اہم عہدوں پر فائز افراد نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ سابق میں کسی بھی وائس چانسلر نے اردو زبان میں ذریعہ تعلیم کو عام کرنے پر توجہ نہیں دی۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے یہاں تک پیش قیاسی کی ہے کہ آئندہ چند برسوں میں یونیورسٹی مکمل طور پر انگلش میڈیم میں تبدیل ہوجائے گی۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقررات میں کی گئی من مانی اور دھاندلیوں کے ذریعہ اردو کو نقصان پہنچایا گیا۔ یونیورسٹی پر طویل عرصہ سے راج کرنے والے شمالی ہند کے گروہ نے اردو کے فروغ کے بجائے اقرباء پروری اور بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجہ میں ملک کی پہلی قومی اردو یونیورسٹی کا مستقبل خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ جس طرح عثمانیہ یونیورسٹی کا ابتدائی ذریعہ تعلیم اردو تھا لیکن بعد میں اردو کی جگہ انگریزی نے لے لی، اسی طرح اردو یونیورسٹی صرف نام رہ جائے گا لیکن تعلیم انگریزی زبان میں ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام اہم کورسیس کی تعلیم انگریزی میں دی جارہی ہے جن میں ایم بی اے، جرنلزم ، انٹگریٹیڈ کورسیس اور دیگر کورسیس شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ اردو میں نصابی کتب دستیاب نہیں جس کے سبب پروفیسرس اور لکچررس کو انگریزی کتابوں سے استفادہ کرنا پڑ رہا ہے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار نے یہاں تک کہہ دیا کہ انگریزی میں تعلیم دینا یونیورسٹی کی مجبوری ہے اور اساتذہ انگریزی کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے اردو میں سمجھارہے ہیں اور طلبہ کو اپنے کورس سے متعلق تعلیم کیلئے انگریزی کتابوں سے استفادہ کرنا ہوگا۔ رجسٹرار نے کہا کہ اردو زبان میں نصابی کتب کی دستیابی ممکن ہی نہیں ہے لہذا طلبہ کو انگریزی کتابوں سے استفادہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کے وقت ٹرانسلیشن ڈیویژن قائم کیا گیا تھا تاکہ نصابی کتب انگریزی میں ترجمہ کئے جائیں لیکن اس ڈیویژن کو ٹیچنگ زمرہ میں تبدیل کرتے ہوئے ٹرانسلیشن ڈپارٹمنٹ نام دیا گیا تاکہ وہاں کام کرنے والوں کی وظیفہ پر سبکدوشی کی حد عمر میں اضافہ ہو۔ گزشتہ 17برسوں میں اس ڈپارٹمنٹ نے کچھ کام نہیں کیا برخلاف اس کے اردو کے معمولی ترجمہ کا کام بھی بیرونی اداروں سے لیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں اہم اداروں کے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس اور اساتذہ کی اکثریت غیر اردو داں بتائی جاتی ہے۔ یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے اگرچہ ذریعہ تعلیم میں تبدیلی کے امکانات کو مسترد کردیا تاہم یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی انگریزی میں تعلیم کے رجحان کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ اسی دوران یونیورسٹی نے سیول سرویسس ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈیمی کے ذریعہ سیول سرویسس امتحانات اور پریلمس کی مفت کوچنگ کا اعلامیہ جاری کیا۔ یہ کوچنگ ملک کے 15مراکز پر دی جائے گی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مفت کوچنگ کے نام پر ہر طالب علم سے 2575 روپئے بطور فیس اور 3000 روپئے قابل واپسی ڈپازٹ کے طور پر وصول کئے جائیں گے۔ جب مفت کوچنگ ہے تو پھر معمولی فیس کے نام پر طلبہ پر تقریباً 6ہزار روپئے کا بوجھ عائدکرنا کہاں کا انصاف ہے۔ فری کوچنگ کے نام پر یہ طلبہ سے مذاق اور استحصال ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دراصل ڈسٹینس ایجوکیشن میں فنڈز کی کمی ہے جس کی تکمیل کیلئے فری کوچنگ کے نام پر فیس کی وصولی کا فیصلہ کیا گیا۔ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ جن 15مراکز پر کوچنگ کا اعلان کیا گیا وہاں سیول سرویسس کی کوچنگ کے قابل اسٹاف موجود نہیں صرف رقومات حاصل کرنے کیلئے برائے نام فرضی کوچنگ کا اعلان کردیا گیا اور منتخب امیدواروں میں 20فیصد طلبہ کو ماہانہ 2000/- روپئے اسٹائیفنڈ کی پیشکش کی جارہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT