Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اسکامس کی تحقیقات ، تقررات کا بھی جائزہ

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اسکامس کی تحقیقات ، تقررات کا بھی جائزہ

میڈیا کوآرڈینٹر کی میعاد میں توسیع کی سفارش مسترد ، وائس چانسلر کے موقف پر ناراضگیاں ممکن
حیدرآباد۔7اپریل ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں وائی فائی کی تنصیب سے متعلق اسکام کی جانچ مکمل ہوچکی ہے ۔ پروفیسر سلیمان صدیقی کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی اس اسکام کی جانچ کررہی تھی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے کئی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے جس کے ذریعہ اس اسکام کے خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور اس کی سفارشات پر یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کونسل فیصلہ کی مجاز ہے ۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے نامزد کئے جانے کے بعد ڈاکٹر اسلم پرویز نے اس معاملہ کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔ موجودہ وائس چانسلر یونیورسٹی میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران کی گئی دیگر بے قاعدگیوں کی جانچ کا منصوبہ بنایا ہے ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات پر مرحلہ وار عمل آوری کا تیقن دیا گیا ۔ ڈاکٹراسلم پرویز پر سابق وائس چانسلر محمد میاں کے حامیوں کی جانب سے اثرانداز ہونے کی کوششیں جاری ہیں ‘ تاہم بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز کسی دباؤ کے بغیر کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے یونیورسٹی میں کئے گئے تمام تقررات سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ تقررات میں بے قاعدگیوں اور تقرر کے وقت داخل کئے گئے اسنادات کی جانچ کی جاسکے ۔ اس فیصلہ سے یونیورسٹی کے کئی شعبوں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے ۔  یونیورسٹی کے بعض پروفیسرس کا ماننا ہے کہ بے قاعدگیوں کی جانچ کے سلسلہ میں وائس چانسلر کو مختلف سطح پر مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں غیر اردو داں ٹیچنگ اسٹاف کو اردو سکھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مخالفت شروع ہوچکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں 14سے زائد پروفیسرس غیر اردو داں ہیں جب کہ یونیورسٹی میں تقرر کیلئے اردو داں ہونا اہم شرط ہے ۔ اسی دوران وائس چانسلر نے محمد میاں کے دور میں تقرر کردہ میڈیا کوآرڈینیٹر کی خدمات میں توسیع سے انکار کردیا ۔ اس طرح میڈیا کوآرڈینیٹر 60سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے ۔ محمد میاں کے دور میں میڈیا کوآرڈینیٹر کا کئی اہم فیصلوں میں اہم رول تھا اور وہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے وزیرباتدبیر کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔ محمد میاں نے انہیں باقاعدہ طور پر میڈیا کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے تقرر کیا تھا اور مارچ میں وہ سبکدوش ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اسلم پرویز نے ان کی خدمات کو جاری رکھنے کی مخالفت کی ‘ حالانکہ بعض گوشوں سے کنٹراکٹ کی بنیاد پر دوبارہ خدمات حاصل کرنے کیلئے دباؤ بنایا گیا ۔ میڈیا کوآرڈینیٹر کی سبکدوشی کے ساتھ ہی یونیورسٹی کے پی آر او عابد عبدالواسع کو دوبارہ پبلک ریلیشن ڈپارٹمنٹ میں متعین کیا گیا ہے ۔ وہ کوآرڈینیٹر کے رویہ سے نالاں تھے اور یونیورسٹی نے انہیں دوسرے ڈپارٹمنٹ میں تبادلہ کردیا تھا ‘ اب وہ دوبارہ پی آر او کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے ۔ ان کے ساتھ ایک اور انچارج پی آر او کو مقرر کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT