Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کئی اصلاحی اقدامات ، یونیورسٹی کے معیار کو بلند کرنے کی مساعی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کئی اصلاحی اقدامات ، یونیورسٹی کے معیار کو بلند کرنے کی مساعی

سابق وائس چانسلر کے بدعنوان عہدیداروں کی خیربادی ، نئے وائس چانسلر اہم فیصلے لینے میں مصروف
بدعنوان عہدیداروں کی گھر واپسی کی تیاری

حیدرآباد ۔ 28۔ اکتوبر (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈاکٹر اسلم پرویز کے جائزہ حاصل کرتے ہی کئی اصلاحی اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے، تاکہ یونیورسٹی کے معیار کو بلند کیاجاسکے۔ دوسری طرف سابق وائس چانسلر کے قریبی افراد جو مبینہ طور پر ان کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے، یونیورسٹی کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے ذمہ داری سنبھالتے ہی یونیورسٹی میں ڈسپلن نافذ کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے ، اس کے علاوہ وہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کئے گئے اہم فیصلوں کا جائزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایسے میں سابق وائس چانسلر اور ان کے حواریوں کیلئے دشوار کن صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس سے بچنے کیلئے وہ یونیورسٹی سے مستعفی ہوکر اپنے آبائی مقامات واپس ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سابق وائس چانسلر محمد میاں کے انتہائی بااعتماد رفیق پروفیسر خواجہ ایم شاہد نے یونیورسٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دیدیا ہے اور کل اکتوبر کو یونیورسٹی سے واپس ہورہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ چند برسوں میں کئے گئے فیصلوں کی جانچ سے بچنے کیلئے سابق وائس چانسلر کے کئی حامی یونیورسٹی سے استعفیٰ کی تیاری میں ہیں۔ نئے وائس چانسلر نے اہم عہدوں پر کارکرد اور دیانتدار افراد کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم تیار کر رہے ہیں۔ رجسٹرار سمیت دیگر اہم عہدوں پر موزوں افراد کا تقرر کیا جائے گا ۔ پروفیسر خواجہ شاہد جو انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے چند ماہ تک برقرار رہے، انہوں نے سابق وائس چانسلر کے فیصلوں کی نہ صرف مدافعت کی بلکہ انہیں بچانے کی ہر طرح کوشش کی تھی۔ نئے وائس چانسلر کے تقرر کے ساتھ اب سابق وائس چانسلر محمد میاں کے حواری یونیورسٹی میں گھٹن محسوس کرنے لگے ہیں۔ اسی دوران خواجہ شاہد نے یونیورسٹی کے رجسٹرار فینانس آفیسر ، تمام ڈین ڈائرکٹرس اور ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یونیورسٹی میں خدمات کے دوران تعاون پر اظہار تشکر کیا۔

انہوں نے مکتوب میں لکھا کہ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈھائی برس تک اور انچارج وائس چانسلر کی حیثیت مختصر مدت کیلئے خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیانتداری اور سنجیدگی کے ساتھ ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ وہ 29 ا کتوبر کو یونیورسٹی سے روانہ ہو رہے ہیں۔ مکتوب میں انہوں نے حالیہ عرصہ میں پیش آئے واقعات کو افسوسناک قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں اچھی یادوں اور تجربہ کے ساتھ واپس ہورہے ہیں۔ انہوں نے تمام افراد کا تعاون کیلئے شکریہ ادا کیا۔ خواجہ شاہد نے کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر انتہائی سنجیدہ اور دھن کے پکے ہیں جو یونیورسٹی کو ترقی کی منزلوں تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے یونیورسٹی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ خواجہ شاہد کی یونیورسٹی سے روانگی کا طلبہ و اساتذہ کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ سابق  وائس چانسلر کے حواریوں کی روانگی سے یونیورسٹی قیام کے مقاصد کی تکمیل کرے گی۔ یونیورسٹی میں خواجہ شاہد کے حق میں وداعی تقریب منعقد کی گئی جس میں سابق وائس چانسلر کے حواریوں نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے خواجہ شاہد نے محمد میاں کے دور میں کئے گئے تمام فیصلوں کی مکمل تائید کی تھی۔ ان کے تقرر کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست بھی داخل کی گئی ۔ حالیہ عرصہ میں طلبہ اور اساتذہ نے سابق وائس چانسلر کو یونیورسٹی مدعو کئے جانے پر سخت احتجاج کیا تھا ۔ اس موقع پر اساتذہ کی تنظیموں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے انچارج وائس چانسلر سے استعفیٰ کی مانگ کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جے اے سی کے دباؤ کے تحت یونیورسٹی کے پراکٹر اور چیف وارڈن کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT