Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کیلئے پروفیسر محمد اسلم پرویز وائس چانسلر مقرر

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کیلئے پروفیسر محمد اسلم پرویز وائس چانسلر مقرر

طلبہ و اساتذہ کے احتجاج پر مرکزی حکومت کا سخت نوٹ ، صدر جمہوریہ ہند کے احکامات
حیدرآباد۔/15اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں گزشتہ چار دن سے جاری احتجاج کے دوران صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے نئے وائس چانسلر کا تقرر کیا ہے۔پروفیسر محمد اسلم پرویز پرنسپل ڈاکٹر ذاکر حسین دہلی کالج کو یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ اس سلسلہ میں انڈر سکریٹری حکومت ہند رام جی پانڈے نے آج رجسٹرار اردو یونیورسٹی کے نام مکتوب روانہ کیا۔ مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ نے یونیورسٹی کے وزیٹر کی حیثیت سے پروفیسر محمد اسلم پرویز کو وائس چانسلر کے عہدہ پر مقرر کیا ہے۔ ان کی میعاد ذمہ داری سنبھالنے کے دن سے 5سال کی ہوگی۔ اس طرح مرکزی حکومت نے انچارج وائس چانسلر اور ان کے حواریوں کی سرگرمیوں کے خلاف طلباء اور اساتذہ کے احتجاج کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے نئے وائس چانسلر کا تقرر کردیا تاکہ یونیورسٹی میں تعلیمی اور دیگر سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا عہدہ 13مئی سے مخلوعہ تھا۔ محمد میاں نے میعاد کی تکمیل کے باوجود میعاد میں توسیع کیلئے کافی کوشش کی لیکن ان کی مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایات کے بعد مرکزی حکومت نے توسیع سے انکار کیا جس کے بعد خواجہ شاہد 13مئی سے انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ توقع کی جارہی ہے کہ نئے وائس چانسلر پیر کے دن اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیں گے۔ نئے وائس چانسلر کے تقرر کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ طلباء اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ مرکز نے انچارج وائس چانسلر اور ان کے حواریوں کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگادی ہے۔ اس طرح آج سے خواجہ شاہد انچارج وائس چانسلر  کے ذمہ داری سے سبکدوش کردیئے گئے۔ اسی دوران یونیورسٹی اساتذہ اور طلباء کا احتجاج آج مسلسل چوتھے دن بھی جاری رہا اور احتجاجی طلباء اور اساتذہ انچارج وائس چانسلر کے علاوہ پروکٹر ، گیسٹ ہاؤز ڈائرکٹر، میڈیا کوآرڈینیٹر، چیف ویجلینس آفیسر و سیکوریٹی اڈوائزر اور دیگر افراد کی برطرفی کے مطالبہ پر قائم ہیں۔ خواجہ شاہد نے طلباء اور اساتذہ کی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو آج شام بات چیت کیلئے مدعو کیا تھا۔ تین گھنٹوں سے زائد دیر تک بات چیت رہی لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین اپنے مطالبات پر قائم رہے۔ انہوں نے مبینہ بدعنوانیوں میں ملوث سابق وائس چانسلر کو گیسٹ ہاوز کی افتتاحی تقریب میں مدعو کرنے کی شدت سے مخالفت کی تھی اور احتجاج کرنے والے اساتذہ و طلباء پر غنڈوں کے ذریعہ حملہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ جب بات چیت گرما گرم ماحول میں جاری تھی انچارج وائس چانسلر نے مرکز کی جانب سے موصولہ مکتوب پڑھ کر سنایا جس میں نئے وائس چانسلر کے تقرر کی اطلاع دی گئی۔ انہوں نے احتجاجی طلباء اور اساتذہ سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کی یکسوئی کیلئے نئے وائس چانسلر سے بات چیت کرلیں تاہم احتجاجی طلباء اور اساتذہ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ کارگذار وائس چانسلر کی ذمہ داری سے مستعفی ہوجائیں۔ اسی دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نئے احتجاجی لائحہ عمل کو طئے کرنے کیلئے اجلاس طلب کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئے وائس چانسلر کے تقرر کے ساتھ ہی سابق وائس چانسلر محمد میاں کے حواریوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔اسی دوران حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کے پروفیسر لکشمی نارائنا نے آج اردو یونیورسٹی کے احتجاجی اساتذہ کے کیمپ پہنچ کر یگانگت کا اظہار کیا۔ طلباء اور اساتذہ نے آج اپنے مطالبات کی تائید میں یونیورسٹی میں پُرامن مارچ کا اہتمام کیا اور وائس چانسلر کے دفتر پہنچ کر نعرہ بازی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ پروکٹر اور چیف وارڈن سے استعفی طلب کرلیا گیا ہے اور ان کی جگہ متبادل انتظامات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT