Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / مولانا آزاد یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں پرمرکزکو عنقریب رپورٹ

مولانا آزاد یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں پرمرکزکو عنقریب رپورٹ

چانسلر ظفر سریش والا کی میعاد مکمل، موجودہ انتظامیہ یونیورسٹی کے مفاد میں نہیں، پرکاش جاوڈیکر کو بھی یونیورسٹی سے تلخ تجربہ

حیدرآباد۔/20جنوری، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں بے قاعدگیوں اور یونیورسٹی کو تباہی کے راستے پر گامزن کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف مرکزی حکومت کو جلد رپورٹ پیش کی جائے گی۔ وزارت فروغ انسانی وسائل نے جناب ظفر سریش والا سے اپنے 3 سالہ تجربات کی روشنی میں رپورٹ پیش کرنے کی خواہش کی ہے۔ وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر نے ظفر سریش والا سے ملاقات کے دوران یونیورسٹی کے موجودہ حالات پر دکھ کا اظہار کیا اور انہیں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا مشورہ دیا تاکہ رپورٹ کی بنیاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ پرکاش جاوڈیکر کو شخصی طور پر یونیورسٹی سے تلخ تجربہ ہوا ہے اور وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ان کے حلقہ بگوش افراد کی سرگرمیوں سے ناخوش ہیں۔ واضح رہے کہ ظفر سریش والا نے تین سال تک یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور گزشتہ دنوں ان کی میعاد مکمل ہوئی ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت نے اُن سے بدستور خدمات جاری رکھنے کی خواہش کی لیکن یونیورسٹی کے اندرونی حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ ظفر سریش والا نے ’’سیاست ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام معاملات کی جامع تحقیقات ضروری ہیں کیونکہ موجودہ وائس چانسلر اور ان کی ٹیم ایک سازش کے تحت یونیورسٹی کو نقصان پہنچارہی ہے۔ ان کی سرگرمیوں سے طلباء کا نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق میں دو بڑے اسکام منظر عام پر آئے تھے جن میں کروڑہا روپیوں کی دھاندلی ہوئی تھی۔ اس سلسلہ میں تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ یونیورسٹی کو پیش کردی لیکن موجودہ وائس چانسلر اپنے قریبی افراد کو بچانے کیلئے رپورٹ کو برفدان کی نذر کرچکے ہیں۔ کروڑہا روپئے کے دونوں اسکام میں کارروائی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جس کا تحقیقاتی رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ تین برسوں میں ان کا اہم کارنامہ یونیورسٹی کو مرکز سے 220 کروڑ کا فنڈ جاری کرانا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے اہم کورسیس اور اداروں کو جو غیر مسلمہ تھے انہیں مسلمہ حیثیت دلانے میں ان کا اہم رول رہا۔ انہوں نے کہا کہ تین برسوں میں دو وائس چانسلرس آئے ان میں پروفیسر محمد میاں نے ہر معاملہ میں ان سے مشاورت کی لیکن موجودہ وائس چانسلر اسلم پرویز پہلے ہی دن سے عدم تعاون کے رویہ پر قائم رہے۔ کسی بھی معاملہ میں مشاورت تو کُجا اطلاع تک نہیں دی۔ یونیورسٹی کے پروگراموں کے دعوت نامے پروگراموں کے اختتام کے بعد بھیجے گئے۔ ظفر سریش والا کی مساعی سے جو پروگرام منعقد کئے گئے ان میں وائس چانسلر نے عمداً شرکت نہیں کی۔ سریش والا نے بتایا کہ حالیہ عرصہ میں وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر نے یونیورسٹی کے دورہ سے اتفاق کرلیا تھا۔ تاریخ طئے ہونے کے باوجود وائس چانسلر کے رویہ اور وزیر کے استقبال سے انکارکے سبب پروگرام کو لمحہ آخر میں منسوخ کرنا پڑا۔ اس صورتحال سے خود مرکزی وزیر حیرت میں پڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ پرکاش جاوڈیکر کے دورہ کا مقصد یونیورسٹی کو فائدہ پہنچانا تھا۔ ظفر سریش والا نے بتایا کہ نوجوان صنعتکاروں کو تیار کرنے کیلئے انٹر پرینور شپ ورکشاپ کیلئے مختلف ذرائع سے 15 لاکھ روپئے یونیورسٹی کو دلائے گئے۔ اس ورکشاپ میں ملک بھر سے 635 طلباء نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ اڈمنسٹریشن یونیورسٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ مسلم اداروں کیلئے آر ایس ایس اور وی ایچ پی، پروین توگڑیا اور بابو بجرنگی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے اداروں میں ایسے کردار پہلے ہی سے بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہی حال اردو یونیورسٹی کا ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ یونیورسٹی کے کانوکیشن کو سبوتاج کرنے اور صدر جمہوریہ کو لمحہ آخر میں روکنے میں موجودہ وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کا اہم رول رہا۔ اس ٹیم نے شاہ رخ خاں کو بھی شرکت سے روکنے کی کوشش کی لیکن شاہ رخ خاں نے دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے طلباء کے مفاد کو پیش نظر رکھا۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ تین برسوں کے دوران انہوں نے یونیورسٹی سے ایک پیسہ بھی ٹی اے، ڈی اے کے طور پر حاصل نہیں کیا تمام سفری اخراجات حتیٰ کہ تقاریب بالخصوص معززین کیلئے ڈِنر اور لنچ کا اہتمام بھی وہ اپنے ذاتی خرچ سے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردو یونیورسٹی کو تباہی سے بچانے کیلئے حکومت کو ٹھوس تجاویز پیش کریںگے۔

TOPPOPULARRECENT