Monday , August 20 2018
Home / ہندوستان / مولانا آفتاب عالم کو ’’جئے ماتا دی ‘‘ کہنے کیلئے مجبور کیا گیا

مولانا آفتاب عالم کو ’’جئے ماتا دی ‘‘ کہنے کیلئے مجبور کیا گیا

نئی دہلی کی بس میں عالم دین کو بری طرح ہراسانی کا سامنا
نئی دہلی۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عالم دین مولانا آفتاب عالم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بس میں سفر کے دوران دو نوجوانوں نے راستہ تمام ہراساں کیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی۔ پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں مولانا آفتاب عالم نے جو ایک مسجد کے خطیب ہیں ، کہا کہ انہیں دو افراد نے مل کر ان سے ان کی قومیت پوچھی اور کہا کہ وہ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ ان کی شکایت پر ایک کیس درج کیا گیا ہے اور ملزم افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ باؤنا میں جے جے کالونی کے رہنے والے آفتاب عالم نے کہا کہ وہ اوٹر دہلی شاہ آباد ڈیری سے اپنے گھر واپس ہورہے تھے، اس وقت یہ واقعہ پیش آیا۔ 8 اپریل کی رات وہ بس میں سوار ہوئے ہی تھے کہ انہیں دو افراد نے دبوچ لیا۔ موضع پرہلاد پور کے ان دونوں افراد نے جن کی عمر 35 تا 40 سال کے درمیان تھی، مجھ سے پوچھا کہ آیا وہ ہندوستانی ہیں ، جب میں نے کہا کہ جی ہاں میں ہندوستانی ہوں تو انہوں نے مجھے ’’جئے ماتا دی ‘‘ کہنے کیلئے مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے ساتھ بدتمیزی شروع کردی۔ بعدازاں یہ دونوں پرہلاد بس اسٹانڈ پر اُتر گئے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT