Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مولانا ابوالکلام آزاد عظیم مجاہد آزادی ، گرانقدر خدمات کو خراج

مولانا ابوالکلام آزاد عظیم مجاہد آزادی ، گرانقدر خدمات کو خراج

مرکز سے ممکنہ مدد کا تیقن، یوم اقلیتی بہبود تقریب سے مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ کا خطاب
حیدرآباد۔ 11 ۔ نومبر (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر لیبر بنڈارو دتاتریہ نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کے ذریعہ مولانا ابوالکلام آزاد کو صحیح معنوں میں خراج پیش کیا جاسکتا ہے۔ یوم اقلیتی بہبود سے رویندرا بھارتی میں خطاب کرتے ہوئے بنڈارو دتاتریہ نے مولانا ابوالکلام آزاد کو عظیم مجاہد آزادی قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک عظیم اسکالر تھے جنہوں نے مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ جدوجہد آزادی میں ان کے گرانقدر رول اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ دتاتریہ نے کہا کہ مولانا آزاد نے ملک میں مذہبی رواداری اور مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد کیلئے کام کیا تھا اور وہ قومی یکجہتی کے علمبردار تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ لڑکے اور لڑ کیوں کی اعلیٰ تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں مسابقتی امتحانات میں شرکت کے ذریعہ آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، ڈاکٹر، انجنیئر اور وکیل تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں میں شادی کے بعد تعلیم ترک کرنے کا رجحان ختم کیا جانا چاہئے ۔ شادی سے قبل اور اس کے بعد لڑکیوں کو تعلیم کی مکمل اجازت دی جائے تاکہ وہ ملک اور سماج کی ترقی میں اہم رول ادا کریں۔ دتاتریہ نے کہا کہ مرکزی حکومت اقلیتوں کی تعلیم و ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی ۔ مرکز کی جانب سے کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا ہے ۔ بنڈارو دتاتریہ نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ملک کے نہ صرف پہلے وزیر  تعلیم تھے بلکہ ایک مثالی وزیر تعلیم رہے۔ انہوں نے ملک کی خدمت کو ہمیشہ ترجیح دی ۔ بنڈارو دتاتریہ نے مسلم طالبات میں تعلیم ترک کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ لڑکیوں کو کمپیوٹر اور دیگر اہم شعبوں میں ماہر بنایا جائے اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے 1000 غریبوں کو آٹو رکشا فراہمی اسکیم کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ  مرکزی حکومت کے ای ایس آئی ہاسپٹلس میں مفت علاج کی فراہمی جائے گی۔ دتاتریہ نے اردو زبان کو ملک کی عظیم زبان قرار دیا جو مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں اتحاد کا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اردو زبان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا چاہئے  کیونکہ موجودہ مسابقتی دور میں انگریزی کی تعلیم ترقی کیلئے ضروری ہے۔ رکن راجیہ سبھا ہوی ہنمنت راؤ نے طلبہ سے کہا کہ وہ مولانا ابوالکلام آزادی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مولانا آزاد نے الہلال کے ذریعہ جدوجہد آزادی کے حق میںمہم چلائی تھی۔انہوں نے کہا کہ آج ملک کو مذہب اور نفرت کی بنیاد پر توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ، اسے ہندو مملکت نہیں بنایا جاسکتا۔ تمام مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کو دستور میں مکمل حقوق فراہم کئے ہیں۔ رکن قانون ساز کونسل این رام چندر  راؤ (بی جے پی) نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب ، تہذیبوں اور زبانوں کا ایک گلدستہ ہے اور رواداری ملک کی عظیم روایت ہے جسے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تعلیم ، ملازمت اور بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تمام طبقات کی یکساں ترقی تک ملک حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے اقلیتوں میں تعلیم کے حصول کے رجحان میں اضافہ اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں مرکز سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

TOPPOPULARRECENT