Wednesday , December 12 2018

مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے یوجی سی کی مسلمہ حیثیت خطرہ میں!

من مانی کرنے والے عہدیداروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ، صدر اسٹیٹ بی جے پی میناریٹی مورچہ کا بیان

من مانی کرنے والے عہدیداروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ، صدر اسٹیٹ بی جے پی میناریٹی مورچہ کا بیان
حیدرآباد 11 جنوری (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی میناریٹی مورچہ نے حکومت تلنگانہ سے پرزور مطالبہ کیاکہ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ٹیچنگ و نان ٹیچنگ شعبہ جات میں غیر اُردو داں کے تقررات اور ترقیاں، یونیورسٹی میں داخلہ سے متعلق بروقت اعلامیہ کی عدم اجرائی، ریٹائرڈ عہدیداروں کو دوبارہ تقررات، یونیورسٹی کے مصارف اور اخراجات میں خرد برد کے علاوہ این سی ای ٹی، ایچ آر ڈی اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے احکامات اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُردو کی باوقار یونیورسٹی کے وقار کو متاثر کرتے ہوئے سال 2010 ء سے تاحال من مانی قانون چلانے کے مرتکب وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر محمد میاں کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کروائی جائیں اور یونیورسٹی میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں پر وائیٹ پیپر جاری کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار آج صدر اسٹیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی میناریٹی مورچہ مسٹر حنیف علی دفتر بی جے پی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا سال 1998 ء میں این ڈی اے دور حکومت میں قیام عمل میں آیا جو ملک کی معروف یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور اس قدر نامور اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد میاں کی جانب سے مبینہ طور پر یونیورسٹی کے مختلف عہدوں پر تقررات اور تنخواہوں کی ادائیگی اور ترقیاں دینے میں مکمل اجارہ داری اور من مانی چلاتے ہوئے غیر اُردو داں افراد اور اپنے جانے پہچانے چہروں کو اور بجائے مقامی افراد کے بیرونی افراد کے تقررات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وائس چانسلر اردو یونیورسٹی مبینہ طور پر سال 2010 ء سے یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی نظام سے متعلق داخلہ کے لئے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کی بروقت اجرائی میں بھی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے تحت چلائے جانے والے فاصلاتی تعلیم نظام میں بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں یو جی سی اور یونیورسٹی کی جانب سے ڈگری تکمیل کرنے والے طلباء کو وقت پر سند بھی نہیں دی جارہی ہے جس سے یو جی سی کی مسلمہ حیثیت کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اس موقع پر جنرل سکریٹری بی جے پی تلنگانہ اسٹیٹ مسٹر سی سامبا مورتی نائب صدر میناریٹی مورچہ مسٹر کالے شاہ صدر سٹی مہیلا مورچہ شریمتی عائشہ مہدی بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT