Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / مولانا برکتی خطبہ جمعہ مکمل نہ کرسکے ، مسجد میں ہنگامہ آرائی

مولانا برکتی خطبہ جمعہ مکمل نہ کرسکے ، مسجد میں ہنگامہ آرائی

مسجد میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ، سینئر رکن جماعت اسلامی عبدالعزیز کا ردعمل
کولکاتہ19مئی (سیاست ڈاٹ کام )سیاست سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے سینہ میں دل نہیں، لومڑی کا دماغ ہوتا ہے ۔وہ صرف اپنے مفادات کو دیکھتا ہے ۔اس کا نظارہ آج کولکاتہ شہر کے قلب میں واقع ٹیپوسلطان مسجدکے امام مولانا نورالرحمن برکتی جو ترنمول کانگریس کے قیام کے پہلے دن سے ترنمو ل کانگریس سے وابستہ اور ممتا بنرجی کے قریبی رہے ہیں مگرآج وہ اسی سیاست کے شکار ہوگئے اور انہیں جمعہ کا خطبہ مکمل کرنے نہیں دیاگیا ۔دوران خطبہ ہنگامہ آرائی ، بوتل بازی اور شور شرابہ جم کر ہونے کی وجہ سے مولانانے خطبہ کو درمیان میں ہی چھوڑ دیااوران کی جگہ مسجد کے موذن حافظ ہارون نے نماز پڑھائی۔اطلاعات کے مطابق کولکاتہ شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹیپو سلطان مسجد میں لایا گیا تھا۔جیسے ہی مولانا برکتی جمعہ کی نماز پڑھانے کیلئے منبر پر پہنچے ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی ۔کئی لوگوں کو مولانا کو دھکا دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔یہ صورت حال دیکھ کر عام نمازی حیران تھے ۔وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے ۔جماعت اسلامی کے سینئر رکن اور مسلم مجلس مشاورت بنگال کے جنرل سکریٹری عبدالعزیز نے اس پوری صورت حال کو افسوس ناک بتاتے ہوئے کہا کہ مسجد میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور جولوگ بھی پردے کے پیچھے سے کھیل کھیل رہے ہیں ،وہ دراصل ملت اسلامیہ کو ایک بڑے فتنے میں مبتلا کررہے ہیں اوراس کا نقصا ن مسلمانوں کوہی اٹھانا پڑے گا ۔غیروں کو ہنسنے کا موقع ملے گا۔عبدا لعزیز نے بتایا کہ مولانا کے متنازعہ بیانات کے بعد مسلم مجلس مشاورت نے مولانا کو خط لکھ کر منصب امامت کی پاسداری کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھی بات کی تھی اور مولانا نے ہمارے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے متنازعہ بیانات سے گریز کرنے کا وعدہ کیا تھا۔افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ سیاسی لیڈران اس پورے معاملے میں سامنے آگئے ہیں اور ان کی وجہ سے پورا معاملہ سیاسی بن گیا۔اگرچہ مولانا برکتی کو ہمیشہ سے ممتا بنرجی کی ہمدردی حاصل رہی لیکن اس وقت مولانا برکتی سے ممتا بنرجی نے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے ۔اس لئے کچھ لوگ پارٹی قیادت کوخوش کرنے کیلئے پورے معاملے کو طول دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امام کی برطرفی و بحالی کا مسئلہ مسجد کمیٹی اور امام کا مسئلہ ہے جسے شہر کے بااثر افراد اور علماء دین کو بیٹھ کر حل کرلینا چاہیے ۔

TOPPOPULARRECENT