Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / مولانا جعفر پاشاہ کے فیصلہ سے حق گوافراد کے حوصلے بلند

مولانا جعفر پاشاہ کے فیصلہ سے حق گوافراد کے حوصلے بلند

امت کو تباہی سے بچانے کیلئے خاموشی توڑنے مختلف مذہبی شخصیات کا غور ، مسلم متحدہ محاذ سے علحدگی کے اقدام پر مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں میں ہلچل

مولانا جعفر پاشاہ کے اقدام پر ہر گوشہ سے ستائش
مفادات حاصلہ خاندانی اختلافات کا رنگ دینے کوشاں
تعمیر ملت یا جماعت اسلامی اگر ٹی آر ایس کی تائید کا فیصلہ کرتی تو
یہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن اور وقف بورڈ میں نمائندگی کا
عوض ہی تصور کیا جائے گا : عام تاثر

حیدرآباد۔30اکٹوبر(سیاست نیوز) مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ کی یونائیٹڈ مسلم فورم سے علحدگی کے بعد شہر کے مذہبی حلقوں کے رجحانات میں تیزی سے تبدیلی دیکھی جانے لگی ہے اور حق گوئی و بے باکی کا جذبہ رکھتے ہوئے اب تک خاموش رہنے والی مذہبی شخصیات کی جانب سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ اب امت مسلمہ کی صحیح رہبری کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا نے ضروری ہیں کیونکہ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سیاسی مذہبی شخصیت نے کہا کہ اب تک سیاسی امور و معاملات میں اکثریت کی رائے کے خلاف نہ جانے کے فیصلہ کے تحت خاموشی اختیار کی گئی تھی لیکن اب جبکہ حالات اس حد تک مکدر ہوگئے ہیں کہ جواں سال عالم دین مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ جیسی شخصیت بھی ان امور سے دور ہونے کے متعلق فیصلہ کر چکی ہے تو جمیع علماء و مشائخین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی رائے ظاہر کریںحق گوئی کے ذریعہ امت مسلمہ کو باشعور بنائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جن مذہبی شخصیتوں کے تجارتی اور سیاسی مفادات وابستہ ہیں وہ حق گوئی سے اجتناب کا شیوہ اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن اب خاموشی ملت اسلامیہ کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ کی بے باکی کے سلسلہ میں ہر گوشہ سے ان کی سراہنا کی جا رہی ہے اور اب مفادات حاصلہ انہیں نشانہ بنانے کے لئے خاندانی اختلافات کے سبب مولانا جعفر پاشاہ کی فورم سے علحدگی کے الزامات عائد کر رہے ہیں جبکہ خاندان کی دونوں اہم شخصیات کی جانب سے کسی بھی طرح کے اختلافات کی سختی سے تردید کی جا رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کے بیشتر دینی مدارس کے ذمہ دار و خانقاہوں کے ذمہ داروں کی جانب سے مولانا جعفر پاشاہ کے اقدام کی ستائش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ انہوں نے فورم سے علحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے اور موجودہ صورتحال میں ملک کے مفادات کے تحفظ کے لئے ان کی خدمات ہندستانی مسلمانوں کے لئے سرمایہ ہیں۔ ان کے اقدام کے متعلق یہ بھی کہا جا رہاہے کہ ان کا یہ اقدام امت مسلمہ کو نہ صرف دعوت فکر ہے بلکہ ان کے اس فیصلہ سے کئی چہروں پر پڑے نقاب الٹنے لگے ہیں ۔ریاست تلنگانہ میں مسلم رائے دہندوں کے موقف اور ان کے اتحاد کی دہائی دینے والی سیاسی جماعتیں اور مذہبی شخصیات سے اس بات کو عام کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ ریاست میں مسلم ووٹ بینک منقسم ہے اسی لئے ان حالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اضلاع کے مسلم رائے دہندے مکمل شعور کے ساتھ اپنے حق رائے دہی کا متحدہ طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں جمیعۃ علماء ہند تلنگانہ و آندھراپردیش کی جانب سے کانگریس کی تائید کے رجحانات سامنے آرہے ہیں جبکہ تاحال کانگریس کے کسی سرکردہ سیاسی قائد نے جمیعۃ علماء کی قیادت سے راست ملاقات یا بات چیت نہیں کی ہے لیکن جمیعۃ علماء کا کہناہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی دھوکہ دہی اور مسلمانوں کے متعلق گمراہ کن پالیسی اختیار کئے جانے کے سبب وہ ٹی آر ایس کی تائید کے حق میں نہیں ہیں جبکہ اگر تعمیر ملت کی جانب سے ٹی آر ایس کی تائید کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ تعمیر ملت نے تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں انہیں دی گئی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے اسی طرح جماعت اسلامی کی جنب سے بھی اب تک کوئی تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کا اعلان نہیں کیاگیا لیکن اشارے یہ دئے جا رہے ہیں کہ ٹی آرایس کی تائید کی جائے گی اور ان کی تائید کو بھی تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی رکنیت کے عوض ہی تصور کا جائے گا۔ شیعہ برادری کی جانب سے اگر تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو اسے بھی وقف بورڈ کی رکنیت کے سبب ہی کہاجائے گا اسی لئے مولانا رحیم الدین انصاری کو تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈمی کی صدارت کے باعث یہی سمجھا جا رہاہے کہ یونائیٹڈ مسلم فورم بھی سال 2014 کی طرح چالاکی کے ساتھ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حمایت میں مہم چلانے کا فیصلہ کرے گا ۔مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ کی فورم سے علحدگی کے بعد مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ کوئی بھی تنظیم حالات کا اندازہ کئے بغیر کسی بھی سیاسی جماعت کی تائید کا قطعی فیصلہ نہیں کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT