Saturday , September 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مولانا حسر ت موہانی کی سیاسی اور ادبی خدمات ناقابل فراموش

مولانا حسر ت موہانی کی سیاسی اور ادبی خدمات ناقابل فراموش

محبوب نگر میں برسی تقریب سے مرزا قدوس بیگ کا خطاب

محبوب نگر میں برسی تقریب سے مرزا قدوس بیگ کا خطاب
محبوب نگر۔/15مئی، ( ای میل ) مجاہد آزادی مولانا حسرت موہانی جن کی خدمات کو زمانہ فراموش کررہا ہے کی قربانیوں اور انکی خدمات سے نئی نسل کو واقف کروانے کی اشد ضرورت ہے۔ مولانا موہانی نے آزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کیلئے ایک اخبار نکالا جو اردوئے معلیٰ کے نام سے مشہور ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ حب الوطنی کیلئے قربان کیا۔مرزا قدوس بیگ ریاستی قائد انڈین یونین مسلم لیگ نے حسرت موہانی کو خراج پیش کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ مولانا حسرت موہانی کی 64ویں برسی کے موقع پر مسلم لیگ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ بعنوان ’’ مجاہد آزادی مولانا حسرت موہانی ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حسرت موہانی ایک شاعر، ادیب اور مصنف کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب سیاستداں تھے جو انگریزوں کے دور میں بھی رکن پارلیمنٹ رہ چکے تھے۔ طالب علمی کے دور میں ان کی رفاقت مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کے ساتھ رہی۔ 1921ء کے بعد سے رام پرساد بسمل، پریم کشن کھنہ اور سید اشفاق اللہ خان یہ سبھی مولانا کے ساتھی تھے اور ان کے ساتھ مل کر جنگ آزادی کی ہر تحریک میں انگریزوں کے خلاف لوہا منوانے کیلئے ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔ جدوجہد آزادی کے دوران مولانا اپنے مخالف انگریز بیانات کی وجہ سے کئی بار جیل بھی گئے۔ 1921ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک اجتماع میں کامل آزادی کا مطالبہ کیا اور مشہور زمانہ نعرہ ’ انقلاب زندہ باد‘ مولانا کا ہی دیا ہوا ہے۔ محمد عبدالقادر سینئر قائد مسلم لیگ نے کہا کہ مولانا کی قابلیت اور دور اندیشی کی وجہ سے ہندوستان کے دستور کی تدوین میں ان کو شامل کیا گیا مگر مولانا نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کے ساتھ حق تلفی کی گئی اور دلبرداشتہ ہوکر اس کمیٹی سے اپنے آپ کو علحدہ کرلیا۔ سراج الدین نے کہا کہ آزادی کے 65سال بعد بھی مسلمانوں میں شعور بیداری کی ضرورت ہے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کیلئے معاشرہ میں تعلیمی انقلاب لانا ضروری ہے اور سنگھ پریوار کی مسلم مخالف سازش کی وجہ سے مسلم مجاہدین آزادی کو نہ صرف تاریخ بلکہ ہندوستان کی عوام فراموش کررہی ہے اور مسلمانوں کی حب الوطنی کے جذبہ کو ٹھیس پہنچائی جارہی ہے۔ برعکس اس کے انگریزوں کی مخبری اور غداروں کو آج ساری دنیا کو ’’ انقلاب زندہ باد ‘‘ کا نعرہ دینے والا ہمیشہ ہمیشہ یہ نعرہ خاموش ہوگیا۔ مگر اس نعرے کی گونج اب بھی باقی ہے اور نہ جانے یہ نعرہ کب تک گونجتا رہے گا۔ مگر افسوس کہ عظیم مجاہد آزادی مولانا حسرت موہانی کی قربانیوں کو فراموش کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT