Sunday , July 22 2018
Home / مضامین / مولانا سجاد نعمانی پر مقدمہ کیوں؟

مولانا سجاد نعمانی پر مقدمہ کیوں؟

مولانا سید احمد ومیض ندوی
ملک میں جیسے جیسے عام انتخابات قریب ہوتے جارہے ہیں بی جے پی اور آرایس ایس کے رہنماوں کو مسلم اقلیت کے تئیں اپنے فسطائی ایجنڈے کی تکمیل کی فکر کھائے جارہی ہے ، مسلمانوں کے حوالے سے فرقہ پرست اور اسلام دشمن آرایس ایس کا ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ ’’اسلام دشمنی ،مسلمانوں کے اسلامی تشخص کا خاتمہ اورہندوراشٹر کا قیام‘‘ہے ، اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے ، آرایس ایس کو ملک کی ترقی سے کوئی سروکار نہیں ،بی جے پی حکومت کی اب تک کی کارکردگی بتاتی ہے کہ اس نے ملکی معیشت میں سدھارلانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور جو کچھ کیا اس سے معیشت مزید انحطاط پذیر ہوئی اور عوام شدید مشکلات سے دوچار ہوئی ،جی ،ایس ،ٹی اور نوٹ بندی جیسے اقدامات نے ہرہندوستانی کو مشکلات سے دوچار کردیا البتہ بی جے پی سرکار نے ایک چیز کو ملک میں خوب فروغ دیا اور وہ نفرت کا زہر ہے ،سنگھ پریوار کا ساراٹولہ نفرت کا سودا گر ہے اور نفرت کے سوداگر وں سے نفرت کی سوداگری کے سوا کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔
آرایس ایس اور اس کی سیاسی ونگ بی جے پی کا اصل نشانہ ملک کی مسلم اقلیت ہے ،آرایس ایس کی فسطائی قیادت چاہتی ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی تشخص سے دستبردار ہوکر ملک کی اکثریتی تہذیب میں ضم ہوجائیں، ملک میں فسطائی طاقتوں کایہی بنیادی ایجنڈا ہے ،اس ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ مسلم مذہبی شخصیات اور ادارے ہیں جو کسی صورت حکومت کی جانب سے شریعت اسلامی میں مداخلت یا مسلمانوں کے مذہبی تشخص پر حملہ کو برداشت نہیں کرتے ، علمائ، دینی مدارس ،آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلمانوں کی دیگر دینی ملی تحریکات فسطائی ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اس لئے بی جے پی سرکار ان اداروں کوٹارگیٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتی ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈتوعرصہ سے فسطائی طاقتوں کے نشانے پر ہے ،بورڈ اور اس کی قیادت سنگھ پریورا کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے ، اور کیوں نہ کھٹکے جبکہ یہ مسلمانوں کا واحد متحدہ پلاٹ فارم ہے جو شریعت میں مداخلت اور آرایس ایس کی ہر شریعت مخالف کوشش پر قدغن لگاتا ہے ،آرایس ایس مختلف ایشوز کے ذریعہ ملک میں مسلمانوں کا شدھی کرن کرنا چاہتی ہے اس کے لئے کبھی ’’وندے ماترم کا شوشہ‘‘ چھوڑا جاتا ہے تو کبھی ’’سوریہ نمسکار‘‘ کے لزوم کی بات کہی جاتی ہے کبھی’’ یوگا‘‘ کے نام پر مسلمانوں کے عقیدہ پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی اسکولوں میں ’’سرسوتی وندنا‘‘ اور’’ گیتا کے پاٹھوں‘‘ کے لزوم کا مسئلہ اٹھا یا جاتا ہے ، حالیہ دنوں میں اٹھا یا گیا’’ طلاق ثلاثہ‘‘ کاایشو بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے تاکہ ایک ایک کرکے بتدریج شرعی قوانین تبدیل کردئے جائیں، حکومت کی ان مذموم کوششوں کے آگے سدسکندری بننے والی اگر کوئی طاقت ہے تووہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ اور اس سے وابستہ علماء اور دانشور ان ملت ہیں ،اب حکومت کے لئے بورڈ کی آواز کودبانے یا اسے غیرمؤثر کرنے کا ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ اس کی شخصیات کو نشانہ بنایا جائے اور بورڈ میں کلیدی رول اداکرنے والے علماء کو ٹارگیٹ کیاجائے ،گذشتہ دنوں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی پر دائر کئے گئے ملک سے غداری کے مقدمہ کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے ۔

یوپی کے شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی کی جانب سے مولانا سجاد نعمانی پر جو مقدمہ دائر کیا گیا ہے وہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہے ، اس معاملہ میں وسیم رضوی صرف مہرے کا کردار اداکررہے ہیں ،مولانا سجاد نعمانی پر غداری کا مقدمہ دائرکرکے حکمراںٹولہ پرسنل لا ء بورڈ کو دفاعی موقف میں لاناچاہتا ہے تاکہ بورڈ کی طاقت کمزور ہوجائے اور وہ خود اپنی شخصیات کے دفاع میں لگ جائے ،گذشتہ 8/مارچ کو لکھنؤ کی حضرت گنج پولیس نے اترپردیش شیعہ وقف بورڈکے چیرمین وسیم رضوی کی جانب سے داخل کردہ شکایت کی بنیاد پر مولانا سجاد نعمانی کے خلاف کیس درج کیاہے ، جس میں شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ مولانا سجاد نعمانی نے حیدرآباد میں 9/فروری کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس عاملہ میں جو تقریر کی تھی اس کا مقصد دانستہ طورپر مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا تھا، روہنگیائی مسلمانوں کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نعمانی نے کہاتھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے روہنگیائی بھائیوں کی طرح صورت حال سے دوچار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ان کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کے لئے چھوٹے چھوٹے مواضعات میں اسلحہ، گولہ بارود اور ہتھیاروں کی ٹریننگ دی جارہی ہے ، وسیم رضوی نے اپنی شکایت کے ساتھ پولیس کو سی ڈیز کے طورپر ثبوت بھی پیش کیا ہے ۔

یہاں ہم وسیم رضوی کے تعلق سے اس لئے کچھ نہیں کہیں گے کہ خود ان کی برادری نے انہیں بالکلیہ طورپر مسترد کردیا ہے اور ان کے حالیہ مسلم مخالف بیانات سے اظہارِ برأت کردیا ہے ، علاوہ ازیں قوموں کی تاریخ میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے ، ہر دور میں میرصادق اور میرجعفر رہے ہیں، اور ملت کو حقیقی دشمنوں سے زیادہ ایسی ضمیر فروش شخصیتوں سے ہی نقصان پہونچا ہے ،وسیم رضوی نے اس سے قبل بھی نہ صرف بابری مسجد بلکہ مزید 9تاریخی مساجد کو ہندووں کے حوالہ کرنے کا مشورہ دیا تھا ، اتنا ہی نہیں دینی مدارس کو بندکرنے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ پر امتناع عائد کرنے کابھی حکومت سے مطالبہ کیا تھا ، وسیم رضوی جیسی شخصیتوںسے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔
رہا معاملہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب کا تومولانا کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے ، وہ ایک بے داغ کردار رکھنے والے ملک کے نامور عالم دین ہیں، ان کی زندگی کھلی کتاب ہے ، ملک وملت کے لئے ان کا کام ان کے نام سے زیادہ متعارف ہے ، قریب نصف صدی پر مشتمل ان کی انسانی وملی خدمات کا ایک ایسا سلسلۃ الذھب ہے جس نے معاصرعلماء اور مذہبی شخصیات میں ان کی مستقل شناخت بنائی ہے ، ملک کے عام باشندوں سے لے کر دانشور طبقہ تک مولانا کی فیض رسانی مسلم حقیقت ہے ، وہ بیک وقت علماء ،دانشور ،سیاسی قائدین ، اور اعلیٰ عصری تعلیم یافتہ طبقہ کو مخاطب کرتے ہیں اور ہر ایک ان کے خطاب میں اپنا جوہر مقصود پالیتا ہے ،اُن کے مخاطب جہاں ملک کے عام مسلمان ہوتے ہیں وہیں غیرمسلم طبقہ بھی ہوتا ہے ، یویٹوب اور جدیدمیڈیائی ذرائع پر ان کے بصیرت افروز خطابات سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں، اُن کی زبان حق ترجمان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ ان کے سوزدروں کا عکاس ہوتا ہے ، وہ دل دردمند اور فکر ارجمند کے حامل ایسے جہاں دیدہ عالم دین ،عظیم مفکر ،اورمصلح ہیں جن کا دل ہمیشہ ملک وملت کی فلاح وبہود کے لئے دھڑکتا رہتا ہے ،وہ جب بولتے ہیں توکلیجہ نکال کررکھدیتے ہیں ،ان کا ہر خطاب انسانیت کے دردسے لبریز اور امت کی تڑپ سے معمور ہوتا ہے ، ملک میں امن ومحبت اور بھائی چارہ قائم کرنے کے لئے وہ شب وروز سرگرم رہتے ہیں ، ہندوستانی معاشرہ میں دلت اور پسماندہ طبقات پر ہونے والا ظلم انہیں بے چین کئے دیتا ہے ، ملکی تاریخ اور صدیوںسے یہاں پنپ رہے برہمن واد سے وہ گہری واقفیت رکھتے ہیں ، وہ قوموں کے فلسفۂ عروج وزوال سے بھی بخوبی واقف ہیں، قرآن وسنت پر عبور کے ساتھ معاصر افکارونظریات اور موجودہ باطل نظام ہائے زندگی کا گہرا ادارک رکھتے ہیں۔
وہ جہاں ساحرانہ قوت بیانیہ کے مالک ہیں وہیں ان کا قلم بھی خوب جادوجگاتا ہے ،وہ ’’ الفرقان‘‘ جیسے باوقار اور ممتاز علمی مجلہ کے مدیر محترم ہیں ، الفرقان میں شائع ہونے والے ان کے اداریئے ملت کے ہرطبقہ کے لئے سرمہ بصیرت کی حیثیت رکھتے ہیں، ممبئی کے مضافاتی علاقہ ’’نیرل‘‘ میں انہوںنے دکان معرفت کی شکل میں علم وروحانیت کا ایسا مرکز قائم کیا ہے جہاں سے ایک طرف تشنگان علوم کی پیاس بجھتی ہے تودوسری طرف روحانی ارتقاء کے متمنی سیکڑوں مسلمان سلوک کے منازل طے کرتے ہیں ،معہدالامام ولی اللہ الدھلوی مولانا سجاد نعمانی کا وہ عظیم کارنامہ ہے جو ملک کی معاصر علمی ودعوتی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا ، جدید عصری تقاضوں سے مسلح علمااور رجال کار کی تیاری کے لئے اس ادارہ کا قیام عمل میں لایاگیا ہے ،یہ مولانا کے دیرینہ حسین خوابوں کی تعبیر ہے ،مولانا سجاد نعمانی کی دینی ،ملی وانسانی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے ، ملک میں قومی یکتا کے فروغ ،پیام انسانیت کی ترویج اور بلاتفریق مذہب وملت بے لوث انسانی خدمات انجام دینے کے لئے مولانا نے 1995ء میں لکھنؤ کی سرزمین پر رحمان فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا،جوگذشتہ کئی دہائیوں سے ملک کے تمام طبقات میں عظیم رفاہی وفلاحی خدمات انجام دے رہا ہے ،بام سیف اور بھارت مکتی مورچہ جیسی ملک گیر تنظیموں کے اشتراک سے مولانا نعمانی نہ صرف ملک بھر میں فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کررہے ہیں بلکہ آرایس ایس اور دیگر فسطائی گروپوں کے فسطائی ایجنڈے کو بھی طشت ازبام کررہے ہیں ،مہاراشٹر اورملک کی دیگر ریاستوں میں دلت اور پسماندہ مظلوم طبقات کی جانب سے منعقد کئے گئے پروگراموں میں ہزاروں غیرمسلم برادران وطن مولانا کے خطاب سے مستفید ہوتے ہیں،اور اپنے اندر عزم وحوصلہ کے نئے چراغ روشن کرتے ہیں،فسطائیت پر مبنی برہمن واد کے خلاف ملک کے عام کمزور طبقات کو متحد کرنا مولانا کا وہ ’’جرم‘‘ ہے جس نے انہیں حکمراں جماعت کی نظر میں’’معتوب‘‘بنادیا ہے ، اُن کے خلاف دائرکیا گیا حالیہ مقدمہ دراصل اسی جرم کی سزا ہے ۔

حیرت ہے کہ آرایس ایس ،بجرنگ دل اور وشواہندوپریشد کے قائدین آئے دن کھلے عام بھڑکاؤبھاشن دیں حتی کہ ملک کے مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں تووہ ملک کے وفادارٹہریں ،ان پر غداری کا مقدمہ توکیا انہیں اعزازات سے نوازا جائے ، اس کے برخلاف ایک عالم دین انسانیت کی دہائی دے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تووہ ’’غدار‘‘ٹہرے اور اس پر ملک سے غداری کا مقدمہ دائر کیا جائے ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ روی شنکر پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا ؟کیا بابری مسجد کی جگہ مندرنہ بننے پر ملک کو ’’شام‘‘ بنادیئے جانے کی دھمکی ملک سے غداری نہیںہے ؟ کیا آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا آرایس ایس کی نجی فوج کو ملکی فوج سے بہتر قراردینا جرم نہیں ہے ؟

جب سے بی جے پی اقتدار پر آئی ہے ہندوستان میں گنگا اُلٹی بہنے لگی ہے ، ملک کے وفاداروں کو ’’غدار‘‘قراردیاجارہا ہے ،اور ملک دشمن عناصر ’’وفاداری‘‘کے سرٹیفکیٹ حاصل کررہے ہیں، کس قدرافسوسناک بات ہے کہ ملک سے غداری کی نسبت ایک ایسی شخصیت کی طرف کی جارہی ہے جس نے پورے ملک میں انسانیت کا نعرہ لگایا ، اورمظلوموں کو ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا ، ملکی قانون اور دستور کے خلاف کوئی قدم اٹھانے یا پھر ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملکر ملک کے خلاف سازش کا حصہ بننے کو ’’غداری ‘‘کہتے ہیں،اور ایسے جرم کا کسی مسلم قائد کے سلسلہ میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ،ہاں ! غداری کا مقدمہ آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں پر لگنا چاہئے جو نہ صرف کھلے عام ملکی دستور کو بدلنے کی بات کرتی ہیں بلکہ اسرائیلی ایجنڈوں اور ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملکر ملک کوتوڑنے کا کام کرتے ہیں،حیرت ہے کہ جو تنظیم فسطائی ایجنڈے کو لاگوکرنے کے لئے ملکی دستوربدلنے کی بات کرے جواپنے غنڈوں کو ملک کی فوج سے زیادہ طاقتوربتائے جوجماعت ملک کی گنگاجمنی تہذیب کو مٹانے کے لئے پورے ملک میں نفرت اورفسادات کا بازار گرم کرے وہ تو وفادارٹہرے اور انسانیت کا پرچار کرنے والوں پرغداری کامقدمہ چلے ؟فرقہ پرستوں کی نظر میں مولانا سجادنعمانی محض اس لئے کھٹک رہے ہیں کہ وہ دستورکے محافظ بن کر آرایس ایس کی پول کھولتے ہیں ،ان کا قصور بس یہ ہے کہ وہ فرقہ پرستی سے ملک کو لاحق خطرات سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں اور ہندومسلم اتحاد کے علمبردار ہیں ،مولانا کے خلاف دائرکئے گئے مقدمے کی مذمت ملک کے ہر طبقہ کو کرنی چاہئے ، اس سلسلہ میں تمام سیکولر طبقات کو متحدہ آواز بلند کرنا چاہئے ، خوشی کی بات ہے کہ کئی ایک ملک گیر غیرمسلم تنظیموں نے مولانا کی تائید کا اعلان کیا ہے ، ہمیں امید ہے کہ مولانا پر دائرکیا گیا یہ مقدمہ بہت جلد اپنے کیفر کردار کو پہونچے گا ۔
اس قسم کے واقعات مسلمانوں کو چوکنا کرنے کے لئے کافی ہیں، ملت ِ اسلامیہ کو ہرلمحہ بیدار ی کا ثبوت دینا ہے ، مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی شدید ضرورت ہے ، ہمیں مسلکوں کی حدبندیوں سے ماوار ہوکر ملی اتحاد کا ثبوت دینا ہوگا ،ہونا تو یہ چاہئے کہ مولانا نعمانی کے خلاف مقدمہ پر مسلمانوں کا متحدہ ردعمل سامنے آتا لیکن ملت ِاسلامیہ پر غفلت کا پردہ پڑا ہوا ہے ، موجودہ ملکی حالات میں پسماندہ طبقات کے ساتھ اتحاد بھی ضروری ہے ،فرقہ پرست طاقتوں سے صرف مسلمانوں ہی کو مسائل درپیش نہیں ہیں ،ملک کے دیگر پسماندہ غیرمسلم طبقات بھی برسوں سے برہمن واد کے مظالم سہہ رہے ہیں ،دلت اور آدی واسی سماج بڑی ذات کے ہندؤں سے سخت نالاں ہے ،مقام ِمسرت ہے کہ یہ مظلوم طبقات اب کروٹ لے رہے ہیں ،انھیں اب احساس ہونے لگا ہے کہ مٹھی بھر برہمن صدیوں سے ان کا استحصال کررہے ہیں ،ان حالات میں مسلم قیادت اگر مظلوم کمزور طبقات کو ساتھ لیکر آگے بڑھے تو اس کے اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ملک میں مسلمانوں کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور فرقہ پرستوں کی جانب سے ہونے والی شریعت میں مداخلت کی کوششوں پر روک لگانے والی دوسری بڑی قوت دینی مدارس ہیں، اس لئے دینی مدارس بھی روز اول سے فرقہ پرستوں کی نظر میں کھٹکتے رہے ہیں ، یوپی حکومت کے نمک خوار وسیم رضوی اس سے قبل دینی مدارس کودہشت گردی کے اڈے قراردے کر اُنھیں بند کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرچکے ہیں ، یوگی حکومت مختلف عنوانات سے یوپی کے دینی مدارس کے اردگرد دائرہ تنگ کرتی جارہی ہے ،ہر تھوڑے وقفہ سے مدارس کے تعلق سے وزیر اعلیٰ کا ایک نیا فرمان جاری ہوتا ہے ، ملک کے سارے مدارس کو کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کے لئے گذشتہ دنوں ہتھورا باندہ کے جامعہ عربیہ پر اچانک چھاپہ ماراگیا ،اور دہشت گردی کے خلاف کاروائی کے نام پر تفتیشی ایجنسیاں اس پر ٹوٹ پڑیں ، جامعہ عربیہ ہتھورا یوپی کی وہ عظیم دینی درسگا ہ ہے جسے مرددرویش ،قلندر زماں،صوفی باصفااور ملک وانسانیت کے لئے ہمیشہ تڑپنے والی شخصیت حضرت قاری صدیق احمد صاحب باندوی ؒ نے قائم کیا ہے ، قاری صاحب اپنی بے پناہ انسانی ہمدردی کی بناء پر مسلم وغیرمسلم تمام طبقات میں عقیدت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ، ہتھورا اور اطراف واکناف کے غیرمسلم برادران وطن اُن سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ جب این آئی ائے کے اہل کاروں نے اس ادارہ پر چھاپہ مارا تواطراف کے سارے غیرمسلم بھائیوں نے مدرسہ کو گھیر لیا ،دہشت گردی کے خلاف ہونے والا یہ چھاپا خودکسی دہشت گردانہ کارروائی سے کم نہ تھا ، اس اچانک اقدام کا جواز یہ بتایا گیا ہے کہ یہاں کوئی کشمیری طالب علم آیا کرتا تھا ، تفتیشی ایجنسیوں کو اگر فی الواقع ایسی کوئی اطلاع تھی توپر امن طریقہ سے بھی تفتیشی کارروائی ممکن تھی ،اس کے بجائے انتہائی نامناسب انداز میں جس طرح چھاپا مارا گیا اُس سے ملک کے باشندوںمیں یہی پیغام جاتا ہے کہ واقعتاً دینی مدارس دہشت گردی کی پناہ گاہ ہیں، برسوں سے دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے فرقہ پرست عناصر آج تک کسی ایک ایسے دہشت گرد کی نشاندہی نہ کرسکے جو کسی مدرسہ سے فارغ ہوا ہو ، سادھوی پرگیہ ٹھاکر آخر کس جامعہ کی فاضل تھی ؟کرنل پروہت نے ملک کے کس دینی مدرسہ سے فراغت حاصل کی ؟ سوامی اسیما نند کونسی دینی درسگاہ کا فارغ تھا؟ مسئلہ دہشت گردی کا نہیں ہے ، اس قسم کی کارروئی کا اصل مقصود مسلمانوں کو ہراساں کرکے اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT