مولانا سلمان ندوی نے مہم روک دی

مسلم پرسنل لا بورڈ میں واپسی کی خواہش کا اظہار

لکھنو 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کا حل شری شری روی شنکر سے ملکر عدلیہ کے باہر نکالنے کی کوششوں میں مصروف مولانا سلمان ندوی نے اب خود کو اس پورے معاملہ سے الگ کرلیا ہے۔ مولانا ندوی نے اپنے فیس بُک پر دس منٹ کی ویڈیو جاری کرکے کہا ہے کہ بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ کا حل ہم نے عدلیہ سے باہر نکالنے کی کوشش کی تھی لیکن ہر طرف سے مخالفت کی گئی اور کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ اس معاملہ میں ہم نے اپنے اکابر مولانا محمد رابع حسنی ندوی اور مولانا سید ارشد مدنی کو بھی بہت پریشان دیکھا اس لئے میں نے اس قضیہ سے خود کو الگ کرلینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں انھوں نے مزید کہا ہے کہ اب ہم عدلیہ سے فیصلہ آنے کا انتظار کریں گے۔ تاہم فلاح انسانیت بورڈ کے ذریعہ تمام مذاہب کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش جاری رہے گی۔ مولانا ندوی نے ویڈیو کلپ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں دوبارہ آنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ کے رکن تاسیسی اسدالدین اویسی پر سنگین الزامات بھی عائد کئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ بورڈ کا سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی سیاست سے بی جے پی کو فائدہ پہونچتا ہے۔ مولانا ندوی نے بورڈ سے اسد اویسی کے علاوہ رکن تاسیسی ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، کمال فاروقی اور ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ کو بھی برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ مولانا سلمان ندوی نے 8 فروری کو بنگلور میں شری شری روی شنکر سے ملاقات کرکے یہ فارمولہ پیش کیا تھا کہ ہندو فریق وہاں مندر بنالیں اور مسلمانوں کو دوسری جگہ مسجد کی تعمیر کے لئے دی جائے اور ساتھ میں ایک یونیورسٹی بھی منظور کی جائے۔ اس کے بعد حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ نے اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے مولانا سے جواب طلب کیا تو اُنھوں نے بغاوت کرتے ہوئے بورڈ پر کئی سنگین الزامات لگائے اور خود کو بورڈ سے علیحدہ کرلینے کا اعلان کردیا۔ دوسری جانب بورڈ نے بھی فیصلہ کردیا کہ اب وہ رکن نہیں رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT