Thursday , December 13 2018

مولانا سلمان ندوی کا تنازعہ ‘ ارکان میں بے چینی

چار رکنی کمیٹی کے فیصلے کا انتظار ۔ اکثریت بورڈ کے موقف کی حامی
حیدرآباد 10 فروری(سیاست نیوز) مولانا سلمان ندوی کے خلاف تادیبی کاروائی کے سلسلہ میں کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کے بعد اراکین میں بے چینی پائی جاتی ہے لیکن مجموعی اعتبار سے مسلم پرسنل لابورڈ کے ارکان بورڈ کے ذمہ داران کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ بورڈ اجلاس میں اراکین کی جانب سے تبادلۂ خیال کیا جا رہاہے لیکن کوئی نتیجہ خیز گفتگو نہیں کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ سرکردہ ارکان اس مسئلہ پر چار رکنی کمیٹی کے فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کے فیصلہ کے بعد ہی یہ وضاحت ممکن ہوگی کہ کتنے ارکان کمیٹی کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔ سید سلمان ندوی کے موقف کے متعلق علماء کے علاوہ دانشوروں میں بے چینی کی کیفیت نمایاں ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ پر کاروائی کی جائے گی یا نہیں! کمیٹی نے سلمان ندوی کے حالیہ عرصہ میں دیئے گئے تمام بیانات اور بورڈ کے متعلق اظہار خیال کا جائزہ لینے کے بعد سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ انہیں بورڈ سے ہٹائے جانے کی سفارش کی جاسکتی ہے لیکن بعض گوشوں کا ماننا ہے کہ سلمان ندوی کو بورڈ سے خارج کرنا اختلافات کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہوگا ۔ بورڈ کے اراکین اعزازی و عام کا کہناہے کہ سلمان ندوی سے بورڈکے ذمہ دارو ںکو بات کرکے مسئلہ کا حل دریافت کرنا چاہئے تاکہ امت میں کسی قسم کا تفرقہ پیدا نہ ہونے پائے اور امت مسلمہ اپنے اجتماعی مسائل کے حل کے معاملہ میں متحد رہ کر پرسنل لابورڈ کے فیصلہ کا احترام کرے۔اجلاس کے دوسرے دن سلمان ندوی اور مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی کے درمیان اختلافات اراکین کا موضوع بحث رہا جبکہ سرکردہ علماکی بڑی تعداد نے اس پر خاموشی اختیار کرکے اسے کمیٹی کے دائرہ اختیار کا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ جب بورڈ نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے تو اس پر مباحث کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT