Monday , February 19 2018
Home / Top Stories / مولانا سلمان ندوی کی مسلم پرسنل لاء بورڈ سے علیحدگی

مولانا سلمان ندوی کی مسلم پرسنل لاء بورڈ سے علیحدگی

بابری مسجد مسئلہ پربورڈ کے موقف سے اختلاف، عدالت کے باہر یکسوئی کی کوششیں جاری رہیں گی
 شریعت اپلکیشن بورڈ کے قیام کا اشارہ
 مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی تائید کا دعویٰ
 بورڈ کو بعض افراد نے یرغمال بنالیا: سلمان ندوی
 ’’سوٹ بوٹ والے بھی شریعت سکھارہے ہیں‘‘
حیدرآباد۔/10فبروری، ( سیاست نیوز) بابری مسجد مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور پرسنل لاء بورڈ کے رکن عاملہ مولانا سید سلمان حسنی ندوی نے بورڈ سے عملاً علحدگی اختیارکرلی اور علحدہ شریعت اپلیکشن بورڈ کی تشکیل کا اشارہ دیا۔ جمعہ کو پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس عاملہ میں مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے موقف پر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی اور بورڈ نے عدالت کے باہر تنازعہ کی یکسوئی کی کوششوں کو مسترد کردیا جبکہ مولانا سلمان ندوی عدالت کے باہر اس مسئلہ کی یکسوئی کی مساعی کا آغاز کرچکے ہیں۔ اجلاس عاملہ میں بعض ارکان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد انہوں نے بورڈ کی سرگرمیوں سے خود کو علحدہ کرلینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اور مقامی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا سلمان ندوی نے اجلاس عاملہ میں بعض ارکان کی جانب سے ہلڑ بازی اور علمائے کرام کا احترام ملحوظ نہ رکھتے ہوئے کی گئی ہنگامہ آرائی کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 غیر عالم ارکان کمال فاروقی اور قاسم رسول الیاس نے منصوبہ بند انداز میں ہنگامہ کیا حالانکہ شرعی موقف سے وہ کسی بھی اعتبار سے واقف نہیں ہیں۔ مولانا سلمان ندوی نے واضح کیا کہ وہ بابری مسجد مسئلہ کی عدالت کے باہر دونوں مذاہب کی نمائندہ شخصیتوں اور مذہبی نمائندوں سے بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حساس مسئلہ پر عدالت پر انحصار کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ وہ موجودہ اراضی کو مندر کی تعمیر کیلئے حوالے کرنے اور دوسرے علاقے میں مسجد اور یونیورسٹی کے قیام کی تجویز رکھتے ہیں۔ مسجد کا نام ’’ مسجد الاسلام ‘‘ اور یونیورسٹی ’’ اسلامک یونیورسٹی ‘‘ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 1949 سے مسجد میں نماز ادا نہیں کی گئی اور بتوں کو رکھنے کے بعد سے پوجا پاٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے ایسے میں فقہہ حنبلی کے اعتبار سے مسجد کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی شرعی اجازت ہے۔ اس تجویز کا مقصد امن و امان اور بھا۵ئی چارگی کے ساتھ اس طویل متنازعہ مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضمانت حاصل کی جائے گی کہ مستقبل میں کسی اور مسجد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔مولانا سلمان ندوی کے مطابق عاملہ کے اجلاس میں انہیں اظہار خیال سے روکنے کی کوشش کی گئی جس پر انہوں نے واضح کردیا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور پرسنل لا بورڈ ان کے خلاف کارروائی کیلئے آزاد ہے۔ ان کے مطابق مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی اور مولانا ولی رحمانی نے گڑبڑ کرنے والوں کو ٹوکا اور ناراضگی جتائی جبکہ صدر پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا رابع ندوی خاموشی کے ساتھ اس واقعہ پر ناراض دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی چاہتے تو اسی زبان میں جواب دے سکتے تھے لیکن انہوں نے اکابرین امت کے احترام میں خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ پرسنل لاء دراصل انگریزوں کا دیا ہوا نام ہے اور موجودہ وقت میں شریعت اپلیکیشن بورڈ کے قیام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے سے گروپ نے پرسنل لاء بورڈ کو عملاً اغوا کرلیا ہے اور ان کی ڈکٹیٹر شپ چل رہی ہے۔ مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ بورڈ کا کوئی بھی فیصلہ قرآن، حدیث اور شریعت نہیں ہوسکتا۔ جمہوریت میں اظہار خیال کی آزادی ہے لہذا وہ بورڈ کی رائے کو قبول نہیں کرتے۔ (باقی سلسلہ صفحہ 2 پر)
ایک سوال کے جواب میں مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ اسد الدین اویسی اور دیگر ارکان نے شدت پسندی کو ہوا دی ہے۔ ایک اور سوال پر مولانا نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مولانا رابع ندوی اور مولانا ارشد مدنی کے علاوہ کسی اور پر وہ بھروسہ نہیں کرتے۔ بورڈ کے اجلاس میں ملک بھر سے 20 تا25 اہم اکابرین شریک ہوئے لیکن حیدرآباد کے علماء کو نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے بیشتر علماء و دانشور ان کے موقف کے ساتھ ہیں۔ شریعت اپلیکیشن بورڈ کے ذریعہ وہ دیگر ابنائے وطن کو شریعت سے واقف کرانا چاہتے ہیں تاکہ اسلام کا صحیح تعارف پیش کیا جاسکے۔ اسد اویسی کی جانب سے مسجد کی منتقلی کی شدت سے مخالفت سے متعلق سوال پر مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ اسد اویسی قرآن کے ایک پارہ کا ترجمہ نہیں کرسکتے حتیٰ کہ سورہ فاتحہ کا ترجمہ بھی ممکن نہیں، وہ کس طرح شریعت کے بارے میں اظہار خیال کرسکتے ہیں۔ فقہہ حنبلی میں مسجد کی منتقلی کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد مقدمہ کی اہم فریق سنی وقف بورڈ عدالت کے باہر تنازعہ کی یکسوئی کے حق میں ہے۔ عدالت میں فیصلہ کی صورت میں اراضی پرسنل لاء بورڈ یا جمعیت علماء کو نہیں بلکہ سنی وقف بورڈ کو دی جائے گی۔ مولانا سلمان ندوی نے کہا کہ 20 یا 21 مارچ کو آئندہ حکمت عملی طئے کی جائے گی اور ایودھیا میں سادھوسَنتوں اور علماء کے ساتھ اجلاس طلب کرتے ہوئے عدالت کے باہر تنازعہ کی یکسوئی کی کاوشوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔30 برسوں سے میں بورڈ کی عاملہ کا رکن ہوں، مولانا علی میاں، مولانا منت اللہ رحمانی اور مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کے دور میں بھی انہوں نے سرگرم رول ادا کیا تھا لیکن آج سوٹ بوٹ اور کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے مجھے شریعت سمجھا رہے ہیں اور لقمہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منصوبہ بند انداز میں عاملہ کے اجلاس میں بابری مسجد مسئلہ کو چھیڑ کر عدالت پر انحصار کا موقف اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اپنے اس بیان کی وضاحت کیوں نہیں کی جس میں انہوں نے دعویٰ کے ساتھ کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو روہنگیا کی طرح قتل کی تیاری کی جاچکی ہے اور گاؤں میں ہتھیار تقسیم ہوچکے ہیں۔ بورڈ کے ترجمان آر ایس ایس کیمپوں میں شرکت اور ان کے قائدین سے قریبی روابط کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن ان معاملات کی وضاحت کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر علمائے کرام کی یہی رائے ہے کہ امن و آشتی کے ذریعہ اس تنازعہ کی یکسوئی ہونی چاہیئے۔ 90 فیصد مسلمان میرے ساتھ ہیں۔
TOPPOPULARRECENT