Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مولانا عبدالعزیز کی دینی خدمات ناقابل فراموش

مولانا عبدالعزیز کی دینی خدمات ناقابل فراموش

جلسہ تعزیت سے مفتی صادق محی الدین فہیم و دیگر شخصیتوں کا خطاب

جلسہ تعزیت سے مفتی صادق محی الدین فہیم و دیگر شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔ 22 مارچ (دکن نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی ہند مولانا عبدالعزیزؒ کے انتقال پر آج مسجد عالیہ گن فاؤنڈری میں جماعت اسلامی ہند عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے مقررین نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مولانا کی جوانی سے لے کر آخری سانس تک تحریک ِ اسلامی کو انہوں نے ساتھ لے کر دین اسلام کی جو خدمات انجام دیں۔ اس پر خراج عقیدت پیش کیا اور اللہ سے آخرت میں ان کے حق میں اور ان کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کو صبر جمیل کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔ واضح رہے کہ مولانا اپنی زندگی کے 89 برس دنیا میں گزارے اور انہوں نے اس دعوتی میدان میں داعیانہ کردار ادا کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو نہ صرف ہندوستان بلکہ یورپی ممالک میں بھی مدلل تقاریر کے ذریعہ پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھا۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نظامی صدر دارالافتاء و القضاء نے مولانا کی دینی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے کرشموں میں یہ بھی ایک کرشمہ ہے کہ وہ دین اسلام کی خدمت کیلئے جب کسی فرد کو انتخاب کرتا ہے تو اس میں ایسی صفت بھی پیدا کردیتا ہے کہ وہ شب و روز اقامت دین کے غلبہ کے لئے اپنے آپ کو لگا دیتا ہے۔ محمد علی شبیر رکن قانون ساز کونسل نے مولانا عبدالعزیزؒ کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے ساری زندگی تحریک اسلامی کے پرچم تلے اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کردی، وہ ایک مایہ ناز و بے باک مقرر تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مولانا کی اسلامی جہد و فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے شہروں کے علاوہ دیہاتوں میں مقیم انسانیت کو اسلام کے پیغام سے آشنا کیا جائے۔ غلام یزدانی ایڈوکیٹ نے مولانا عبدالعزیزؒ سے اپنی قدیم وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ایک خدا ترس انسان تھے۔ اللہ نے مولانا میں کئی خوبیاں رکھی تھیں۔ خاص طور پر مولانا کا حافظہ بڑا قوی تھا۔ جب بھی کسی اجتماع و جلسوں میں پہنچتے تو اپنی ولولہ انگیز خطابت کے ذریعہ موضوع کا حق ادا کرتے۔ خدا نے انہیں عربی، اُردو و فارسی زبانوں کے علاوہ انگریزی زبان پر کافی عبور دیا تھا۔ ڈاکٹر فخرالدین محمد سیکریٹری میسکو نے مولانا عزیز کی رحلت پر اللہ کے حضور دعائے مغفرت کی اور کہا کہ ملک میں جب بھی فسادات پھوٹ پڑے تو مولانا اپنے رفقاء کار کو ساتھ لے کر میدان میں اُترتے اور متاثرین کی ہر طرح سے مدد کیا کرتے۔ سید عبدالباسط انور سابق امیر جماعت اسلامی ہند اے پی و اُڈیشہ نے کہا کہ جب تک انسان اس دنیا میں زندگی گزارتا ہے، لوگ اس کی عزت و توقیر نہیں کرتے، لیکن موت کے بعد اس فرد کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے قرآن کا پیغام، سیرت نبویؐ، اسلام کا پیغام ہو یا دیگر موضوعات کے ذریعہ مسلمانوں اور برادران وطن تک اس کے پیام کو پہنچانے کے لئے بڑے دل نشین انداز میں فن خطابت کو اپنایا۔ محمد اظہرالدین نے کہا کہ مولانا کے خطاب سے مسلم ہوں یا برادران وطن رہبری و رہنمائی حاصل کی۔ مولانا کی زندگی کا مقصد دین کی سربلندی رہا، بالخصوص ان کا فن تقریر غیرمعمولی رہا کرتا۔ صدر ایم پی جے حامد محمد خان نے کہا کہ طالب علمی کے زمانے سے ہی مولانا خطابت کے فن میں بڑے ماہر تھے جس کی بہادر یار جنگ مرحوم نے بھی سراہنا کی۔ مقرر کے ساتھ وہ ایک بہترین قلمکار بھی تھے۔ پیشہ تدریس سے وابستہ رہنے کی وجہ سے بہت سارے شاگرد مولانا کے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مبشرالظفر ناظم نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کی ایک متحرک شخصیت سے جماعت و مسلمان محروم ہوگئے ہیں۔ تحریک اسلامی کے فروغ میں مولانا کا بہت بڑا حصہ رہا۔ اللہ مرحوم کے درجات کو بلند کرے۔ محمد رشادالدین نے کہا کہ مولانا عبدالعزیزؒ نیک صفت انسان تھے۔ اسی بنیاد پر اللہ اپنے اس نیک بندے کے ساتھ محبت دوسروں کے دلوں میں پیدا کیا جس کے لئے دور دور سے لوگ ملاقات کے لئے پہنچتے تھے۔ اعجاز محی الدین وسیم ، صدر ویلفیر پارٹی سید شفیع اللہ قادری نے بھی مخاطب کیا۔ حافظ عبدالعزیز امیر مقامی جماعت اسلامی ہند گوشہ محل کی تلاوت و ترجمانی سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر سید خورشید علی نے نظم سنائی۔

TOPPOPULARRECENT