Monday , October 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مولانا عبدالقوی کی گرفتاری ، سارے مسلمانوں کی توہین

مولانا عبدالقوی کی گرفتاری ، سارے مسلمانوں کی توہین

کاغذنگر /3 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جناب محمد رضی حیدر سینئیر ایڈوکیٹ اور نیشنل کونسل ممبر آف مہاجنا سوشلسٹ پارٹی نے کاغذنگر پریس کلب میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالقوی کروڑوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن ہیں اور دہشت گرد مخالف کانفرنس کے کنوینر ہیں ۔ موصوف کے زیر سرپرستی کئی مخالف دہشت گرد کانفرنس منعقد ک

کاغذنگر /3 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جناب محمد رضی حیدر سینئیر ایڈوکیٹ اور نیشنل کونسل ممبر آف مہاجنا سوشلسٹ پارٹی نے کاغذنگر پریس کلب میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالقوی کروڑوں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن ہیں اور دہشت گرد مخالف کانفرنس کے کنوینر ہیں ۔ موصوف کے زیر سرپرستی کئی مخالف دہشت گرد کانفرنس منعقد کئے گئے ۔ ایسے عالم دین کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث کہہ کر گرفتار کرنا مضحکہ خیز بات ہی نہیں بلکہ سارے مسلمانوں کی توہین ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نریندر مودی ، آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے جو مسلمانوں کے خلاف تحریکیں چلا رہی ہے ۔ اس سے قبل 2002 میں گجرات میں سابقہ رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کے قتل سے لے کر بیسٹ بیکری کی بلقیس تک ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ، مسلمان ماں بہنوں کی عصمت ریزی جیسے گھناؤنی حرکات کا مرتکب بھی نریندر مودی ہی ہے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت بھی آر ایس ایس کے ا یجنڈے میں شامل تھی ۔ آر ایس ایس نہ صرف مسلمانوں کی دشمن ہے بلکہ ایس ٹی ، ایس سی ، بی سی اور کرسچین طبقات کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔ مذکورہ طبقات کی ترقی انہیں بالکل ہی پسند نہیں ۔ ان طبقات کے ساتھ اس نے ہمیشہ سوتیلا سلوک ہی کیا ہے ۔ جناب رضی حیدر نے کہا کہ ریاست آندھراپردیش کے مقامات چنڈورو اور کارم چیڑو میں مالا اور مادیگا ذات کے افراد کو بیدردی سے قتل کرکے ان کے جسمانی اعضاء کو تحصیلوں میں بھرکر تنگبھدرا ندی میں بہا دیا گیا تھا ۔ یہ واقعہ پسماندہ طبقات کو اقتدار سے محروم رکھنے کی سازش ہے ۔ حالانہ ہندوستان میں مذکورہ طبقات کی آبادی 92 فیصد ہے اور آر ایس ایس کے تعلق رکھنے والے افراد کا تناسب 5 فیصد سے بھی کم ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام پسماندہ طبقات متحد ہوجائیں اور نہ صرف آر ایس ایس ایس بلکہ نریندر مودی کے مکرو فریب کا منہ توڑ جواب دیں اور اقتدار حاصل کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں ۔ جناب رضی حیدر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مولانا عبدالقوی کے کیس میں مداخلت کرکے انہیں فوری رہائی دلوائیں اور موصوف پر لگائے گئے غلط اور بے بنیاد الزامات واپس لے لئے جائیں اور پانچ کروڑ روپئے توہین عزت نفس کے سلسلہ میں بطور معاوضہ ادا کیا جائے ۔ اس موقع پر جناب حافظ میر ریاست علی ہاشمی ، حافظ سید غوث ، جناب محمد ارشد علی جناب محمد سجاد انصاری مسٹر سرینواس ، مسٹر مورتی ، مسٹر پٹالہ ستیا نارائنا ، جناب سمیع خان اور جناب سید اظہر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT