Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / مولانا غلام احمد وستانوی کو مہارشٹرا اسٹیٹ وقف بورڈ کی رکنیت چھین لی گئی ۔وقف املاک میں گھپلے کا الزام 

مولانا غلام احمد وستانوی کو مہارشٹرا اسٹیٹ وقف بورڈ کی رکنیت چھین لی گئی ۔وقف املاک میں گھپلے کا الزام 

اورنگ آباد : اوقاف کی املاک کو نقصان پہنچانے او رغیر قانونی طریقہ سے قبضے او راپنے تصرف میں لینے کے معاملہ میں مولانا غلام احمد وستانوی کی وقف بورڈ کی رکنیت کالعدم قرار دے دی گئی او ران پر آئندہ کیلئے بورڈ کا الیکشن لڑنے کیلئے بھی پابندی عائد کردی گئی ۔ریاستی حکومت کی جانب سے پردھان سیکریٹری شیام تاگڑے کی دستخط سے جاری کردہ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ مولانا کو بادشاہی ملا مسجد ٹرسٹ ضلع احمد نگر کی ۳۲؍ ایکڑ ۳۲ گنٹے زمین کے معاملے میں وقف ایکٹ ;1955 کے تحت قصور وار پایاگیا ہے جس کی وجہ سے ان کی رکنیت ختم کردی گئی ہے ۔

مولانا وستانوی کے خلاف آل انڈیا مسلم اوبی سی آرگنائزیشن کے صدر شبیر انصاری نے محکمہ اقلیتی امور میں شکایت درج کی تھی ۔ نیز مولانا وستانوی کے علاوہ مزید چھ افرادکے خلاف بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔بعد ازاں محکمہ اقلیتی امور کی جانب سے ۱۴؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو جاری کردہ احکامات میں وقف بورڈ کے چیف آفیسر نے کہا تھا کہ مذکورہ افراد کے خلاف کی گئی شکایات کی چھان بین کے بعد ان میں صداقت پائی گئی ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے خلاف متعلقہ پولیس اسٹیشنس میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ۔ ۲۱؍ ستمبر کو غلام وستانوی کو محکمہ اقلیتی امور میں حاضر رہ کر اپنے اوپر عائد الزامات کے تعلق سے وضاحت پیش کرنے کو کہاگیا تھا ۔

اس کے تعلق سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا غلام احمد وستانوی نے بتایا کہ انہوں نے کروڑہا روپے خرچ کر کے ۱۲؍ سال قبل ایک دینی مدرسہ کی تعمیر کروائی تھی ۔یہ مدرسہ ۶؍ ایکڑ اراضی ۲۲؍ گنٹے پر مشتمل ہے ۔ جب کہ ریاستی حکومت اور وقف بورڈ یہ دعوی کررہا ہے کہ مدرسہ کی اراضی ۳۲؍ایکڑ ہے ۔ یہ سراسر غلط او ربے بنیاد ہے ۔اس کی کسی بھی وقت پیمائش کروائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں یہ معاملہ سیاسی رسہ کشی کا نتیجہ ہے او ریہ سب کچھ انتقاماً کیا جارہا ہے ۔اس لئے میں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT