Thursday , November 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / مولانا غلام رسول سعیدی اسلامی سزاؤں پر اعتراض کا جواب

مولانا غلام رسول سعیدی اسلامی سزاؤں پر اعتراض کا جواب

(قرآن و حدیث کی رو سے) شراب کی بے شمار خرابیاں ہیں، سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس سے عقل بیکار ہو جاتی ہے اور پھر انسان جانوروں کی سطح سے بھی گرجاتا ہے۔ فخر رازی اور علامہ آلوسی نے بیان کیا ہے کہ ابن ابی الدنیا ایک شرابی کے پاس سے گزرے، جو پیشاب کرنے کی حالت میں اسی پیشاب سے وضو کر رہا تھا اور کہتا تھا: ’’الحمد للّٰہ الذی جعل الاسلام نورالماء طھورا‘‘۔ ثانیاً اس سے عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے اور یہ عبادت میں حارج ہے۔ ثالثاً اس سے بکثرت امراض جسمانیہ پیدا ہوتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ام الخبائث فرمایا اور یہ کہ ’’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘۔
اس قسم کے تمام قبائح کے پیش نظر ضروری تھا کہ انھیں پوری سخت سے روکا جائے۔ اسی لئے شریعت نے شراب کے استعمال پر اَسی کوڑوں کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں ثانیاً گزارش ہے: چلئے مان لیا کہ یہ غیر انسانی سزائیں ہیں، لیکن جن افعال پر یہ سزائیں دی جاتی ہیں کیا وہ انسانوں کے کام ہیں؟ بغیر کسی ضابطہ اور قید کے جس سے چاہے ہوس پوری کرلینا، بلااستحقاق جس کا چاہے مال لے لینا، تہمت لگاکر کسی شریف کی عزت تباہ کردینا اور شراب پینے کے بعد جو افعال صادر ہوتے ہیں، کیا یہ سب غیر انسانی افعال نہیں ہیں؟۔ پھر اگر غیر انسانی جرائم پر ویسی ہی سزا دی جائے تو یہ موجب طعن ہے یا عین حکمت کا مقتضٰی؟۔

ثالثاً ارباب عقل کے درمیان یہ امر مسلم ہے کہ اگر جسم کے کسی حصہ میں کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جائے، جس سے باقی جسم کو ضرر پہنچنے کا خدشہ ہو تو اس حصہ کو کاٹ کر الگ کردیا جاتا ہے، تاکہ باقی جسم اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ پس جب کوئی شخص چوری، شراب خوری یا بدکاری کرے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ بار بار ان امور کا ارتکاب کرے گا اور اس سے مسلم معاشرہ میں دو قسم کا نقصان لاحق ہوگا۔ ایک تو اس کی چوری اور بدکاری سے ان کی عزت اور مال کا ضیاع ہوگا، دوسرے اس بیماری کے جراثیم معاشرہ کے دوسرے صحت مند افراد کو بیمار کردیں گے، جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’تمام مسلمان جسم واحد کے بمنزلہ میں ہیں‘‘ اور ایک شخص ایک عضو کے مرتبہ میں ہے۔ پس جب مسلم معاشرہ کے ایک فرد نے بدکاری کی تو یوں سمجھئے کہ جسم کا ایک عضو فاسد ہو گیا، جس کے فساد سے باقی اعضاء کے فساد یا انھیں ضرر پہنچنے کا خطرہ ہے۔ ایسے میں اس فاسد عضو کو کاٹ کر باقی اعضاء کو اس کے فساد سے بچالینا، کیا عین حکمت کے مطابق نہیں ہے؟۔

رابعاً انسان کی عظمت اور اس کا شرف صرف اسی شکل میں ہے، جب وہ اللہ کا اطاعت گزار ہو اور جب اس نے اللہ تعالی کے قوانین سے بغاوت اور اس کے احکام سے سرکشی کی تو اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ چنانچہ وہ ہاتھ جس کی قیمت اسلام نے بشکل دیت پچاس اونٹ مقرر کی ہے، جب چوری کرکے نافرمانی کرے تو دس درہم کے عوض اسے کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ پس ظاہر ہوا کہ اللہ کا سرکش اور باغی کسی اعزاز کا مستحق ہی نہیں ہے کہ اجرائے حدود اس کے منافی ہو۔
خامساً یہ کہنا بھی غلط ہے کہ سنگسار کرنے یا کوڑے لگانے سے انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوڑے وہ سرکشی اور بغاوت کھا رہی ہے، جس نے حدود الہیہ کو لائق احترام نہیں سمجھا۔ اس میں انسانیت کی نہیں، بلکہ سرکشی اور بغاوت کی تذلیل ہے۔ سادساً ان سزاؤں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے دوسروں کو زبردست عبرت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک مجمع عظیم کے سامنے کسی کو رجم کیا جائے یا اسے کوڑے لگائے جائیں تو دیکھنے والوں پر یقیناً ایک نفسیاتی اثر پڑے گا۔ جب ایک کٹے ہوئے ہاتھ پیر والا سزا یافتہ شخص بار بار نظروں کے سامنے آئے گا تو ذہن میں اس جرم سے نفرت کا تصور اور گہرا ہو جائے گا۔ سابعاً اس بجث میں پڑنا کہ کس جرم کی کیا سزا ہونی چاہئے، ظاہر ہے کہ یہ ہمارا منصب نہیں، بلکہ جس ذات کا جرم کیا ہے، سزا کا بھی اسی کو اختیار ہے، جیسی اور جس طرح سزا دے وہ مالک علی الاطلاق ہے اور ہم اس کے مملوک مطلق ہیں۔ پس یا تو ہم اپنے آپ کو اس ملکیت میں شمار نہ کریں اور سرے سے انکار کردیں اور یا جب اس کو حاکم مان لیا ہے تو اس کے کسی فیصلہ پر اعتراض نہ کریں۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT