Wednesday , December 19 2018

مولانا غلام رسول سعیدی صدیق کیلئے ہے خدا کا رسول بس

مکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد جاں نثار موجود تھے، لیکن جب آپﷺ نے سفر ہجرت کا قصد فرمایا تو رفاقت کے لئے نگاہِ انتخاب صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو غلام حضور کی خاطر جانوں کو خطرے میں ڈالے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بسترِ رسالت پر کفار کے نرغے میں ت

مکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد جاں نثار موجود تھے، لیکن جب آپﷺ نے سفر ہجرت کا قصد فرمایا تو رفاقت کے لئے نگاہِ انتخاب صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو غلام حضور کی خاطر جانوں کو خطرے میں ڈالے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بسترِ رسالت پر کفار کے نرغے میں تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پاؤں سانپ کے منہ پر تھا۔ محب کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب کا اعتماد حاصل کرے اور یہ اعتماد آپﷺ کے ان دونوں غلاموں کو حاصل تھا۔ حضرت علی کو حضور نے کفار کے اموال کا محافظ بنایا اور حضرت ابوبکر کو سرکار نے اپنی جان کا امین بنایا۔ ایک دشمنوں کے گھیرے میں مال کی حفاظت پر مامور تھے اور دوسرے موت کے منہ میں قدم ڈالے محبوب کے جلووں پر پہرا دے رہے تھے۔

غارِ ثور میں تین دن اور تین راتیں اس طرح گزریں کہ تجلیاتِ رسالت بلاشرکت و بلاواسطہ حضرت ابوبکر صدیق پر منعکس ہو رہی تھیں۔ رسالت کی خوشبوؤں سے حضرت ابوبکر کا دل و دماغ مہک رہا تھا اور انوارِ رسالت حضرت ابوبکر میں اس طرح جذب ہو رہے تھے کہ ابوبکر سراپائے رسول کا مظہر بن گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ تِلوں کو اگر ایک رات پھولوں میں بسا دیا جائے تو وہ تِل پھولوں کے مظہر ہو جاتے ہیں اور ان کا تیل خوشبودار ہو جاتا ہے۔ جب پھولوں کا قرب ایک رات میں تِلوں کو اپنا مظہر بنا دیتا ہے تو جسے تین راتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل رہا ہو، وہ کیونکر مظہرِ رسول نہ ہوگیا ہوگا؟۔ تب ہی تو حضرت ابوبکر جب مدینہ پہنچے تو اس شان سے پہنچے کہ چہرہ ابوبکر کا تھا اور جمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، قامت ابوبکر کی تھی اور چال رسول اللہ کی تھی، گفتار رسول اللہ کی تھی، انوار رسول اللہ کے تھے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے حضورﷺ اپنے ساتھ آئینہ لے آئے ہوں۔

امت کے بہترین افراد وہ ہوتے ہیں، جو نبی کے صحابہ کہلاتے ہیں۔ جن کی نظروں کے سامنے نبی پر وحی اُترتی ہے، جو روز و شب معجزات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ نبی کی نگاہوں سے جن کی تربیت ہوتی ہے، جن کی آنکھوں میں نبوت کا سراپا، دِلوں میں نبی کی سوچ اور سیرت میں نبی کا کردار ہوتا ہے۔ جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گروہ انبیاء میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اسی طرح حضورﷺ کے صحابہ کی بھی کسی نبی کے اصحاب میں مثال نہیں ملتی۔ غور کیجئے! ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے، جنھوں نے چند روپیوں کے عوض اپنے نبی کی زندگی کا سودا کرلیا تھا اور ایک حضورﷺ کے صحابہ ہیں، جو میدان جنگ میں حضور کی طرف آنے والے تیروں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسی (۸۰) سے زائد تیروں سے گھائل ہوتے ہیں، مگر حضورﷺ کی طرف کسی تیر کو آنے نہیں دیتے۔ یہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور بعض وہ ہیں کہ جب کفار برہنہ تلواریں لئے کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرتے ہیں تو وہ جان پر کھیل کر بسترِ رسول پر لیٹ جاتے ہیں، یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور کچھ وہ ہیں جو اپنے جسم پر سانپ کے پیہم وار برداشت کرتے ہیں، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے جگانا گوارا نہیں کرتے، یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

یوں تو سارے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جان قربان کرنے والے تھے، لیکن جاں نثاری کی جو مثال حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم کی ہے، وہ تاریخِ محبت میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ ’’صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس‘‘۔ یہ ان کی کتابِ زندگی کا عنوان تھا اور ان کی پوری شخصیت اسی عنوان کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
جب محبت درجۂ کمال پر ہو تو طبیعت طبیعت میں اور مزاج مزاج میں ڈھل جاتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت میں اپنا کچھ نہیں رہا تھا، رنگ روپ، جمال کمال سب رسول اللہ کا تھا۔ حضرت ابوبکر کی شخصیت ایک آئینہ تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا عکس نظر آتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیتوں میں کس قدر قوی ارتباط تھا، یہ وہی لوگ جان سکتے ہیں جو انھیں دیکھنے والے تھے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT