مولانا غلام رسول سعیدی علوم ِمصطفی ﷺ

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ علم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور تکوین و تشریع کی کوئی حقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے مخفی نہیں ہے۔ امام ترمذی تصحیح بخاری کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر چیز مجھ پر منکشف ہو گئی اور میں نے اسے جان لیا‘‘ نیز صحیح بخاری میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز کے بعد فرمایا ’’خدا کی قسم! مجھ سے نہ تمہارا رکوع پوشیدہ ہے نہ خشوع‘‘۔ رکوع نماز کی ظاہری ہیئت کو اور خشوع باطنی کیفیت کو کہتے ہیں، لہذا اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ظاہر و باطن اور غیب و شہادت کی ہر حقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں ہے۔ صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ’’مجھ سے سوال کرو، تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں استفسار نہیں کروگے، مگر میں تمھیں اس چیز کی خبر دوں گا‘‘۔ یہ دعویٰ وہی شخص کرسکتا ہے، جس کا علم تمام حقائق ممکنہ کو محیط ہو۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں لوگ شک کرتے تھے کہ شاید وہ حذافہ کے بیٹے نہیں ہیں اور ان پر تہمت لگاتے تھے۔ انھوں نے پوچھا ’’یارسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا ’’تمہارا باپ حذافہ ہی ہے‘‘۔ ایک اور شخص نے سوال کیا ’’میرا باپ کون ہے؟‘‘۔ فرمایا ’’تمہارا باپ سالم ہے‘‘۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہو گیا کہ تکوینی امور ہوں یا تشریعی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم سب پر مشتمل ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اور روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ فرما ہوئے اور آپ نے ہمارے سامنے ابتدائے عالم سے تمام احوال کی خبریں بیان کرنا شروع کیں، یہاں تک کہ اہل جنت کے جنت میں جانے اور اہل نار کے جہنم میں جانے تک کے تمام واقعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردیئے۔ پس جسے یہ باتیں یاد رہیں اسے یاد رہیں اور جس نے بھلادیں اس نے بھلادیں۔ صحیح مسلم میں اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں ماضی و مستقبل کی تمام خبریں بیان کردیں‘‘۔
اس جگہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک مجلس میں ان تمام امور کا تفصیلاً بیان نہیں ہوسکتا، اس لئے اس حدیث کا مفاد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اہم اہم باتیں بیان کردی تھیں۔ اس کے جواب سے پہلے یہ گزارش ہے کہ گمراہی کی اولین بنیاد یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ کو اپنے اوپر قیاس کرلیا جائے اور اس بناء پر یہ فرض کیا جائے کہ ’’چوں کہ ہم قلیل وقت میں کثیر امور بیان نہیں کرسکتے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں کرسکتے‘‘۔ اب دیکھیں کہ قلیل وقت میں یہ بیان ممکن ہے یا نہیں؟۔ قرآن کریم کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک امتی آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے تین ماہ کی مسافت سے تخت بلقیس لاکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے رکھ دیا۔ پس جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک امتی اس قدر طویل کام کو ایک لمحہ میں کرسکتا ہے تو جن کا مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی بڑا ہے، وہ ایک دن میں یہ تفصیلی احوال کیوں نہیں بیان کرسکتے؟۔ نیز بخاری شریف میں ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام گھوڑی پر زین ڈالنے کا حکم دیتے اور زین ڈالنے سے پہلے زبور ختم کرلیتے اور سب کو چھوڑیئے، واقعۂ معراج بھی تو ایک لمحہ میں وقوع پزیر ہوا۔ پس جو ایک لمحہ میں تفصیلاً سیر معراج کرسکتے ہیں، وہ ایک مجلس میں ابتدائے آفرینش سے دخول جنت تک کے تفصیلی احوال بھی بیان کرسکتے ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تمھیں جو علم ملا ہے وہ قلیل ہے‘‘ (بنی اسرائیل۔۸۵) یعنی تمام جہان والوں کے علم کو اللہ تعالیٰ قلیل فرما رہا ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے بارے میں فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان تمام چیزوں کا علم عطا کردیا، جنھیں آپ پہلے نہیں جانتے تھے اور یہ اللہ کا آپ پر فضل عظیم ہے‘‘ (سورۃ النساء۔۱۱۳) غور کیجئے! جس کے نزدیک کل جہاں والوں کا علم قلیل ہے، تو جس کے علم کو وہ عظیم کہہ دے اس کی عظمتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT