Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / مولانا غلام رسول سعیدی مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

مولانا غلام رسول سعیدی مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

ترمذی شریف میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر دنیا کی قدر اللہ تعالی کے نزدیک مچھر کے پر جتنی بھی ہوتی تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ بھی عطا نہ فرماتا‘‘۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے پاس دنیا کی وسعتوں کا نہ ہونا اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان میں دنیا کی لیاقت نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ یہ دنیا خود ان کے لائق نہیں ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ ’’جہنم پر شہوات کا پردہ ہے اور جنت پر تکلیفوں کا‘‘ اس لئے حصول جنت کی خاطر بہرنوع تکلیف اٹھانی ہوگی۔ جو شخص اللہ تعالی کی محبت میں سرشار ہو، اسے اللہ کی راہ میں تمام تکلیفیں عین راحت معلوم ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ شہید جنت کی تمام نعمتیں دیکھنے کے بعد بھی یہ تمنا کرے گا کہ کاش! خدا کی راہ میں پھر سر کٹانے کی سعادت نصیب ہو‘‘ اور جو دنیا کی محبت میں مستغرق ہوا، اسے عین راحت میں بھی زوال نعمت کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔ پس اہل اللہ پر اگرچہ تکالیف اور مصائب طاری رہتے ہیں، لیکن وہ سب ان کے حق میں کیف و سرور کا حکم رکھتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ اس مقام پر کسی شخص کو یہ شبہ لاحق ہو کہ جب دنیا مردار، فانی، مچھر کے پر سے حقیر ہے اور مجسم شہوات ہے تو پھر مسلمان دنیا سے بے تعلق ہوکر گوشہ نشین ہو جائے اور جدوجہد، کشور کشائی اور ملک و سلطنت سے کنارہ کرکے فقر و مسکنت کی زندگی بسر کرے؟۔ جواباً عرض ہے کہ مسلمان کا طریقہ بلاشک و شبہ فقر ہے، مگر فقیر مسکین نہیں، بلکہ فقیر غیور ہے۔ وہ فقر نہیں جسے ’’کاد الفقر ان یکون کفرا‘‘ سے تعبیر فرمایا، بلکہ وہ فقر ہے جو باعث فخر ہے، وہ فقر جس میں حضرت ابوذر؄ کا استغناء ہو، حضرت بلال؄ کی غیرت ہو، حضرت عمر فاروق؄ کا فقر جس کی ہیبت سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرزتے ہیں اور جس کی راتیں لوگوں کی ضرورتیں معلوم کرنے کے لئے مدینہ کی گلیوں میں خاک چھانتے گزرتی تھیں۔ جو بوریئے پر بیٹھ کر دنیا کی تقدیر بناتا تھا اور جسے برسر منبر بھی ایک بوڑھا ٹوک دینے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ کشور کشائی اور زر و دولت کا حصول مسلمان اور کافر دونوں کرتے ہیں، لیکن کافر ملک کی تسخیر اور مال کی تحصیل اپنی حکومت اور ذاتی تعیش کے لئے کرتا ہے۔ کافر کائنات کو مسخر کرنے کے لئے مادی قوتوں کو اجاگر کرتا ہے اور اس کا منشاء کمال یہ ہے کہ وہ چاند سورج کے گرد گردش کرنے لگے اور مؤمن روحانی قوتوں کو بڑھاتا ہے اور اس کے مال کا مبتداء یہ ہے کہ چاند سورج اس کے اشارے پر گردش کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر اقبال:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا مردار اور مچھر کے پر کی طرح بے وقعت اس وقت ہے، جب اسے برائے دنیا حاصل کیا جائے اور جب دنیا کی تحصیل اللہ تعالی کے لئے ہو تو یہ ’’ذالک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء‘‘ کا مصداق ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاشانہ اقدس میں ایک بکری ذبح کی گئی اور اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ’’کچھ بچا ہے؟‘‘۔ عرض کیا گیا: ’’ایک ران باقی ہے‘‘۔ فرمایا: ’’نہیں، سب باقی ہے سوا اس ایک ران کے‘‘ یعنی جو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کردیا گیا وہ باقی ہے اور جو تمہارے نفس کے لئے رہ گیا، وہ فانی ہے۔ پس دنیا حاصل کرکے اسے اللہ کی رضا جوئی میں خرچ کردیا جائے تو وہ باقی اور زندہ جاوید ہے اور اگر صرف ذاتی تعیش کے لئے اسے حاصل کیا جائے تو مردار اور مچھر کے پر کی طرح بے وقعت ہے۔

TOPPOPULARRECENT