Tuesday , September 25 2018
Home / مضامین / مولانا کا نہیں ‘ مولوی صاحب کا نہیں والدین کا ہے یہ کام

مولانا کا نہیں ‘ مولوی صاحب کا نہیں والدین کا ہے یہ کام

محمد مصطفے علی سروری
طلاق ثلاثہ پر مرکزی حکومت کی قانون سازی کے خلاف ملک بھر میں مسلم خواتین کے احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ مسلم خواتین برقعہ پہنے بڑی تعداد میں جلسہ اور جلوس نکال رہی ہیں ‘ لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے والا یہ بل پاس ہوچکا ہے اور اس بل کو قانونی شکل دینے کیلئے اس بل کی ایوان بالا راجیہ سبھا میں منظوری باقی ہے ۔
کیا مسلم قوم طلاق ثلاثہ کے خلاف منظور ہونے والے اس بل کو قانون بننے سے روکنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ اس سوال کا جواب کسی کو نہیں معلوم ‘ ہاں آنے والا وقت اس سوال کا درست جواب دے سکتا ہے ۔ طلاق ثلاثہ کے خلاف لوک سبھا میں بل کی منظوری کیلئے مختلف افراد ‘ انجمنوں ؎ اداروں اور سپریم کورٹ کا بھی دباؤ کارفرما تھا ۔ مسلمان اس بل کو شریعت میں مداخلت تصور کرتے ہوئے اس کی مخالفت کررہے ہیں اور شریعت میں مداخلت کیلئے اور طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے جن لوگوں نے سرگرم رول ادا کیا تھا وہ تو اب بھی خاموش نہیں ہیں بلکہ سرگرم ہیں ۔

جی ہاں ! لوک سبھا نے ایک بل طلاق ثلاثہ کے خلاف پاس کردیا ‘ اس کے بعد ہم مسلمان سڑکوں پر اتر کر پُرامن طریقہ سے احتجاج کررہے ہیں لیکن ہم مسلمان یہاں اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں مصروف ہیں وہیں آر ایس ایس اور اس کی ہم خیال تنظیمیں آگے بڑھ کر مسلمانوں کی اندرونی صفوں میں خدمت خلق کے نعرے کے ساتھ کام شروع کرچکی ہیں ‘ یہ کوئی خیالی خبر اور نہ کوئی جذبات کو بھڑکانے والی بات ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ پر گشت کرنے والی بے سر پیر کی باتیں ‘
انگریزی کے مشہور اخبار بزنس اسٹانڈرڈ نے 8مارچ کو (IANS) کے حوالے سے ایک خبر شائع کی جس کی سرخی RSS out reach to muslims , Pension for Divorced Women, Free books for orphansلگائی گئی ۔
خبر کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ طلاق ثلاثہ کے موضوع پر جارحانہ طریقہ سے مہم چلاتے ہوئے آر ایس ایس نے مسلمانوں میں بعض حلقوں کو خاص طور پر مسلم خواتین کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ‘ اس کے بعد آر ایس ایس نے خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کیلئے مسلم رائے دہندوں کو لبھانے نہایت چالاکی سے مہم شروع کردی ہے ۔ آر ایس ایس سے ملحقہ تنظیم مسلم راشٹریہ منچ ( ایم آر ایم) نے مسلمانوں خاص کر خواتین کیلئے پُرکشش پروگرام شروع کیا ہے ۔ اول تو مطلقہ مسلم خواتین کیلئے ماہانہ وظیفہ کا پروگرام اور دوسرا یتیم بچوں کیلئے کتابیں اور یونیفارم کی تقسیم کا کام شروع کیا گیا ۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں مسلم راشٹریہ منچ نے اس پروگرام کے تحت 700 خاندانوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ یہ اسکیم وارناسی ‘ گورکھپور اور بندیل کھنڈ کے علاقوں میں چلائی جارہی ہے ۔ آر ایس ایس کے اندریش کمار نے خبر رساں ادارہ IANS کو بتایا کہ مطلقہ خواتین کو 500روپئے ماہانہ وظیفہ کا مقصد اندھیرے میں زندگی گذارنے والی عورتوں تک روشنی پہنچانا ہے ۔ اخبار بزنس اسٹانڈرڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس طرح کے پروگراموں کے ذریعہ سے آر ایس ایس ‘ بی جے پی کو مسلمانوں کیلئے قابل قبول بنانے کی کوششیں کررہی ہے اور یہ کام بڑی سنجیدگی اور محنت سے کیا جارہا ہے ۔
آر ایس ایس کس قدر محنت کررہی ہے اس کے متعلق اخبار نے لکھا ہے کہ اترپردیش میں لوک سبھا کی 80نشستیں ہیں اور آر ایس ایس نے اگلے انتخابات کیلئے ابھی سے کام شروع کردیا ہے ۔ آر ایس ایس کی محنت اور منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ بار بار ریاست کا دورہ کررہے ہیں اور کافی دن تک یہاں قیام کرتے ہوئے یہاں کے کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ ار ایس ایس کی ملحقہ تنظیم ایم آر ایم نے مسلم خاندانوں کے لئے غذائی اجناس کی فراہمی کا پروگرام بھی شروع کیا جس کے تحت 800 غریب مسلم خاندانوں کیلئے وارناسی میں فری عذائی اجناس فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ اخبار کے مطابق مسلم خواتین پر فوکس کر کے آر ایس ایس نے جو پروگرام شروع کئے ہیں اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایودھیا شودھ سنتھان آڈیٹوریم میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا تو مسلم خواتین کی کثیر تعداد وہاں شریک تھی ۔ ان عورتوں نے نہ صرف کھلے عام مودی کی تائید کا اظہار کیا بلکہ طلاق ثلاثہ پر کئے جانے والے اقدامات کی بھی تائید کی ۔ بزنس اسٹانڈرڈ کے مطابق اس طرح مودی کی تائید کے اظہار کیلئے صرف غریب مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ پڑھی لکھی اور دانشور خواتین بھی آگے آرہی ہیں ۔

شبانہ اعظمی لکھنو یونیورسٹی کے عربک کلچر ڈپارٹمنٹ کی پروفیسر ہیں ۔ انہوں نے مسلم عورتوں کے اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لارڈ رام بھی ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں سے ایک نبی ہیں جن کے نام سے ایودھیا میں ایک مندر بننا چاہیئے ۔ سلیم ایک ادھیڑ عمر کا ڈرائیور ہے جس کا مغربی اترپردیش سے تعلق ہے ‘ وہ بھی مودی کا حمایتی ہے اس نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں ہمیں کوئی نقصان پہنچایا گیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ 2019ء میں بھی موجودی ہی جیت جائیں گے ۔ آر ایس ایس کے اندرونی حلقوں کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ آر ایس ایس اس بار مسلمانوں کے درمیان اپنے لئے ہمدردی پیدا کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے ‘ انہیں امید ہے کہ اگلے عام انتخابات میں اسکا مثبت نتیجہ نکلے گا ۔
قارئین اکرام یہ تو انگریزی کے ایک معتبر اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی تفصیلات ہیں ‘ اس طرح کی خبریں مسلم اقلیت کو ایک بار پھر شدت سے اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ مسلمان کو سب سے پہلے اس بات کی تعلیم دیئے جانے کی ضرورت ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے وہ کیسے دوسروں سے مختلف ہیں ۔ دوسری بڑی اہم ضرورت یہ ہے کہ مسلم سماج میں خواتین انکی تعلیم تربیت اور ان کے مسائل کے حوالے سے خاص توجہ مرکوز ہونی چاہیئے ۔ تیسری ضرورت مسلم کیونٹی میں سوشل سیکورٹی کا نیٹ ورک بنانے کی ہے کہ ہمارے موجودہ سماجی ڈھانچے میں مطلقہ خواتین اور غریب مسلمان ( چاہے کسی بھی مجبوری کے تحت ہو ) ماہانہ 500 روپئے کی مدد یا ماہانہ راشن کی ضرورت اس کیلئے آر ایس ایس کی تنظیموں سے بھی رجوع ہوسکتے ہیں ۔ غریبوں کے علاوہ ایسے لوگ بھی خود اپنی ہی قوم کیلئے بوجھ بن سکتے ہیں جن کے نام تو مسلمان ہیں جن کے پاس اعلی ترین تعلیمی اسنادات بھی ہیں اور پروفیسرس کے عہدوں پر بھی فائز ہیں ۔ مگر ان کے خیالات بنیادی اسلامی عقائد سے یکسر مختلف ہیں ۔ ایسے لوگ ہمیں اس بات کا سبق پڑھاتے ہیں کہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کو بنیادی اسلامی عقائد کی صحیح تعلیمات سے واقف کروایا جائے ۔
مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات ہم کتنی بار دہرائیں لیکن جب تک سب لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تب تک ہمیں اس بات کو دہراتے رہنا چاہیئے کہ صرف مسلم گھر میں پیدا ہوجانے سے یا مسلمانوں کی طرح نام رکھ دینے سے کوئی مسلمان نہیں بن جاتا بلکہ ہر ایک مسلمان کو دین اسلام کیا ہے ‘ اسکی باضابطہ تعلیم ضروری ہے اور اس کو یہ بتلانا بھی بیحد ضروری ہے کہ مسلمان کیوں اور کس طرح دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے مختلف ہے ۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد سمیع کی بیوی نے جب 11مارچ کو کولکتہ میں ایک پریس کانفرنس کی تو انہوں نے باضابطہ ثبوت پیش کئے کہ محمد سمیع کے دوسری عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اور محمد سمیع نے بھی وہ کام سرانجام دیئے جو دیگر مذاہب کے ماننے والے کھلاڑیوں کے متعلق اکثر سننے میں آتے ہیں ‘ حسین جہاں نے کہا کہ انہیں اگر محمد سمیع کا موبائیل فون ہاتھ نہیں لگتا تو اپنے شوہر کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں مشکل ہوتی اور محمد سمیع انہیں طلاق کی نوٹس بھیج دیتا ۔ مسلمان جب غریب ہوں تو انہیں کیسی زندگی گذارنی ہے اور مسلمان کے پاس پیسہ آجائے تب اس کو کیسی زندگی گذارنی ہے ۔ اس بات کی تعلیم کو عام کئے بغیر نہ تو غریب مسلمانوں کو آر ایس ایس کے وظیفے لینے سے روکا جاسکتا ہے اور نہ طلاق کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے والی خواتین کو منع کیا جاسکتا ہے ۔
کیا ہم حالات سے پریشان ہوکر اس بات کا عہد کرنے تیار ہیں کہ ہم اپنے گھروں میں آنکھیں کھولنے والے ہر بچے کو ایک اچھا سا اسلامی نام ہی نہیں بلکہ اس بات کی تعلیم بھی دیں گے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اس کو اپنی زندگی دوسرے سے مختلف کیسے گذارنی چاہیئے ‘ جب بچے اس بات کو جان جائیں کہ مسلمان ہونے کے ناطے وہ اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اپنے رب کی مرضی کے مطابق گذارنے کے پابند ہیں تب یہ غریب بھی ہوں تو یہ جاننے کی کوششیں کریں گے مسلمان غریب ہو تو کیسی زندگی گذارنے کا پابند ہے اور کچھ مسلمان جب پیسے والے بن جائے تو تب بھی یہ دیکھ کر اپنی زندگی گذارے گا کہ قرآن و حدیث میں اس کی رہنمائی کس طرح کی گئی ہے ۔ ایسے میں مسلمان چاہے کرکٹ کے میدان میں چلا جائے یا کسی یونیورسٹی میں پروفیسر بن جائے وہ ہر کام سے پہلے اس بات کا پتہ کرے گا کہ دین اسلام میں اس کی کس طرح رہبری کی گئی ۔
قارئین یہ نہ سونچیں کہ یہ ایک اترپردیش کی خبر ہے ‘خبر تو 8مارچ کو حیدرآباد سے بھی ٹائمز آف انڈیا نے دی تھی کہ دلسکھ نگر کے رتناکرنے اپنے ساتھ کام کرنے والی نوشین بیگم سے شادی کرلی تب مسلم لڑکی کے گھر والے جاگے لیکن ہم ہادیہ کی خبر پڑھ کر خوش ہولئے اور یہ بھول گئے کہ حیدرآباد کی عدالت نے 6مارچ کو دیئے گئے اپنے فیصلہ میں نوشین کو رتناکر کے ساتھ شادی کر کے رہنے کی اجازت دے دی ۔ اس لئے یہ سمجھ لیجئے کہ بچوں کی تربیت مولانا کی نہیں ‘ اسکول کالج کی نہیں ‘ والدین کی ذمہ داری ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT